دوحہ کی ہیلی کاپٹر حادثے میں 4 قطریوں اور 3 ترک باشندوں کی ہلاکت کی تصدیق
قطری وزارتِ دفاع نے بھی ہیلی کاپٹر کے گرنے کی وجہ ’فنی خرابی‘ کو قرار دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
قطر نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ قطر کی سمندری حدود میں ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں اس کے چار فوجی اہلکار اور ایک فوجی سمیت تین ترک شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
خلیجی ریاست کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور ساتویں آخری فرد کی ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جہاز پر سوار تمام سات افراد مل گئے ہیں اور ان کی شہادت کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘
اس سے قبل قطر کی وزارتِ دفاع نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے نام کیپٹن مبارک سالم دوائی المری، سارجنٹ فہد ہادی غانم الخیارین، کارپورل محمد ماہر محمد اور قطری مسلح افواج کے کیپٹن سعید ناصر سمیخ بتائے تھے۔
وزارتِ دفاع نے قطر-ترکی مشترکہ افواج کے میجر سنان تاشتقین اور دو ترک شہریوں، سلیمان جیمرا قہرمان اور اسماعیل انس کی بھی حادثے میں ہلاکت کی شناخت کی ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اپنے خلیجی پڑوسیوں کے خلاف جوابی فضائی مہم شروع کیے جانے کے بعد سے، دونوں ممالک کی جانب سے یہ پہلی ریکارڈ شدہ ہلاکتیں ہیں۔
ترک وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’قطری مسلح افواج کا ایک ہیلی کاپٹر، جو قطر-ترکی مشترکہ فورسز کمانڈ کے حصے کے طور پر تربیتی مشق کر رہا تھا، سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔‘
وزارت نے ترک دفاعی کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں "ترک مسلح افواج کا ایک رکن اور ’اسلسان‘ کے دو ٹیکنیشن‘ ہلاک ہوئے ہیں۔
قطری وزارتِ دفاع نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث گر کر تباہ ہوا۔
