پاکستان کی گولہ باری سے ایک شخص کی ہلاک ہوئی: افغان حکام کا دعویٰ
اس جنگ کے دوران افغانستان میں ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کی طالبان حکومت نے کہا ہے کہ اتوار کو مشرقی افغانستان میں پاکستان کی جانب سے داغے گئے ایک گولے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رمضان کے اختتام پر جنگ بندی کا معاہدہ موجود تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’آج اتوار کو پاکستانی فوج کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ صوبہ کنڑ کے ضلع ناری کے علاقے شنپٹ میں گرا جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہو گئی۔‘
ہلاکتوں کی تعداد کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان اور افغانستان نے بدھ کو رمضان کے اختتام کی خوشیوں کے دوران لڑائی روکنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ جنگ بندی افغان دارالحکومت میں منشیات کے بحالی مرکز پر پاکستانی حملے کے بعد عمل میں آئی تھی جس کے بارے میں افغان حکام کا کہنا تھا کہ اس میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایک بین الاقوامی غیر ملکی تنظیم نارویجن ریفیوجی کونسل نے کہا تھا کہ اس حملے میں ’سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔‘
افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تنازع چل رہا ہے۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ کابل ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستانی سرزمین پر سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں جبکہ افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
گزشتہ منگل کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (جس میں بحالی مرکز پر حملے کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں) 26 فروری سے لڑائی میں شدت آنے کے بعد اب تک کم از کم 76 افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس دوران افغانستان میں ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
