پاکستان میں ان دنوں سوشل میڈیا کا استعمال جہاں ذاتی زندگی ، تبصروں اور کنٹیٹ کریئشن کے لیے کیا جاتا ہے وہیں صارفین کی ایک بہت بڑی تعداد اس کو ذاتی کاروبار کے لئے بھی استعمال کر رہی ہے۔
عنبرین علی کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ سنگل مدر ہیں انہوں نے دو سال قبل بچوں کے کپڑوں کا کاروبار اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شروع کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے بہت تھوڑی انویسٹمنٹ کے ساتھ کچھ کپڑا خریدا اور پانچ سے کم عمر کے بچوں کے لیے سائز میں ان کو سلوایا۔ اور انسٹاگرام پر ہی ان کو بیچنا شروع کر دیا۔ جو مجھے ریسپانس ملا وہ غیر معمولی تھا۔‘
مزید پڑھیں
وہ بتاتی ہیں کہ ’ اس سے میرا حوصلہ بڑھا اور پہلے دو سال تک میں نے پیسے نکالنے کی بجائے بچت کی رقم کو دوبارہ اسی میں استعمال کیا اب میرے اس ایک چھوٹی سے ٹیم ہے۔ جو پیکنگ سے لے کر ڈیلیوری کے معاملات کو دیکھتی ہے اور اب اکاؤنٹ کے فالوور بھی پچاس ہزار تک پہنچ چکے ہیں جس چیز کا میں نے خواب دیکھا تھا اب وہ بڑی حد تک پورا ہو گیا ہے۔ میں اب مہینے کے دو لاکھ روپے تک کما رہی ہوں اور میرا کام کافی پھیل چکا ہے۔‘
اسی سے ملتی جلتی سٹوری باسط خان کی بھی ہے جنہوں نے کچن کی آئٹمز کا کام سوشل میڈیا سے شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں خود تو ایک مارکیٹنگ کمپنی میں نوکری کرتا ہوں کچھ سال پہلے مجھے اپنا کام کرنے کا آئیڈیا آیا تو اپنی بیگم کے ساتھ مل کر میں کچن کی یونیک آئٹمز خرید کر ان کو بیچنا شروع کردیا۔ اب کافی حد تک یہ کام چل نکلا ہے اب ہم نے اپنی ویب سائٹ بھی بنا لی ہے اور سوشل میڈیا پر پیڈ ایڈورٹائزمنٹ پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ یہ ایک شاندار تجربہ رہا ہے۔‘
لاہور، کراچی ، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک ایسی تبدیلی ابھری ہے جس نے کاروبار کے روایتی تصور کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان، سرمایہ اور مارکیٹ تک رسائی بنیادی شرط سمجھی جاتی تھی، مگر اب ایک موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ اس عمل کا نقطہ آغاز بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ کپڑوں، کھانے پینے، جیولری، خوبصورتی کی مصنوعات اور حتی کہ ڈیجیٹل مواد تک پھیلی ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا سے کھڑے ہونے والے برانڈز:
سرکاری اعداوشمار کے مطابق پاکستان میں آن لائن تجارت کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس میں ایک نمایاں حصہ وہ ہے جو براہ راست سوشل میڈیا کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس شعبے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ غیر رسمی ہے، یعنی یہ مکمل طور پر دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آتا، مگر اس کا اثر روزمرہ زندگی میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی سطح پر سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار سے وابستہ ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں اور خواتین کی ہے۔

سوشل میڈیا سٹریٹیجسٹ محمد یاسر کا کہنا ہے کہ ان کاروباروں کا آغاز عموماً نہایت سادہ طریقے سے ہوتا ہے۔’ابتدا میں چند مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، ان کی تصاویر لی جاتی ہیں اور انسٹاگرام یا فیس بک پر اپلوڈ کر دی جاتی ہیں۔ پہلے آرڈرز عموماً جاننے والوں سے آتے ہیں، مگر جیسے جیسے اعتماد بنتا ہے اور دائرہ بڑھتا ہے، یہی چھوٹا سا صفحہ ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے اہم عنصر براہ راست رابطہ ہے، جہاں گاہک اور بیچنے والا ایک دوسرے سے براہ راست جڑتے ہیں، جو روایتی کاروبار میں ممکن نہیں تھا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں کئی ایسے برانڈز سامنے آئے ہیں جنہوں نے اسی راستے سے ترقی کی۔ مثال کے طور پر بچوں کے ملبوسات کا برانڈ ’کوکو بائی زارا شاہجہاں‘ ابتدا میں ایک محدود پیمانے پر چلنے والا آن لائن پیج تھا، مگر آج یہ ایک مکمل ریٹیل برانڈ بن چکا ہے جس کی اپنی دکانیں اور وسیع کسٹمر بیس موجود ہے۔ اسی طرح خواتین کے ملبوسات کا برانڈ ’باجو‘ بھی انسٹاگرام سے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پہچانا جانے والا نام بن گیا۔‘
خوراک کے شعبے میں بھی یہی رجحان نظر آتا ہے۔ لاہور اور کراچی میں درجنوں ایسے ہوم فوڈ برانڈز موجود ہیں جو گھروں سے شروع ہوئے اور اب روزانہ درجنوں آرڈرز مکمل کر رہے ہیں۔ یہ کاروبار اکثر کلاؤڈ کچن کے ماڈل پر چلتے ہیں، جہاں کسی باقاعدہ ریسٹورنٹ کے بغیر صرف آن لائن آرڈرز کے ذریعے کام کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل کی خاص بات کم لاگت اور تیز رفتار توسیع ہے، جس نے نوجوانوں کے لیے اس شعبے میں داخل ہونا آسان بنا دیا ہے۔
اسی طرح آن لائن مارکیٹ پلیسز نے بھی اس تبدیلی کو مزید تقویت دی ہے۔ ’دراز‘ جیسے پلیٹ فارم پر ہزاروں ایسے سیلرز موجود ہیں جنہوں نے ابتدا سوشل میڈیا سے کی اور بعد میں اپنے کاروبار کو بڑے پیمانے پر لے گئے۔ ان میں سے کئی سیلرز ماہانہ لاکھوں روپے کی فروخت کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے کاروبار کے مواقع کو وسیع کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے کاروباروں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان کی لچک ہے۔ یہ کاروبار تیزی سے بدلتے رجحانات کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں، نئے ڈیزائن متعارف کروا سکتے ہیں اور گاہک کی براہ راست رائے کو فوری طور پر شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس روایتی کاروبار میں یہ عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔

محمد یاسر کا کہنا ہے کہ ’اس تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے ساتھ کئی مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ اس کا غیر منظم ہونا ہے۔ بہت سے کاروبار رجسٹرڈ نہیں، جس کی وجہ سے نہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی ریاست کو مکمل ٹیکس ملتا ہے۔ اس کے علاوہ فراڈ کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، جہاں گاہک کو ناقص یا مختلف مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈیلیوری کا نظام بھی ایک چیلنج ہے، خاص طور پر چھوٹے شہروں میں، جہاں بروقت ترسیل ممکن نہیں ہوتی۔‘
اس کے باوجود، اس معیشت کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کر رہی ہے جو روایتی نظام فراہم نہیں کر پا رہا۔ کم سرمایہ، براہ راست رسائی، اور تیز رفتار ترقی کے امکانات نے اسے ایک پرکشش متبادل بنا دیا ہے۔
اگر مجموعی تصویر کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایک نئی کاروباری معیشت جنم لے چکی ہے، جو ابھی مکمل طور پر منظم نہیں مگر اپنی رفتار سے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ معیشت بڑے اداروں کے بجائے چھوٹے کاروباروں، انفرادی کوششوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کھڑی ہے۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔
یہ تبدیلی نہ کسی ایک پالیسی کا نتیجہ ہے اور نہ کسی ایک ادارے کی کوشش کا، بلکہ یہ لاکھوں افراد کی انفرادی کوششوں سے وجود میں آئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شروع ہونے والے یہ کاروبار اب صرف عارضی رجحان نہیں رہے بلکہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا ایک مستقل حصہ بنتے جا رہے ہیں۔












