Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران پر حملے مؤخر کرنے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے انفراسٹکچر پر ممکنہ حملے پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ نے اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا تو وہ اسرائیل کے بجلی گھروں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔
ابتدائی شدید گراوٹ کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت سعودی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 24 منٹ پر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم ہوئی، جو 10.28 فیصد یا 11.53 ڈالر کمی کے برابر ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 10.68 فیصد یا 9.42 ڈالر کمی کے بعد 88.36 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
سنیچر کے روز امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے نہ کھولا تو اس کے بجلی گھر ’صفحۂ ہستی سے مٹا دیے جائیں گے۔‘  یہ بیان انہوں نے جنگ کو ’کم کرنے‘ کی بات کے محض ایک روز بعد دیا تھا جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
پیر کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں پانچ روز کے لیے مؤخر کر دی جائیں، بشرطیکہ جاری ملاقاتوں اور مذاکرات میں پیش رفت ہو۔‘
اس اعلان سے قبل ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا تھا کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں اہم بنیادی ڈھانچہ اور توانائی کی سہولیات ’ناقابل تلافی تباہی‘ سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
انرجی ایسپیکٹس کی بانی امریتا سین کے مطابق ’اس کا واضح مطلب مزید کشیدگی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تاہم بعض لوگ غلط اندازہ لگا رہے ہیں کہ ایران ممکنہ طور پر دباؤ میں آ جائے گا۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں یومیہ 70 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تک تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’ٹرمپ یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ راستہ خلیجی خطے کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔‘
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے پیر کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران ’انتہائی سنگین‘ ہے اور 1970 کی دہائی کے دونوں تیل بحرانوں سے بھی زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
جنگ کے باعث خلیج میں اہم توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں یومیہ 70 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تک تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
عراقی حکام کے مطابق عراق نے غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تمام تیل کے ذخائر پر فورس میجر نافذ کر دیا ہے۔

بعض لوگ غلط اندازہ لگا رہے ہیں کہ ایران ممکنہ طور پر دباؤ میں آ جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)

وزیر تیل حیان عبدالغنی کے مطابق بصرہ آئل کمپنی کی پیداوار 33 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 9 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ انڈین ریفائنریاں ایرانی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ ایشیا کے دیگر ممالک بھی اس حوالے سے غور کر رہے ہیں۔
ماہر ہری کے مطابق ’ٹرمپ کے بیانات کے پس منظر اور ان کے بعض اوقات مبہم اور متضاد بیانات کے مجموعی تجزیے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تہران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیاں اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوں گی جب تک ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف اسی نوعیت کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

شیئر: