تبوک: عید کے موقع پر شتربان لوک گیت گا کر مقامی افراد کا استقبال کرتے ہیں
عید الفطر کے موقع پر تبوک ریجن، صحرا میں اونٹوں کی سواریوں کے ذریعے اپنے بھرپور ثقافتی ورثے کو زندہ کرتا ہے جہاں شتربان مقامی افراد کو خوش آمدید کہتے ہیں اور تقریبات کے حصے کے طور پر روایتی گیت پیش کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق صحرا نشین ’النجائب‘ (خالص نسل کے مضبوط اونٹ) پر سوار ہو کر صحرائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور ’الھجینی‘ (لوک گیت ) گاتے ہوئے علاقے کے لوگوں کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ان گیتوں میں خوشی اور روایات کا ذکر ہوتا ہے۔
’ھجانہ‘ کی سرگرمیاں علاقائی روایات کا حصہ ہیں جو آج بھی تقریبات اور خاص مواقع پر پیش کی جاتی ہیں۔ یہ روایت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب مقامی ثقافت کو فروغ اور اسے ثقافتی محفلوں میں اجاگر کیا جاتا ہے۔
تقریبات کے دوران اونٹ سواری ایک اہم ثقافتی روایت کے طور پر آج بھی موجود ہے جو روایت کو جدید ثقافتی فروغ کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اور یہ مقامی ورثے کو زندہ کرتی ہے۔
’النجائب‘ کی اصطلاح عام طور پر محض نقل و حمل کے ذرائع کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ یہ سعودی ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔

انسان کے صحرائی ماحول سے تعلق کو مجسم کرتی ہیں جبکہ ’نجائب‘، وہ خالص نسل کے اونٹ ہوتے ہیں جو اپنی قوت برداشت اور طاقت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔