ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا دائرہ خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے اور ان پر ایران کی جانب سے میزائل داغنے کے علاوہ ڈرون حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر کو ان ممالک کا دفاعی نظام راستے میں ہی ناکارہ بنا رہا ہے تاہم یہ سوال کہ اس پر کتنی لاگت آتی ہے؟
عرب نیوز کے مطابق یو اے ای کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 23 مارچ تک ملک کے دفاعی نظام نے 367 بیلسٹک، 15 کروز میزائل اور ایک ہزار سات سو 89 ڈرونز کو روکا ہے تاہم اس کے باوجود بھی چند اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جن سے اب تک آٹھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ایک سو 61 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں
اسی طرح بحرین کی ڈیفنس فورس کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی سسٹم نے 147 پروجیکٹائلز اور 282 ڈرونز کو گرایا۔
اسی طرح سعودی عرب میں بھی ایرانی حملوں کو روکا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایرانی ڈرون شاہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ 20 سے لے کر 50 ہزار ڈالر تک فی یونٹ کے حساب سے بڑے پیمانے پر تیار کیے جا سکتے ہیں جبکہ ان کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے والے میزائل کی تیاری کی لاگت لاکھوں ڈالر میں ہے اور اس حساب سے صورت حال ایران کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔
ایک ڈرون کو روکنے کے لیے لاک ہیڈ مارٹن پیٹریاٹ پی اے سی تھری میزائل کی ضرورت ہو سکتی ہے جس کی لاگت 40 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔
ایران اپنے ہاں ڈرون کو کم لاگت میں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں ایلومینیم اور بعض دوسرے پرزوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک گاڑی بنانے کے کام سے مشابہہ ہے۔
ایران کے آٓٹو موٹیو اور مکینکل کے شعبہ جات پر برسوں پابندیاں عائد رہنے کے باوجود یہ شعبے متحرک رہے ہیں اور مقامی کمپنیاں مغربی ممالک میں اٹھنے والے اخراجات کے مقابلے میں بہت کم لاگت میں اشیا تیار کرتی ہیں۔

ٹیکساس میں قائم ڈرون بنانے والی کمپنی ہائیلو کے شریک بانی نے نیویارک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ پیسے کا ایک کھیل ہے۔
انہوں نے حملے روکنے کے اخرات کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ تناسب دس ایک یا 60، 70 کے مقابلے میں ایک کے حساب سے ایران کے حق میں جا سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ 10 مارچ کو کیپٹل ہل میں ہونے والی بریفنگ میں بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ روز میں جنگ کے اخراجات 11 اعشاریہ تین ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔
اسی طرح ایک رپورٹ میں واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ تقریبا پانچ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا گولہ باردو صرف پہلے دو روز کے اندر خرچ ہوا جو کہ حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیے اخراجات سے بہت زیادہ ہے۔

اسی طرح سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کا ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ پہلے 100 گھنٹے کے دوران آپریشنز کی لاگت تین اعشاریہ سات ارب ڈالر یا تقریباً آٹھ سو 91 ملین ڈالر روزانہ کے حساب سے ہے۔
سی این این کے مطابق تین مارچ کو ہونے والے خفیہ اجلاس میں شاہد ڈرون کے خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا اور حکام کو خبردار کیا گیا تھا کہ امریکہ کا دفاعی فضائی نظام ہر آنے والے ڈرون کو نہیں روک سکتا۔
ڈیلٹا ونگز رکھنے والا ڈرون شاہد تقریباً ساڑھے تین میٹر لمبا ہوتا ہے اور دھماکہ خیز لے جانے اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس سے ایک مخصوص قسم کی آواز نکلتی ہے اور ان کو ٹرکوں سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔
یہ چلانے میں آسان ہیں تاہم ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
لانگ رینج کا شاہد ڈرون دو ہزار کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کسی بھی ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔












