نجرانی ’الجنبیہ‘ مردانہ وقار اور ورثے کی علامت
روایتی خنجر کا ڈیزائن عام خنجر سے منفرد ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے نجران ریجن کی ثقافت میں آج بھی ’الجنبیہ‘ کی اہمیت ہے جسے مردانہ وقار کی علامت مانا جاتا ہے۔ یہ شناختی علامت عید کے ایام میں خاص اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق علاقے میں الجنبیہ (مخصوص قسم کا خنجر) کو آج بھی وہی ثقافتی اہمیت حاصل ہے جو آج سے برسوں قبل خطے میں تھی۔
یہ روایتی خنجر علاقے کی شناخت کے طور پر عیدین اور مختلف تقریبات کے دوران مرد اپنے جسم پر سجانے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
نجران ریجن میں الجنابی کی صنعت بہت قدیم رہی ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ کافی ترقی ہوئی اورخنجر پرمختلف نقش و نگار بنانے کا آغاز ہوا۔
روایتی خنجر کا ڈیزائن عام خنجر سے منفرد ہوتا ہے۔ الجنابی کی منفرد بناوٹ ہی اسے دیگر خنجروں سے جدا کرتے ہوئے ثقافتی ورثے میں شامل کرتی ہے۔
خنجر کا بلیڈ خم دار ہوتا ہے جو فولاد یا تانبے سے بنایا جاتا ہے جبکہ اس کی نیام کو منقش بنایا جاتا ہے جس پر مختلف قسم کے نگینے بھی جڑے جاتے ہیں۔ اس کی مناسبت سے اس کی قیمت بھی جدا ہوتی ہے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ الجنبیہ آج بھی علاقے کی ثقافتی شناخت کی علامت ہے جسے مردانہ وقار و بہادری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نجران کی قدیم تاریخ کی ایک اہم کڑی بھی ہے جو سماجی تعلق کو مضبوط کرتی ہے۔
