Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل جنوبی لبنان میں اہم پُلوں کو کیوں تباہ کر رہا ہے؟

اسرائیل کی جانب سے دریائے لیتانی پر واقع پُلوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانا اسرائیل کی لبنان میں جاری فوجی مہم میں نمایاں شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 
یہ حکمتِ عملی اب فضائی حملوں اور انخلا کی وارننگز سے بڑھ کر جنوبی لبنان کو ملک کے باقی حصوں سے دانستہ طور پر کاٹنے کی سمت بڑھ رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق لبنانی حکام اور فوجی ذرائع سمجھتے ہیں کہ ’دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب کو ملانے والے اہم راستوں پر حملوں کا مقصد ایک جغرافیائی تقسیم پیدا کرنا ہے۔‘
’اس کا مقصد جنوب کے بڑے حصوں کو الگ تھلگ کرنا، امدادی اور ریلیف آپریشنز میں خلل ڈالنا اور علاقے میں نقل و حرکت کو محدود کرنا بھی ہے۔‘
حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی کارروائیاں اس مرحلے تک پہنچ گئی ہیں کہ پہلے دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع دیہات کے رہائشیوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے، اور پھر پُلوں اور بڑی سڑکوں پر حملوں سے قبل رہائشیوں کو خبردار کیا جانے لگا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ دریائے لیتانی پر موجود تمام پُلوں کو تباہ کر دیا جائے جو جنوبی لبنان کو بیروت اور بقاع کے علاقوں سے ملاتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ راستے حزب اللہ تک ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ پُل غیرمعمولی اہمیت کیوں رکھتے ہیں؟
لبنان کا سب سے طویل لیتانی دریا، جو قریباً 170 کلومیٹر طویل ہے، دریائے بعلبک کے مغرب سے نکلتا ہے اور وادیٔ بقاع سے گزرتا ہے۔ 
یہ دریا لبنان-اسرائیل سرحد سے 6 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور اس کے قریب ترین مقامات مشرقی حصے اور نبطیہ ضلع میں ہیں۔
دریا کے جنوب میں واقع علاقوں کو ’بارڈر ساؤتھ‘ کہا جاتا ہے، جن میں جنوبی لبنان اور نبطیہ گورنریٹس کے حصے شامل ہیں، خصوصاً صور، بنت جبیل اور مرجعیون کے اضلاع۔
اسرائیلی فوج نے کم سے کم 15 پلوں اور کھالوں کو، جو ساحلی علاقے سے مغربی بقاع تک پھیلی ہوئی ہیں، تباہی کے لیے ہدف قرار دیا ہے۔
ان میں سب سے اہم قاسمیہ، طیرفلسی اور خردلی کے پل ہیں، جن کی تباہی جنوبی لبنان کو ملک کے باقی حصوں سے ملانے والے اہم ٹرانسپورٹ راستوں سے منقطع کر دے گی اور دریا کے جنوب کے علاقوں کو عملی طور پر الگ تھلگ کر دے گی۔
پلوں پر حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی قصبوں جیسے خیام اور ناقورہ میں جھڑپیں بڑھ رہی ہیں، اور اسرائیلی افواج کی جانب سے اگلے مورچوں پر واقع دیہات میں گھروں کی مسماری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس نوعیت کے اقدامات ہیں جنہیں مبصرین ایک وسیع زمینی کارروائی کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
حزب اللہ نے دو مارچ کو شمالی اسرائیل میں ایک فوجی مقام پر چھ راکٹ داغ کر لبنان کو ایران کی جنگ میں کھینچ لیا۔ 
اس کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے ردعمل میں کیا گیا۔
اسی دن اسرائیل نے لبنان کے خلاف ایک نئی جارحیت کا آغاز کیا، جس میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں سمیت لبنان کے جنوب اور مشرق میں فضائی حملے کیے گئے۔ اگلے دن اس نے جنوب میں محدود زمینی کارروائی بھی شروع کر دی۔
پُلوں پر بمباری کے اثرات کیا ہیں؟
القاسمیہ پل، جسے اتوار کے روز اسرائیل کے شدید فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا گیا، اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس مقام کے قریب واقع ہے جہاں دریا بحیرۂ روم میں گرتا ہے، اور یہ صیدا اور صور کو ملانے والی مرکزی ساحلی شاہراہ کا حصہ ہے، جسے پیدل چلنے والوں کے علاوہ گاڑیوں اور ٹرکوں کی آمدورفت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس تباہی کے باعث ملک کے جنوبی علاقوں کو دارالحکومت سے ملانے والی مرکزی شاہراہ شدید متاثر ہوئی ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے پُلوں پر بمباری کو ’ایک خطرناک رجحان اور لبنانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے ساتھ ہی اسے ’زمینی حملے کے لیے پیش خیمہ‘ اور ’جنوبی لیتانی علاقے کو لبنان کے باقی حصوں سے جغرافیائی طور پر کاٹنے کی کوشش‘ بھی قرار دیا۔
ایک فوجی ذریعے نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اسرائیل علاقے  کے اب تک 70 فیصد پُلوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور فوجی نقطۂ نظر سے یہ اقدام حزب اللہ کی رسد کی لائنوں کو منقطع کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘
اسرائیل جنوبی لبنان کو الگ تھلگ کیوں کرنا چاہتا ہے؟
ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں داخل ہونے اور اسے الگ کرنے کا مقصد زمینی سطح پر اسرائیل کی برتری کو بڑھانا ہے تاکہ مذاکرات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’آنے والے دنوں میں لبنان پر اسرائیلی برتری کے اثرات سرِدست غیر یقینی ہیں۔‘
’ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس کے پاس انتہائی جدید اور طاقتور فوجی صلاحیتیں موجود ہیں، جن کا مشرق وسطیٰ میں کوئی مقابلہ نہیں، اور اس کے ساتھ ہی اسے نمایاں فضائی اور تکنیکی برتری بھی حاصل ہے۔‘
’دوسری جانب حزب اللہ کے پاس نہ تو شام اور نہ ہی عراق سے رسد حاصل کرنے کا کوئی طریقہ موجود ہے، جبکہ لبنانی فوج بھی وسائل اور صلاحیتوں کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے اور ہر ممکن طریقے سے اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
ذرائع نے بتایا کہ دریائے لیتانی کے جنوب میں تعینات لبنانی فوجی یونٹس سے ملنے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی افواج قریباً 10 کلومیٹر اندر واقع قصبہ خیام میں داخل ہو چکی ہیں، تاہم اس پیش قدمی کی مکمل نوعیت ابھی واضح نہیں۔
سیاسی تجزیہ کار علی الامین نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی کارروائیاں اسرائیلی پیش قدمی کو نہیں روک سکتیں، بلکہ اس کی قیمت ضرور بڑھا سکتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل کا مقصد ایک بفر زون قائم کرنا ہے، جس پر وہ گذشتہ جنگ کے دوران بھی بات کر چکا ہے، اور یہ ایک ایسا علاقہ ہوگا جہاں سے آبادی، رہائشی و زرعی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات مکمل طور پر ختم کر دی جائیں گی۔‘
’یہ بفر زون ممکنہ طور پر 3 سے 5 کلومیٹر کی گہرائی تک ہوگا۔اسرائیلی فوج مزید اندر تک جا سکتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کارروائی مستقل قبضے کے بجائے محدود دراندازی اور واپسی تک محدود رہے گی۔‘
علی الامین نے کہا کہ ’جنوبی لبنان میں سابقہ جنگوں کے تجربے کی بنیاد پر اسرائیل جانتا ہے کہ زمینی قبضہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔‘
’اسرائیل کو اپنی تکنیکی برتری کی وجہ سے مذکورہ علاقے پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ پہلے ہی زمینی افواج استعمال کیے بغیر دھمکیوں اور فضائی ناکہ بندی کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے نکال چکا ہے۔‘
علی الامین کا کہنا ہے کہ اسرائیل تباہی کا عمل جاری رکھے گا اور جنوبی علاقوں کو حسبیہ، عرقوب اور مسیحی دیہات سے جوڑنے کی کوشش کرے گا، یہ وہ علاقے ہیں جو شیعہ دیہات کے برعکس تباہ نہیں کیے گئے۔
ان کے مطابق ان علاقوں کے رہائشیوں کو خوراک کی رسد کے راستے ختم ہونے کے باعث نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکتا ہے یا وہ دوسری صورت میں اسرائیلی امداد پر انحصار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
’تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ 1970 کی دہائی کی طرح کی سرحدی پٹی دوبارہ قائم ہو جائے گی بلکہ ممکن ہے کہ یہ ایک ایسا بفر زون بن جائے جہاں شیعہ آبادی موجود نہ ہو، کیونکہ انہیں اپنے دیہات میں واپس آنے یا اپنی آبادی کی دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
علی الامین کے مطابق ’لبنان اور اسرائیل کے درمیان اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو صورتِ حال بدل سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل اپنی مضبوط پوزیشن کے باعث اپنی شرائط منوا سکے گا۔‘
حالیہ تازہ شدت کے اخراجات کیا ہیں؟
جنوبی لبنان میں پُلوں کی تباہی سے ہونے والے نقصانات کا فی الحال کوئی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا۔
عالمی بینک پہلے ہی لبنان کے انفراسٹرکچر کی بحالی پر اُٹھنے والی لاگت اربوں ڈالر بتا چکا ہے، اور پُلوں کی دوبارہ تعمیر اس لاگت میں مزید اضافہ کرے گی۔
انسانی سطح پر بھی بھاری نقصان ہوا ہے، اور لبنانی وزیراعظم کے دفتر کے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ یونٹ اور وزارتِ سماجی امور کے مطابق اب تک 1070 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں، یہ آبادی کا قریباً 14 فیصد حصہ ہے۔

شیئر: