ناسا کا چاند پر واپسی کا نیا مشن ’آرٹیمس‘ کیا ہے اور یہ کب لانچ ہوگا؟
ناسا کا چاند پر واپسی کا نیا مشن ’آرٹیمس‘ کیا ہے اور یہ کب لانچ ہوگا؟
پیر 30 مارچ 2026 16:35
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
’اپولو‘ میں خلا باز ایک ہی لباس لانچ، واپسی اور چاند پر چلنے کے لیے استعمال کرتے تھے (فوٹو: ناسا)
’ناسا‘ کے اپولو مشنز آج بھی ایک بڑی مثال ہیں اور ان جیسا کارنامہ دہرانا آسان نہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اب جبکہ چار خلا باز پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد چاند کے سفر کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس موقع پر اپولو اور ناسا کے نئے ’آرٹیمس‘ پروگرام کا موازنہ ہونا لازمی ہے۔
دنیا کے پہلے چاند کے مسافروں نے ’اپولو ایٹ‘ کے ذریعے چاند کے گرد چکر لگایا تھا، جبکہ ’آرٹیمس ٹو‘ کا عملہ زیادہ محفوظ طریقہ اختیار کرے گا اور چاند کے گرد گھوم کر واپس آ جائے گا۔
ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ ’آرٹیمس‘ پروگرام آج کے معاشرے کی زیادہ بہتر نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس میں ایک خاتون، ایک سیاہ فام شخص اور ایک کینیڈین خلا باز شامل ہیں۔
’ناسا‘ کی خلا باز کرسٹینا کوچ ’آرٹیمس ٹو‘ کے عملے کا حصہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’اگرچہ آرٹیمس اپولو پر مبنی ہے اور اسے خراج تحسین پیش کرتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی بالکل ویسا مشن نہیں ہو سکتا۔‘
’ناسا‘ ہدف اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران لانچ کا ہے۔ ’آرٹیمس‘ کا نام یونانی دیومالائی کہانیوں میں اپولو کی جڑواں بہن کے نام پر رکھا گیا ہے۔
چاند تک پہنچنے کا سفر
’ناسا‘ کو صرف آٹھ سال لگے کہ وہ اپنے پہلے خلا باز کو خلا میں بھیجے۔ ناسا نے 1969 میں اپولو 11 کے نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرِن کو چاند پر اتارا تھا یوں صدر جان کینیڈی کا ہدف وقت سے پہلے پورا ہو گیا۔
کینیڈین سپیس ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا کہ ’اپولو پروگرام آج بھی حیران کن ہے۔‘
اس کے مقابلے میں ’آرٹیمس‘ پروگرام بہت سست رفتاری سے آگے بڑھا ہے، کیونکہ کئی سالوں تک ’ناسا‘ چاند اور مریخ کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ’ناسا‘ کا نیا راکٹ سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) اب تک صرف ایک بار بغیر عملے کے ٹیسٹ کے طور پر پرواز کر چکا ہے۔
اسی سست روی کی وجہ سے ’ناسا‘ کے نئے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے فروری میں آرٹیمس پروگرام میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے اپولو کی طرح ایک اضافی مشن شامل کیا، جس کے بعد چاند پر لینڈنگ اب ’آرٹیمس فور‘ میں 2028 تک مؤخر ہو گئی ہے۔
اگلے سال ’آرٹیمس تھری‘ میں خلا باز زمین کے قریب رہ کر مشق کریں گے، جیسے ’اپولو نو‘ میں کیا گیا تھا۔ وہ اپنے اورین کیپسول کو زمین کے مدار میں سپیس ایکس اور بلیو اوریجن کے تیار کردہ لینڈرز کے ساتھ جوڑنے کی مشق کریں گے۔
چین پہلے ہی چاند کے دور والے حصے پر مشن بھیج چکا ہے (فوٹو: ناسا)
سیاسی مقابلہ
’اپولو‘ دور میں امریکہ کا سب سے بڑا حریف سوویت یونین تھا، لیکن ان کے راکٹس بار بار ناکام ہوئے اور انہوں نے یہ دوڑ چھوڑ دی۔ اب چین امریکہ کا نیا حریف ہے۔
چین پہلے ہی چاند کے دور والے حصے پر مشن بھیج چکا ہے اور سنہ2030 تک انسانوں کو چاند پر اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’ناسا‘ بھی چاند کے جنوبی قطب پر جانا چاہتا ہے، جہاں برف موجود ہونے کا امکان ہے جو پانی اور ایندھن کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ ’ناسا‘ اس نئی خلائی دوڑ میں چین کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے۔
چاند راکٹ
’اپولو‘ کا سیٹرن فاءیو راکٹ 363 فٹ بلند تھا جبکہ آرٹیمس کا ’ایس ایل ایس راکٹ‘ 322 فٹ بلند ہے لیکن زیادہ طاقتور ہے۔
’سیٹرن فاءیو‘ زیادہ تر کینیڈی سپیس سینٹر کے لانچ پیڈ اے 39 سے اڑتا تھا، جبکہ ایس ایل ایس کو بی 39 سے لانچ کیا جائے گا۔ ’سیٹرن فاءیو‘ نے خلا بازوں کو لے جانے سے پہلے دو بار کامیاب پرواز کی تھی، جبکہ ایس ایل ایس اب تک صرف ایک بار اڑا ہے۔
ایندھن کے لیک ہونے اور دیگر تکنیکی مسائل کی وجہ سے ایس ایل ایس کی لانچ میں تاخیر ہوئی اور اب ’ناسا‘ اپریل میں لانچ کا ہدف رکھ رہا ہے۔
لانچ کنٹرول وہی جگہ ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ ’اپولو 11‘ کے وقت وہاں صرف ایک خاتون موجود تھی، جبکہ اب آرٹیمس کی لانچ ڈائریکٹر خود ایک خاتون، چارلی بلیک ویل تھامپسن ہیں۔
’اپولو ایٹ‘ کو تاریخ کا سب سے بہادر مشن سمجھا جاتا ہے جس میں سنہ 1968 میں تین انسان پہلی بار چاند کی طرف گئے (فوٹو: ناسا)
پہلا قمری مشن
’اپولو ایٹ‘ کو تاریخ کا سب سے بہادر مشن سمجھا جاتا ہے جس میں سنہ 1968 میں تین انسان پہلی بار چاند کی طرف گئے۔ مشن کے کمانڈر فرینک بورمین نے کم سے کم چکر لگانے پر زور دیا، اور آخرکار 10 چکر لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
’آرٹیمس ٹو‘ میں ’ناسا‘ نے چاند کے گرد مدار میں جانے کے بجائے اسے خطرناک سمجھتے ہوئے صرف اورین کیپسول کے نظام کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔
’اپولو 13‘ جیسا سفر
’آرٹیمس‘ خلا باز پہلے ایک دن زمین کے گرد چکر لگائیں گے تاکہ سب کچھ درست کام کر رہا ہو، پھر وہ چاند کی طرف روانہ ہوں گے۔ چاند تک پہنچنے میں تین سے چار دن لگیں گے اور وہ اس سے بھی آگے تقریباً آٹھ ہزار کلومیٹر تک جائیں گے۔
’اپولو 13‘ کی طرح یہ مشن بھی چاند اور زمین کی کششِ ثقل کا استعمال کرے گا اور ایک خاص راستے سے واپس آئے گا، جسے فری ریٹرن ٹریجیکٹری کہا جاتا ہے۔
خلائی لباس
’اپولو‘ میں خلا باز ایک ہی لباس لانچ، واپسی اور چاند پر چلنے کے لیے استعمال کرتے تھے کیونکہ جگہ کم تھی۔
’آرٹیمس‘ میں ’اورین کیپسول‘ بڑا ہے، اس میں چار خلا باز جا سکتے ہیں اور ’ناسا‘ نے کیپسول کے اندر کے لیے نئے لباس تیار کیے ہیں جبکہ چاند پر چلنے کے لباس نجی کمپنیاں بنا رہی ہیں۔
’اپولو‘ میں خلا باز ایک ہی لباس لانچ، واپسی اور چاند پر چلنے کے لیے استعمال کرتے تھے (فوٹو: ناسا)
خلا باز ریڈ وائزمین اور ان کا عملہ نارنجی رنگ کے خصوصی لباس پہنیں گے جو ہنگامی حالات میں بھی مددگار ہوں گے اور چھ دن تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مستقبل کے منصوبے
اپولو پروگرام کا مقصد صرف چاند پر پہنچنا اور امریکہ کی برتری ثابت کرنا تھا۔ سنہ1969 سے سنہ1972 کے درمیان چھ بار چاند پر لینڈنگ ہوئی۔
لیکن ’آرٹیمس‘ کا مقصد اس سے کہیں بڑا ہے۔ اس میں خلا باز تقریباً ایک ہفتہ چاند پر گزار سکتے ہیں۔ وہ پہلے اورین میں جائیں گے، پھر چاند کے مدار میں جا کر سپیس ایکس یا بلیو اوریجن کے لینڈر میں منتقل ہوں گے، چاند پر اتریں گے اور پھر واپس آ کر اپنے کیپسول کے ذریعے زمین لوٹیں گے۔
’ناسا‘ کا مقصد چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا ہے اور اس کے بعد مریخ تک جانا ہے۔ اس منصوبے کے لیے اگلے سات سالوں میں تقریباً 20 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جس میں رہائش، گاڑیاں، ڈرونز اور توانائی کے نظام شامل ہوں گے۔