معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن اور سوشل میڈیا پر مقبول شخصیت ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف جاری ایف آئی اے کی تحقیقات سے خود کو مکمل طور پر لاتعلق قرار دے دیا ہے۔
حمزہ علی عباسی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا کہ میڈیا کوریج میں ان کا نام ان کی بہن کے خلاف الزامات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جو کہ حقیقت کے منافی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی تحقیقات کا سامنا نہیں کر رہے اور نہ ہی وہ اس کیس میں کسی بھی حیثیت میں فریق ہیں۔
مزید پڑھیں
حمزہ علی عباسی نے سنیچر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میری بہن ایک انتہائی کامیاب پروفیشنل خاتون ہیں۔ وہ میرا خاندان ہیں اور اس مشکل وقت میں میری محبت اور حمایت ان کے ساتھ ہے لیکن ان کے پیشہ ورانہ اور قانونی معاملات مجھ سے بالکل الگ ہیں۔‘ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ آئندہ ان کا نام اس کیس سے نہ جوڑا جائے بصورتِ دیگر وہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف اڑھائی ارب روپے کے مشکوک لین دین اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت جاری تحقیقات کو روکنے اور مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
جسٹس خادم حسین نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Updated version of my statement for more clarity. Thank you pic.twitter.com/f5tC1gSndP
— Hamza Ali Abbasi (@iamhamzaabbasi) March 28, 2026
تاہم عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کو ایک جزوی ریلیف بھی دیا ہے جس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت لگائے گئے الزامات اور انکوائری کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا گیا ہے۔
اب ان کے خلاف تحقیقات صرف فارن ایکسچینج قوانین کے دائرہ کار تک محدود رہیں گی۔
عدالتی محاذ پر مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
درخواست مسترد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
حمزہ علی عباسی نے اپنے بیان کے آخر میں اس امید کا اظہار کیا کہ ’ادارے انصاف کے تقاضے پورے کریں گے اور سچ سامنے آئے گا‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کیس عدالت میں ہونے کے باعث وہ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔












