ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کا امریکہ پر ’شدید ترین‘ حملوں کا عندیہ
جمعرات 2 اپریل 2026 11:37
صدر ٹرمپ نے ایران کو ’پتھر کے دور میں بھیجنے‘ کی دھمکی دی تھی (فوٹو: اے پی)
ایران نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی‘ کے بعد امریکہ اور اسرائیل پر شدید ترین حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے تل ابیب پر میزائل داغے ہیں۔
28 مارچ کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جاری ہے اور اس کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکا ہے جبکہ اس کی وجہ سے عالمی معیشت بھی ہل کر رہ گئی ہے اور کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا اگر ایران مذاکرات کے ذریعے کسی تصفیے تک نہ پہنچا تو حملے تیز کر دیے جائیں گے۔
انیس منٹ کی اس تقریر میں صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگلے دو سے تین ہفتوں میں ہم ان کو واپس پتھر کے دور میں بھیجنے جا رہے ہیں، جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘
اس خطاب پر ایران کی جانب سے فوری طور پر ردعمل سامنے آیا جس کے بعد اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو حرکت میں آنا پڑا جبکہ پولیس بھی تل ابیب کے ان کئی متاثرہ مقامات پر کارروائی کر رہی ہے جن کے بارے میں رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ وہاں چار افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے فوجی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کی جانب سے سرکاری ٹی پر بیان جاری کیا گیا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا گیا ’وہ مزید بڑے اور تباہ کن کارروائیوں کے لیے تیار رہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اللہ تعالیٰ پر بھروسے کے ساتھ یہ جنگ آپ کی ذلت، رسوائی، یقینی ندامت اور ہتھیار نہ ڈالے جانے تک جاری رہے گی۔‘
یہ تازہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل میں یہودی پاس اوور منا رہے ہیں اور ان میں سے کچھ تقریبات زیر زمین منعقد کی جا رہی ہیں۔
ایک بنکر میں ہونے والی کھانے کی تقریب میں شرکت کرنے والے جیفری نامی شخص نے بتایا کہ ’یہ میری پہلی چوائس نہیں ہے لیکن کم از کم پناہ گاہ کے اندر بیٹھ کر ہم اس وقت کو گزار تو سکتے ہیں۔‘
