سوئس کمپنی کے چاکلیٹس کے پیکٹوں بھرے ٹرک کو چوری کرنے کے واقعے نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے اور اب یہ واردات کمپنی کے حق میں جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس واردات میں 12 میٹرک ٹن سے زائد چاکلیٹ بمع ٹرک کے چوری کی گئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ معاملہ اس قدر وائرل ہوا کہ کمپنی کے لیے پروموشن کا باعث بن گیا۔
مزید پڑھیں
-
ڈارک چاکلیٹ انسانی یادداشت کو کیسے بہتر بناتی ہے؟Node ID: 896764
پچھلے ہفتے نیسلے کمپنی نے تصدیق کی تھی کہ چور اٹلی کے وسطی علاقے سے پولینڈ جانے والے ایک ٹرک کو راستے میں لے اڑے تھے اور ابھی تک چاکلیٹ بارز کا کچھ پتہ لگ پایا ہے اور نہ ہی ٹرک ملا ہے تاہم اس واردات کے دوران کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ لوگوں کو کٹ کیٹ لینے کی ترغیب دی لیکن چوروں نے اس کو کچھ زیادہ یہ سنجیدہ لے لیا اور 12 میٹرک ٹن چاکلیٹس لے گئے۔
کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ اپریل فول کا واقعہ نہیں بلکہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔‘
نیسلے کی جانب سے یہ نقطہ نظر سامنے آنے کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں اس پر بات کرنا شروع کر دی ہے۔
برطانیہ میں ڈومینوز پیزا کے اکاؤنٹ پر صبح کے وقت پوسٹ کی گئی کہ ’ہم کیٹ کٹ کے افسوسناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب ہم نیا کٹ کیٹ بیچیں گے۔‘
— Domino's Pizza UK (@Dominos_UK) March 30, 2026
شمالی کیرولائنا کی میجر لیگ ساکر کی ٹیم شارلٹ ایف سی نے بھی کچھ ایسا ہی انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اس ہفتے کے میچ میں تقریباً چار لاکھ 13 ہزار کٹ کیٹ کے پیکٹ پیش کریں گے۔‘
اسی طرح ایئرلائن رائن ایئر کی جانب سے ایک تصویر پوسٹ کی گئی جس میں ایک طیارے کے منہ میں پانچ کٹے ہوئے کیٹ کٹ بارز تھے۔
https://t.co/r1xaoZYNYz pic.twitter.com/EgruiZV1Mt
— Ryanair (@Ryanair) March 30, 2026
حال ہی میں زیادہ تر کمپنیاں ایسی خبریں جو شرمندگی کا باعث ہو سکتی ہیں، کو چھپانے کے بجائے اس طرح سے پیش کرتی ہیں کہ ان سے میمز بنتی ہیں اور وائرل ہوتی ہیں جو ایک طرح سے کمپنی کی مشہوری کا ہی باعث بنتی ہیں۔
لندن میں پی آر کنسلٹنسی اینڈریو بلاچ اینڈ ایسوسی ایٹس کے سربراہ اینڈریو بلاچ کا کہنا ہے کہ ’یہ پبلک ریلیشنز کی ماسٹر کلاس ہے۔ نیسلے نے اپنی بدقسمتی کو قبول کیا اور اسے مثبت موقع میں بدل دیا۔
یہ واقعہ 2018 میں کے ایف سی کے برطانیہ میں چکن کی کمی کے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔
اس وقت سینکڑوں آؤٹ لیٹس عارضی طور پر بند ہو گئے اور کمپنی نے برطانوی اخبارات میں ایک فل پیج اشتہار دیا، جس میں چکن سے خالی بالٹیاں دکھائی گئی تھیں اور کمپنی کے نام کے سپیلنگز کو آگے پیچھے کر کے مزاحیہ انداز میں پیش کیا تھا۔
کنسلٹنسی اینڈریو بلاچ نے کہا یہ معاملہ اب کرائسز پی آر کے لیے ایک اہم کیس سٹڈی بن چکا ہے۔
ان کے مطابق ’یہ کسی چکن ریسٹورنٹ کے لیے اچھا نہیں ہے کہ چکن ختم ہو جائے لیکن اس نے اسے قبول تو کیا۔‘
اب دیگر کمپنیاں بھی حریف کی بری خبر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔
پچھلے مہینے جب مکڈونلڈز کے سی ای او کریس کیمپسینسکی کی برگر کھانے کی ویڈیو وائرل ہوئی، تو برگر کنگ اور وینڈی کی ٹیموں نے اس پر ہلکے پھلکے انداز میں ردعمل دیا جس کے بعد مکڈونلڈز کی جانب سے کہا گیا کہ اس کے نئے برگر بگ آرچ کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔












