Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز اب ٹیکس نیٹ میں، ایف بی آر کے نئے مجوزہ قواعد کیا ہیں؟

پاکستان کے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے خصوصی ٹیکس قواعد متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔
بدھ (یکم اپریل 2026 ) کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تحت انکم ٹیکس رولز 2002 میں نئی ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں جن کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا مواد سے منافع کمانے والے غیر رہائشی افراد سے ٹیکس وصول کرنا ہے۔
ان قواعد کے مطابق ایسے تمام افراد جو انٹرنیٹ پر مبنی پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی صارفین سے رابطے میں ہیں اور وہاں سے معاوضہ حاصل کر رہے ہیں، اب باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنیں گے۔
ٹیکس کے دائرہ کار میں آنے کے لیے ایف بی آر نے صارفین کی تعداد کی ایک مخصوص حد مقرر کی ہے۔
نئے ضوابط کے تحت وہ تمام ڈیجیٹل کریئیٹرز ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے جن کے ایک ٹیکس سال کے دوران صارفین کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر جائے یا کسی ایک سہ ماہی میں ان کے 12 ہزار 250 سے زائد صارفین ہوں۔
اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ان بڑے انفلوئنسرز کو ہدف بنانا ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھاری آمدن حاصل کر رہے ہیں۔
آمدن کا درست تخمینہ لگانے کے لیے ایف بی آر نے ایک فارمولا بھی وضع کیا ہے جس کے تحت یوٹیوب ویڈیوز پر فی ایک ہزار ویوز کے لیے فی الوقت 195 روپے کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔
 کریئیٹرز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کل آمدن میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کے اخراجات منہا کر سکیں گے جس کے بعد باقی رقم پر ٹیکس کا حساب لگایا جائے گا۔
ٹیکس کی وصولی کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ کریئیٹر کی اصل موصول شدہ رقم یا سرکاری فارمولے سے نکلنے والی رقم میں سے جو بھی زیادہ ہو گی، اسے ہی بنیاد بنایا جائے گا۔
ان قواعد کے تحت تمام متعلقہ افراد کو سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں کے ایک مخصوص حصے میں اپنی اس ڈیجیٹل آمدن کا باقاعدہ اعلان کرنا ہو گا۔
مزید برآں سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس ٹیکس جمع کرائیں۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی کریئیٹر کی ظاہر کردہ آمدن ان کے وضع کردہ معیار سے کم پائی گئی تو متعلقہ کمشنر کو اس غلطی کی تصحیح کرنے اور واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہو گا۔
ایف بی آر نے اس ڈرافٹ پر عوام اور سٹیک ہولڈرز سے سات روز کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔

شیئر: