Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب ’حملہ‘، ایک شخص ہلاک

ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں جنوبی ایران میں واقع بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب ایک گولہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے رپورٹ کیا ہے کہ ’امریکہ صیہونی حملوں کے بعد آج صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب ایک گولہ آ کر گرا۔‘
رپورٹ کے مطابق بجلی گھر کی عمارت میں موجود ایک سکیورٹی گارڈ کی ہلاکت ہوئی، تاہم پلانٹ کی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کو آگاہ کر دیا گیا

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران نے اسے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب گولہ گرنے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
آئی اے ای اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ’مقام پر تعینات حفاظتی عملے کا ایک رکن گولے کے ٹکڑوں سے ہلاک ہوا، جبکہ دھماکے کی شدت اور ٹکڑوں سے ایک عمارت بھی متاثر ہوئی۔‘
ادارے کے مطابق ’تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔‘

جنوب مغربی ایران میں پیٹروکیمیکل حب بھی نشانہ

امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل حب کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں پانچ افراد زخمی ہوئے۔
خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق صوبہ خوزستان کے نائب گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ ’ماہشہر کے سپیشل پیٹروکیمیکل زون میں دھماکے ہوئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ اسرائیل حملے میں علاقے کی تین کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا‘ جبکہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’نقصان کی نوعیت اور حجم فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔‘
حکام کے مطابق حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے، تاہم فوری طور پر کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شیئر: