Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی وزیرِ خارجہ کا پاکستان میں امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی کا اعادہ

بوشہر ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 750 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران نے ’کبھی بھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔‘
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا۔ ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہم پر مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا حتمی اور پائیدار خاتمہ کن شرائط پر ممکن ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ جلد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات کب یا آیا ہوں گے بھی یا نہیں۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر جاری حملوں سے پیدا ہونے والا تابکاری کا اخراج خطے کے دارالحکومتوں میں زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے، نہ کہ صرف تہران میں۔
انہوں نے مغربی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اس تنصیب پر بار بار ہونے والے حملوں پر خاموش ہیں۔
بوشہر کمپلیکس پر ہفتہ کے روز چوتھا حملہ ہوا، جس میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک اور ایک متصل عمارت کو نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔
بوشہر ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 750 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
یہ تنصیب روس سے فراہم کردہ کم افزودہ یورینیم اور روسی ماہرین کی مدد سے ایران کو تقریباً 1,000 میگاواٹ بجلی فراہم کرتی ہے۔

شیئر: