ایرانی وزیرِ خارجہ کا پاکستان میں امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی کا اعادہ
عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ’ایران نے ’کبھی بھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔‘
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی اسلام آباد جاے سے انکار نہیں کیا۔ ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہم پر مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا حتمی اور پائیدار خاتمہ کن شرائط پر ممکن ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
ایکس پر عباس عراقچی کو جواب دیتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لکھا کہ ’میرے عزیز بھائی وضاحت کا شکریہ۔‘
پاکستان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ جلد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات کب ہوں گے یا آیا ہوں گے بھی یا نہیں۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ’بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر جاری حملوں سے پیدا ہونے والا تابکاری کا اخراج خطے کے دارالحکومتوں میں زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے، نہ کہ صرف تہران میں۔
انہوں نے مغربی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اس تنصیب پر بار بار ہونے والے حملوں پر خاموش ہیں۔
بوشہر کمپلیکس پر سنیچر کو چوتھا حملہ ہوا، جس میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ ایک متصل عمارت کو نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔
بوشہر ایران کے دارالحکومت تہران سے قریباً 750 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
یہ تنصیب روس سے فراہم کردہ کم افزودہ یورینیم اور روسی ماہرین کی مدد سے ایران کو قریباً 1000 میگاواٹ بجلی فراہم کرتی ہے۔
