ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کے چار خلاباز نے اتوار کو چاند کے ’سفیئر آف انفلوئنس‘ یعنی دائرۂ اثر میں داخل ہونے کی تیاری کی جبکہ وہ پہلے ہی چاند کی سطح کے ایسے مناظر دیکھ چکے ہیں جو اس سے قبل کبھی انسانی آنکھ نے نہیں دیکھے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق ناسا کے آن لائن ڈیش بورڈ میں بتایا گیا کہ مشن کے دس روزہ سفر کے پانچویں دن خلابازوں کا اورائن سپیس شپ زمین سے تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار میل (3 لاکھ 46 ہزار کلومیٹر) اور چاند سے 65 ہزار میل کے فاصلے پر تھا۔
مزید پڑھیں
سابق خلاباز چارلی ڈیوک، جو سنہ 1972 میں اپولو 16 مشن کے دوران چاند پر قدم رکھ چکے ہیں، نے عملے کو روایتی ’ویک اپ کال‘ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے نیچے چاند پر میرے خاندان کی ایک تصویر موجود ہے۔ مجھے امید ہے یہ آپ کو یاد دلائے گی کہ امریکہ اور پوری دنیا میں ہم سب آپ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ آپ اور زمین پر موجود ٹیم کا شکریہ کہ آپ آرٹیمس کے ذریعے ہمارے اپولو ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘
اس سے قبل اتوار کی صبح ناسا نے آرٹیمس عملے کی جانب سے لی گئی ایک تصویر جاری کی، جس میں دور سے نظر آنے والے چاند کے ساتھ اوریئنٹیل بیسن واضح تھا۔
ناسا کے مطابق ’یہ پہلا موقع ہے کہ اس پورے بیسن کو انسانی آنکھ نے براہِ راست دیکھا ہے۔‘
History in the making
In this new image from our @NASAArtemis II crew, you can see Orientale basin on the right edge of the lunar disk. This mission marks the first time the entire basin has been seen with human eyes. pic.twitter.com/iqjod6gqgz
— NASA (@NASA) April 5, 2026
یہ وسیع گڑھا ’بُلز آئی‘ کی مانند دکھائی دیتا ہے اور اس سے پہلے مدار میں گردش کرنے والے کیمروں کی مدد سے اس کی تصاویر بھی سامنے آچکی ہیں۔
اگلا اہم مرحلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب متوقع ہے جب خلاباز ’قمری دائرۂ اثر‘ میں داخل ہوں گے جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں خلائی جہاز پر زیادہ اثر انداز ہوگی۔
ناسا کی ایکسپلوریشن سسٹمز ڈیویلپمنٹ مشن کی نائب منتظم لوری گلیز نے کہا کہ ’ہم سب کل کے لیے بے حد پُرجوش ہیں۔ ہماری فلائٹ آپریشنز اور سائنسی ٹیمیں 50 سال سے زائد عرصے بعد ہونے والے پہلے قمری فلائی بائی کے لیے مکمل تیار ہیں۔‘
اس فلائی بائی کے دوران، جو کئی گھنٹوں پر محیط ہوگا، آرٹیمس 2 کا عملہ چاند کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے بھی کرے گا اور جہاز میں موجود کیمروں سے بھی تصاویر لے گا۔
One last look at Earth before we reach the Moon.
This view of the Earth was captured on April 5, the fourth day of the Artemis II mission, from inside the Orion spacecraft. The four astronauts will reach their closest approach of the Moon tomorrow, April 6. pic.twitter.com/z2NJUGWkKc
— NASA (@NASA) April 5, 2026
مشن کی چیف سائنسدان کیلسی ینگ نے کہا کہ ’یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں ہمیشہ پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا دیکھنے والے ہیں۔‘
اگر تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے تو اورائن سپیس شپ کے چاند کے گرد چکر کے دوران خلاباز کرسٹینا کوچ، ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس عملے نے دستی طور پر جہاز کو چلانے کا مظاہرہ مکمل کر لیا ہے اور قمری فلائی بائی کے منصوبے کا جائزہ لیا ہے جس میں چاند کی سطح کے اُن خدوخال کا مطالعہ بھی شامل ہے جنہیں انہیں اپنے مدار کے دوران دیکھنا اور تصویر بند کرنا ہے۔
پانچویں روز خلابازوں نے اپنے ’سروائیول سوٹس‘ کا بھی تجربہ کیا۔ یہ نارنجی رنگ کے لباس پرواز کے آغاز، واپسی اور ہنگامی حالات جیسے کیبن کے دباؤ میں کمی کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔
ناسا کے مطابق عملہ ان سوٹس کے مکمل آپریشنز انجام دے گا، جن میں انہیں پہننا، پریشرائز کرنا، لیک چیک کرنا، نشست سنبھالنے کی مشق کرنا، اور حرکت کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی صلاحیت کا جائزہ لینا شامل ہے۔
These four astronauts are currently on a mission to fly around the Moon—and soon they'll break the record for how far humans have traveled from Earth!
Meet our Artemis II crew pic.twitter.com/f3ETfqNKCr
— NASA (@NASA) April 5, 2026
اگرچہ یہ چاروں خلاباز چاند کی سطح پر نہیں اتریں گے، تاہم توقع ہے کہ وہ اپنے قمری چکر کے دوران زمین سے سب سے زیادہ فاصلے کا ریکارڈ قائم کریں گے۔












