Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تاریخی لمحہ قریب: آرٹیمس ٹو کے خلاباز ’مون فلائی بائی‘ کے لیے تیار

ناسا نے آرٹیمس ٹو مشن کے چوتھے روز تصویر شیئر کی جس میں زمین بہت دور ہو چکی ہے اور خلاباز چاند کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ (فوٹو: ناسا)
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن کے چار خلاباز نے اتوار کو چاند کے ’سفیئر آف انفلوئنس‘ یعنی دائرۂ اثر میں داخل ہونے کی تیاری کی جبکہ وہ پہلے ہی چاند کی سطح کے ایسے مناظر دیکھ چکے ہیں جو اس سے قبل کبھی انسانی آنکھ نے نہیں دیکھے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق ناسا کے آن لائن ڈیش بورڈ میں بتایا گیا کہ مشن کے دس روزہ سفر کے پانچویں دن خلابازوں کا اورائن سپیس شپ زمین سے تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار میل (3 لاکھ 46 ہزار کلومیٹر) اور چاند سے 65 ہزار میل کے فاصلے پر تھا۔
سابق خلاباز چارلی ڈیوک، جو سنہ 1972 میں اپولو 16 مشن کے دوران چاند پر قدم رکھ چکے ہیں، نے عملے کو روایتی ’ویک اپ کال‘ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے نیچے چاند پر میرے خاندان کی ایک تصویر موجود ہے۔ مجھے امید ہے یہ آپ کو یاد دلائے گی کہ امریکہ اور پوری دنیا میں ہم سب آپ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ آپ اور زمین پر موجود ٹیم کا شکریہ کہ آپ آرٹیمس کے ذریعے ہمارے اپولو ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘
اس سے قبل اتوار کی صبح ناسا نے آرٹیمس عملے کی جانب سے لی گئی ایک تصویر جاری کی، جس میں دور سے نظر آنے والے چاند کے ساتھ اوریئنٹیل بیسن واضح تھا۔
ناسا کے مطابق ’یہ پہلا موقع ہے کہ اس پورے بیسن کو انسانی آنکھ نے براہِ راست دیکھا ہے۔‘
یہ وسیع گڑھا ’بُلز آئی‘ کی مانند دکھائی دیتا ہے اور اس سے پہلے مدار میں گردش کرنے والے کیمروں کی مدد سے اس کی تصاویر بھی سامنے آچکی ہیں۔
اگلا اہم مرحلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب متوقع ہے جب خلاباز ’قمری دائرۂ اثر‘ میں داخل ہوں گے جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں خلائی جہاز پر زیادہ اثر انداز ہوگی۔
ناسا کی ایکسپلوریشن سسٹمز ڈیویلپمنٹ مشن کی نائب منتظم لوری گلیز نے کہا کہ ’ہم سب کل کے لیے بے حد پُرجوش ہیں۔ ہماری فلائٹ آپریشنز اور سائنسی ٹیمیں 50 سال سے زائد عرصے بعد ہونے والے پہلے قمری فلائی بائی کے لیے مکمل تیار ہیں۔‘
اس فلائی بائی کے دوران، جو کئی گھنٹوں پر محیط ہوگا، آرٹیمس 2 کا عملہ چاند کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے بھی کرے گا اور جہاز میں موجود کیمروں سے بھی تصاویر لے گا۔
مشن کی چیف سائنسدان کیلسی ینگ نے کہا کہ ’یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں ہمیشہ پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا دیکھنے والے ہیں۔‘
اگر تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے تو اورائن سپیس شپ کے چاند کے گرد چکر کے دوران خلاباز کرسٹینا کوچ، ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس عملے نے دستی طور پر جہاز کو چلانے کا مظاہرہ مکمل کر لیا ہے اور قمری فلائی بائی کے منصوبے کا جائزہ لیا ہے جس میں چاند کی سطح کے اُن خدوخال کا مطالعہ بھی شامل ہے جنہیں انہیں اپنے مدار کے دوران دیکھنا اور تصویر بند کرنا ہے۔
پانچویں روز خلابازوں نے اپنے ’سروائیول سوٹس‘ کا بھی تجربہ کیا۔ یہ نارنجی رنگ کے لباس پرواز کے آغاز، واپسی اور ہنگامی حالات  جیسے کیبن کے دباؤ میں کمی  کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔
ناسا کے مطابق عملہ ان سوٹس کے مکمل آپریشنز انجام دے گا، جن میں انہیں پہننا، پریشرائز کرنا، لیک چیک کرنا، نشست سنبھالنے کی مشق کرنا، اور حرکت کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی صلاحیت کا جائزہ لینا شامل ہے۔
اگرچہ یہ چاروں خلاباز چاند کی سطح پر نہیں اتریں گے، تاہم توقع ہے کہ وہ اپنے قمری چکر کے دوران زمین سے سب سے زیادہ فاصلے کا ریکارڈ قائم کریں گے۔

 

شیئر: