’آرٹیمس ٹو‘ کے خلا باز چاند کی جانب سفر کا نصف سے زیادہ مرحلہ طے کر گئے
ہفتہ 4 اپریل 2026 12:26
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق ’جب عملے کو اس اہم سنگِ میل تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی تو سب نے خوشی کا اظہار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
خلا پر تحقیق کرنے والے معروف امریکی ادارے ’ناسا‘ کے ’آرٹیمس ٹو‘ مشن کے خلا باز ہفتے کو زمین اور چاند کے درمیان سفر کا نصف سے زیادہ فاصلہ طے کر چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق خلائی ادارے نے اورائن خلائی جہاز سے لی گئی زمین کی ابتدائی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔
خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق ’جب عملے کو اس اہم سنگِ میل تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی تو سب نے خوشی کا اظہار کیا۔‘
رپورٹ کے مطابق یہ مرحلہ خلائی جہاز کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانگی کے قریباً دو دن، پانچ گھنٹے اور 24 منٹ بعد حاصل ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک خوبصورت منظر ہے۔‘
’ناسا‘ کے آن لائن ڈیش بورڈ کے مطابق ہفتے کی صبح تک خلائی جہاز زمین سے دو لاکھ 29 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر پہنچ چکا تھا۔
ادارے کی جانب سے جاری تصاویر میں زمین کا مکمل منظر دکھایا گیا ہے جس میں نیلے سمندر اور بادل واضح نظر آ رہے ہیں۔
لانچ اور انجن فائرنگ جیسے اہم مراحل مکمل کرنے کے بعد، خلائی جہاز کو چاند کے گرد گردش کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے، عملے کو کچھ دیر آرام کا موقع ملا تاہم وہ مسلسل مختلف آلات کی جانچ اور تجربات میں مصروف رہے۔
کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا کہ ’میرے لیے یہ سب ناقابل یقین ہے، یہ واقعی غیر معمولی تجربہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’خلا میں زیرو گرویٹی میں تیرنا بہت مزے دار ہے، ایک چھوٹے بچے جیسا احساس ہوتا ہے۔‘
اس مشن میں ہینسن کے ساتھ امریکی خلا باز وکٹر گلوور، ریڈ وائزمین اور کوچ بھی شامل ہیں۔
یہ چاروں خلا باز آئندہ ہفتے کے آغاز میں چاند کے گرد چکر لگائیں گے، جو پچاس سال سے زائد عرصے بعد انجام دی جانے والی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
’ناسا‘ کی اہلکار لاکیشا ہاکنز نے کمانڈر وائزمین کی جانب سے لی گئی تصاویر کو ’شاندار‘ قرار دیا اور کہا کہ پہلی بار گہرے خلا میں عملے کے ساتھ خلائی جہاز چلانے سے ہمیں روزانہ نئی چیزیں سیکھنے کو مل رہی ہیں۔
جمعے کو شیڈول میں سی پی آر کی مشق، میڈیکل کٹ کی جانچ اور چاند کے قریب پہنچنے پر سائنسی مشاہدات کی تیاری شامل ہے۔
’ناسا‘ حکام کے مطابق تمام نظام درست طریقے سے کام کر رہے ہیں اور خلا باز بہت اچھے حوصلے میں ہیں، جبکہ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے بھی بات چیت کی ہے۔
اس 10 روزہ مشن کا اگلا اہم مرحلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب متوقع ہے، جب خلائی جہاز چاند کے دائرہ اثر میں داخل ہوگا، یعنی اس مقام پر چاند کی کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے خلا باز انسانی تاریخ میں زمین سے سب سے زیادہ دور جانے کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
مشن کمانڈر وائزمین نے کہا کہ ’یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ چار انسانوں کو ڈھائی لاکھ میل دور بھیجنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، اور اب ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔‘
’آرٹیمس ٹو‘ مشن ایک طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں مزید خلائی تحقیق کے لیے بنیاد فراہم کی جا سکے۔
