Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی ناکہ بندی، 40 ممالک کی آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھلوانے پر مشاورت: برطانیہ

برطانیہ نے کہا ہے کہ قریباً 40 ممالک آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ کارروائی کرنے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، تاکہ ایران کو ’عالمی معیشت کو یرغمال بنانے‘ سے روکا جا سکے۔ 
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس آبی راستے کو محفوظ بنانا دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویت کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی ایران کی ’غیر ذمہ دارانہ کارروائی‘ ہے جس سے ’ہماری بین الاقوامی معاشی سلامتی‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 
ایویت کوپر، جمعرات کو اس ورچوئل اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں جس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور انڈیا سمیت کئی دیگر ممالک شریک ہوئے۔
انہوں نے بند کمرے کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا کے سامنے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ ایران نے ایک بین الاقوامی بحری راستے کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔‘
اس اہم بیٹھک میں شریک ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’امریکہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔‘
قریباً 40 ممالک کے نمائندوں کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام یہ بیان دیا کہ یہ آبنائے شاید ’قدرتی طور پر‘ کُھل جائے اور اسے کُھلا رکھنے کی ذمہ داری اُن ممالک پر عائد ہوتی ہے جو اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ برطانیہ رواں ہفتے قریباً 35 ممالک کا ایک اہم اجلاس منعقد کرے گا جس میں تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا، جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث متاثر ہو چکی ہے۔
کیئر سٹارمر کے مطابق اجلاس میں ایسے تمام سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے آزادانہ جہاز رانی بحال کی جا سکے، پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور اہم اشیا کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ’ایران نے آبنائے ہُرمز کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس اجلاس کے بعد فوجی ماہرین کو بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہُرمز کو محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس گفتگو میں وہ ممالک بھی شامل ہوں گے جنہوں نے حال ہی میں ایک بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد سے اس اہم آبی گزرگاہ کو قریباً بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
زمانہ امن میں دنیا کے قریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا اپنے بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے عوام کو حقیقت بتانا ہوگی کہ اس (آبنائے کو دوبارہ کھولنا) آسان نہیں ہوگا۔‘

 

 

شیئر: