ایران کی ناکہ بندی، 40 ممالک کی آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھلوانے پر مشاورت: برطانیہ
جمعرات 2 اپریل 2026 19:56
برطانیہ نے کہا ہے کہ قریباً 40 ممالک آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ کارروائی کرنے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، تاکہ ایران کو ’عالمی معیشت کو یرغمال بنانے‘ سے روکا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ بات اس وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس آبی راستے کو محفوظ بنانا دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ایویت کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کی ’غیر ذمہ دارانہ کارروائی‘ہے جس سے ’ہماری بین الاقوامی معاشی سلامتی‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایویت کوپر، جمعرات کو اس ورچوئل اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور انڈیا سمیت کئی ممالک شریک ہوئے۔
انہوں نے بند کمرے کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میڈیا کے سامنے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایران نے ایک بین الاقوامی بحری راستے کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
قریباً 40 ممالک کے نمائندوں کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام یہ بیان دیا کہ یہ آبنائے شاید ’قدرتی طور پر‘ کُھل جائے اور اسے کُھلا رکھنے کی ذمہ داری اُن ممالک پر عائد ہوتی ہے جو اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔