اقوام متحدہ میں آج آبنائے ہرمز کے معاملے پر ووٹنگ متوقع
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد سے جہاں جنگ شروع ہوئی وہیں تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے جو کہ توانائی کے ذرائع کی تجارت کے حوالے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
15 رکنی کونسل کے موجودہ سربراہ بحرین کی جانب سے قراداد میں ایسے کئی نکات شامل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ چین، روس اور دوسرے ممالک کی مخالفت کی راہ روکی جا سکے۔
کونسل میں ہونے والی تازہ بحث جس کی دستاویز کا روئٹرز نے مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے کسی بھی قسم کی اجازت شامل نہیں ہے۔
اس کے بجائے متن میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو مربوط کریں جو کہ دفاعی نوعیت کی ہوں اور حالات کی مناسبت سے آبنائے ہرمز کے قریب جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے میں تعاون کریں۔‘
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے اس تعاون میں ’تجارتی اور کاروباری جہازوں کی حفاظت شامل ہو سکتی ہے۔‘
اسی طرح متن ’آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کو بند کرنے، رکاوٹ ڈالنے یا کسی بھی صورت میں مداخلت کو روکنے کی کوششوں کی توثیق‘ بھی کرتا ہے۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ نرم شکل میں موجود اس قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ ہیں تاہم یہ بات اب بھی واضح نہیں ہے کہ یہ کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ اس کی منظوری کے لیے کم از کم نو ووٹ درکار ہیں جبکہ پاس ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے ردعمل میں پانچ مستقل اراکین برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ میں سے کسی کی جانب سے بھی ویٹو نہ آئے۔
بحرین جس کو اس کوشش میں دیگر خلیجی ممالک اور عرب ریاستوں کے علاوہ واشنگٹن کی بھی حمایت حاصل ہے، نے پچھلی جمعرات کو ایک مسودہ جاری کیا تھا جس میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری دفاعی ذرائع‘ کی اجازت دی گئی تھی تاہم اس پر جمعے اور سنیچر کو ہونے والی ووٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔