Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیشی مسافروں کا مشکوک رویہ، کراچی ایئرپورٹ پر انسانی سمگلنگ کی کوشش ناکام

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کا سب سے بڑا اور مصروف ترین ہوائی اڈہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایک بار پھر بین الاقوامی انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے تاہم فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی حالیہ کارروائی نے نہ صرف ایک ممکنہ غیر قانونی سفر کو ناکام بنایا بلکہ ان پیچیدہ اور بدلتے ہوئے طریقہ کار کو بھی بے نقاب کیا ہے جن کے ذریعے انسانی سمگلر معصوم افراد کو یورپ پہنچانے کے خواب دکھا کر استعمال کرتے ہیں۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ چھ اپریل 2026 کو کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے دو بنگلہ دیشی شہریوں محمد راجو اور شاہد کو اس وقت روک لیا جب ان کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ دونوں مسافر بنگلہ دیش سے ٹورسٹ ویزا پر کراچی پہنچے تھے اور انہوں نے اپنے دورے کا مقصد ایک شادی کی تقریب میں شرکت بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ ایک معمول کی انٹری لگ رہی تھی لیکن امیگریشن افسران کے تجربے اور مسافروں کے مشکوک رویے کی بنیاد پر مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ اس دوران ان کے بیانات میں تضاد سامنے آیا جس کے بعد ان کی مکمل جانچ شروع کی گئی۔
جعلی کہانیاں اور ڈیجیٹل ثبوت
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ جس شادی کی تقریب کا حوالہ دیا جا رہا تھا، وہ سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ مزید برآں ان کے موبائل فونز سے واٹس ایپ گروپ چیٹس، سفری منصوبہ بندی، اور آذربائیجان کے ویزوں کی الیکٹرونک کاپیاں بھی برآمد ہوئیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ انکشاف انتہائی اہم تھا کیونکہ اس سے واضح ہوا کہ اصل منصوبہ پاکستان میں رکنا نہیں بلکہ اسے ایک ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرنا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق دونوں افراد کا مقصد آذربائیجان کے راستے یورپ پہنچنا تھا جسے عام زبان میں ’ڈنکی روٹ‘ کہا جاتا ہے۔
’کراچی ایئرپورٹ، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ‘
ایوی ایشن امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں پاکستان، خاص طور پر کراچی ایئرپورٹ، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
سینیئر صحافی راجہ کامران کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں پاکستان کے ویزا قوانین میں بعض ممالک کے لیے نسبتاً آسانی ہونا اور اس کے علاوہ بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی سے ایسے مسافروں کے لیے چھپنا آسان ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ بین الاقوامی فلائٹس کی وسیع دستیابی بھی اہم وجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سمگلرز ایسے مسافروں کو منتخب کرتے ہیں جو قانونی دستاویزات کے ساتھ بظاہر درست نظر آئیں لیکن اصل مقصد غیر قانونی ہجرت ہو۔

ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی مسافروں کے مشکوک رویے کی بنیاد پر پوچھ گچھ کی گئی (فوٹو: ایف آئی اے)

یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کے ایک اہم اجلاس میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا تھا کہ بنگلہ دیشی شہری غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے پاکستان کو باقاعدہ ٹرانزٹ روٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اجلاس، جس کی صدارت آغا رفیع اللہ نے کی، میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ افراد سیاحتی ویزے پر پاکستان آتے ہیں اور بعد ازاں مختلف ایئرپورٹس سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق زیادہ تر کیسز میں مسافروں کے پاس جعلی، نامکمل یا ناقابل تصدیق دستاویزات ہوتی ہیں جبکہ بعض افراد کے تعلیمی یا ملازمت سے متعلق دعوے بھی جانچ میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ آف لوڈنگ کا عمل مکمل طور پر ڈیٹا، دستاویزات اور آن لائن ویریفکیشن سسٹمز جیسے آئی بی ایم ایس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کے دباؤ یا صوابدید کو شامل نہیں کیا جاتا۔
اسی بریفنگ میں انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے خلاف اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کی گئی تھیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران لاکھوں مسافروں میں سے صرف مشتبہ افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ 226 سے زائد افراد کے خلاف انسانی سمگلنگ کے مقدمات درج کیے گئے اور سینکڑوں افراد کو ایران بارڈر کے ذریعے غیر قانونی سفر کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔
ڈنکی روٹ کیا ہے؟
ڈنکی روٹ دراصل ایک غیر قانونی سفری راستہ ہے جس میں افراد کو مختلف ممالک کے ذریعے خفیہ طور پر یورپ پہنچایا جاتا ہے۔ اس سفر میں عام طور پر درج ذیل مراحل شامل ہوتے ہیں، کسی ایشیائی یا افریقی ملک سے قانونی ویزا پر روانگی، ایک یا دو ٹرانزٹ ممالک میں قیام پھر زمینی یا غیر قانونی راستوں سے یورپ داخل ہونے کی کوشش۔
یہ سفر نہ صرف غیر قانونی ہوتا ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی جس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

انسانی سمگلر خطرناک راستوں میں ہی غیرقانونی تارکین وطن کو چھوڑ دیتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

جدید انسانی سمگلنگ کے طریقے
ایف آئی اے حکام کے مطابق انسانی سمگلنگ کے طریقے اب پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ان میں شامل ہیں۔
جعلی تقاریب اور دعوت نامے
سمگلرز شادیوں، کانفرنسز یا مذہبی تقریبات کے جعلی دعوت نامے تیار کرتے ہیں تاکہ ویزا حاصل کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل کوآرڈینیشن
واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر ایپس کے ذریعے مکمل سفری منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جس میں راستے، رابطے اور ہدایات شامل ہوتی ہیں۔
الیکٹرونک ویزا کا غلط استعمال
ای ویزا سسٹم کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے جعلی یا مشکوک دستاویزات کے ذریعے اگلے ممالک تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
ملٹی کنٹری روٹ
ایک ہی سفر میں کئی ممالک کو شامل کیا جاتا ہے تاکہ کسی ایک جگہ پکڑے جانے کا امکان کم ہو۔

کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن سکریننگ مزید سخت کر دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس وقت نہ صرف پاکستان کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے بلکہ علاقائی صورتحال کے لحاظ سے بھی ایک اہم مقام بن چکا ہے۔ یہاں ایف آئی اے امیگریشن، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس اور دیگر ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں امیگریشن سکریننگ مزید سخت کی گئی ہے، ڈیجیٹل ویریفکیشن سسٹمز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، مشکوک مسافروں کی پروفائلنگ بہتر بنائی گئی ہے۔ اس کے باوجود سمگلرز نئے طریقے ایجاد کر کے سسٹم کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں آئی بی ایم ایس ( انٹیگریڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم )کا استعمال کیا جس کے ذریعے میزبان کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی گئی۔ اس سسٹم نے ثابت کیا کہ جس شخص کے نام پر دعوت نامہ دیا گیا تھا، وہ ملک میں موجود ہی نہیں تھا۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔
جامعہ کراچی شعبہ جرمیات کی سربرہ ڈاکٹر نائمہ سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی ہے۔ اکثر افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں سمگلرز کے جھانسے میں آ جاتے ہیں، جو ان سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور خطرناک راستوں پر بھیج دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی کیسز میں مسافر راستے میں ہلاک ہو جاتے ہیں، انہیں قید یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا وہ یورپ پہنچ کر غیر قانونی حیثیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں کشتیاں الٹنے سے سینکڑوں تارکین وطن جان سے گئے (فوٹو: اے ایف پی)

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں امیگریشن افسران کی تربیت، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس آپریشنز اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں۔
اگرچہ حالیہ کارروائی ایک کامیابی ہے، لیکن یہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ انسانی سمگلنگ ایک اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکی ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ویزا پالیسیوں کو مزید شفاف بنایا جائے، بین الاقوامی تعاون بڑھایا جائے، اور سب سے بڑھ کر، عوام میں شعور اجاگر کیا جائے تاکہ اس معصوم شہریوں کو اس غیر قانونی نیٹ ورک سے بچایا جاسکے۔

شیئر: