Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے خاتمے کی کوششیں ’اہم مرحلے‘ میں داخل : پاکستان میں ایرانی سفیر

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے منگل کے روز کہا کہ جنگ کے خاتمے کی پاکستان کی کوششیں ایک ’اہم اور حساس مرحلے‘ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی نیک نیتی اور سفارتی کوششیں مثبت اور نتیجہ خیز ہیں اور ایک اہم، حساس مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔‘
ایرانی سفیر کا یہ بیان اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کے لیے دی تھی، بصورت دیگر اہم تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد ازاں، منگل کو ایک سینیئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی عارضی جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات صرف مستقل امن معاہدے کی بنیاد پر ہوں۔
کویت میں ایران کے سفیر محمد توتونجی نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ ممکنہ ’سانحہ‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کریں، کیونکہ امریکی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام سفارتی اور سیاسی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بحران کو روکیں۔
دریں اثنا، ایران اور اسرائیل کے درمیان منگل کو حملوں کا تبادلہ جاری رہا، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اس سے قبل ایران نے پاکستان کی ثالثی میں پیش کی گئی امریکی تجویز بھی مسترد کر دی تھی، جس میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے اور 15 سے 20 دن کے اندر وسیع امن مذاکرات کی بات کی گئی تھی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں 10 نکات پیش کیے، جن میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں۔
پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’پورے ملک کو ایک رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے ڈیڈ لائن سے پہلے معاہدہ نہ کیا تو بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو بدھ کی شب تک ایران کے پل اور بجلی گھر تباہ کر دیے جائیں گے۔
 

شیئر: