پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے وفود کو جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آفیشل ایکس اکاونٹ پر بدھ کی صبح پوسٹ میں لکھا’انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں،جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔ امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں۔
’امید کرتے ہیں کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس سے قبل پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر رضا مندی کا اعلان کیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا’ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، جہاں انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کے خلاف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔‘
’اس شرط پر کہ ایران، آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر رضامند ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہوں۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔‘