حدودِ شمالیہ میں مٹی سے بنی عمارات سعودی تعمیراتی ورثہ
تعمیرات میں درجۂ حرارت کو قابلِ برداشت اور ہوا کے گزر کو یقینی بنایا جاتا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
حدودِ شمالیہ کے علاقے میں مٹی کے ذریعے فنِ تعمیر، سعودی تعمیراتی میراث کی ایک بنیادی علامات کے طور پر آج بھی باقی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس سے تعمیر کے روایتی طریقوں اور صحرا کے ماحول میں رہنے کے لیے دو عوامل کے درمیان اتحادِ عمل کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
مقامی مٹی، پتھر اور لکڑی کو استعمال میں لا کر بنائی گئی ان عمارتوں کا ایک نمایاں پہلو ان میں بنے ہوئے لمبے لمبے راستے ہیں۔
چتھوں کو درختوں کے تنوں اور کھجور کے چوڑے پتوں سے بنایا جاتا تھا اور سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے ستون لگائے جاتے تھے جن پر پلستر کر دیا جاتا تھا۔
یہ ایسا ڈیزائن ہے جو ابتدائی زمانے کی انجینیئرنگ میں استعمال کی گئی ذہانت کو ایک طرح سے داد دیتا ہے جس کے ذریعے درجۂ حرارت کو قابلِ برداشت اور ہوا کے گزر کو یقینی بنایا جاتا تھا۔

دیواروں میں سوراخ کر کے دن کے وقت روشنی اور ہوا کے حصول کو ممکن بنانا اور اندھیرا چھانے پر روایتی لالٹینوں کا استعمال، اس خطے کی تاریخی اور جمالیاتی ترقی کا ایک دستاویزی ثبوت ہے۔
اپنے استعمال سے کہیں زیادہ اہم، یہ عمارتیں شمالی کمیونٹیوں میں سماجی اور معاشی زندگی کی بنیاد کا کام دیا کرتی تھیں۔

آج ایسے مقامات کو بچانے کے لیے قومی ہیریٹج کی کوششیں ایسی سائٹس میں تبدیل ہو رہی ہیں جو اب ثقافتی اور سیاحتی مقامات کہلاتے ہیں۔
ان کوششوں سے یہ جگہیں مملکت کے فنِ تعمیر کی شناخت کو مستقبل کی نسلوں تک پہچانے اور انھیں دستاویزی بنانے کو یقینی بنا رہے ہیں۔
