Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی کے بعد کیا پاکستان سے بیرون ملک فضائی سفر سستا ہو جائے گا؟

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مشکلات سے دوچار فضائی آپریشنز کو معمول پر لانے میں فائدہ ملے گا لیکن ٹکٹوں کی قیمت میں کمی کا اثر شاید فوری دکھائی نہ دیے۔
بدھ کو بھی پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے مطابق 8 اپریل کو کراچی سے نو، اسلام آباد سے 12، لاہور سے چار جبکہ پشاور سے چھ پروازیں منسوخ کی گئیں۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ان منسوخیوں کی بڑی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، آپریشنل مسائل اور خطے میں غیر یقینی صورتحال تھی، جس کے باعث ایئرلائنز کو اپنے شیڈول محدود کرنا پڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے براہِ راست ایئر ٹکٹس کے کرایوں اور پروازوں کی دستیابی کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے گئے، جہاں نہ صرف پروازیں منسوخ ہوئیں بلکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
مسافروں کو اچانک شیڈول کی تبدیلیوں، تاخیر اور مہنگے کرایوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سفر کی منصوبہ بندی مزید مشکل ہو گئی۔
یاد رہے کہ پی آئی اے انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں جیٹ فیول کی قیمتیں 85 سے 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے پر اپنے آپریشن محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق ایوی ایشن کی صنعت میں ایندھن کے اخراجات مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا قریباً ایک چوتھائی حصہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایئر لائن کے لیے موجودہ حالات میں آپریشنز جاری رکھنا مالی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔
پی آئی اے کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ خلیجی ممالک کے لیے پروازیں اپریل کے آخر تک معطل رہیں گی۔ اسی طرح بیجنگ کے لیے پروازیں 11 اپریل اور کوالالمپور کے لیے 14 اپریل سے بند کر دی جائیں گی۔

پاکستان سے مسلسل انٹرنیشنل فلائٹس منسوخ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا تھا: فائل فوٹو اسلام آباد ایئر پورٹ

تاہم اب امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر فوری طور پر فضائی ٹکٹوں پر ظاہر نہیں ہوگا۔
ایوی ایشن امور کے ماہر راجہ کامران کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایئرلائنز عموماً ایندھن کی خریداری پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت کرتی ہیں، جن کی قیمتیں فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے مالی نقصانات کو پورا کرنا بھی ایئرلائنز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایئرلائن ذرائع کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ’فیول سرچارج‘ کے ذریعے اس کا بوجھ مسافروں پر منتقل کیا جاتا ہے۔
اسی طرح جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو اس سرچارج میں کمی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ مرحلہ وار کیا جاتا ہے اور اس کا انحصار مارکیٹ کی صورتحال پر ہوتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو فضائی کرایوں کا تعین صرف ایندھن کی قیمتوں پر نہیں ہوتا بلکہ ڈالر کی قدر، حکومتی ٹیکسز، ایئرپورٹ چارجز اور دیگر اخراجات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل سستا ہو جائے تو بھی اس کا مکمل فائدہ فوری طور پر عام مسافروں تک منتقل نہیں ہو پاتا۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری رہتا ہے تو آنے والے ہفتوں میں فضائی صنعت میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔
اس میں پروازوں کی تعداد میں اضافہ، منسوخ شدہ روٹس کی بحالی اور کرایوں میں بتدریج کمی شامل ہو سکتی ہے۔

ایران جنگ کی وجہ سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا: فائل فوٹو اے ایف پی

8 اپریل کو ہونے والی پروازوں کی منسوخی کو ماہرین ایک عارضی صورتحال قرار دے رہے ہیں، جو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے ساتھ بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی ایندھن کی فراہمی مستحکم ہوگی اور ایئرلائنز کو لاگت میں کمی کا فائدہ ملنا شروع ہوگا، ویسے ہی فلائٹ آپریشنز بھی معمول پر آنا شروع ہو جائیں گے۔
راجہ کامران کا کہنا ہے کہ مسافروں کے لیے یہ پیش رفت امید کی ایک کرن ضرور ہے، لیکن فوری طور پر سستے ٹکٹوں کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
عام طور پر ایسے حالات میں دو سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں جب تک کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا اثر مکمل طور پر فضائی کرایوں پر ظاہر نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن فضائی صنعت کو درپیش چیلنجز کے باعث اس کے اثرات مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔ اگر حالات مزید بہتر ہوتے ہیں تو نہ صرف پروازوں کی منسوخی میں کمی آئے گی بلکہ مسافروں کو سستے ٹکٹوں کی صورت میں بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
 

شیئر: