Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی پر مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں، ’48 گھنٹے بہت اہم‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی قیادت کے ساتھ رابطوں کے بعد حملے معطل کرنے پر رضامند ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
بدھ کو ایک ٹی وی چینل سے بات میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عارضی جنگ بندی کو وسیع تصفیے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے لیے اگلے 48 گھنٹوں کو اہم قرار دیا۔
یہ سفارتی پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس پر بالواسطہ طور پر متعدد رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کے بعد اتفاق کیا گیا کیونکہ جنگ کی وجہ سے پورے خطے کے لیے خطرات بڑھ رہے تھے۔
پاکستان کی جانب سے خود کو سہولت کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد پیش رفت ہوئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے اب فریقوں کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی قیادت کے ساتھ رابطوں کے بعد حملے معطل کرنے پر رضامند ہوئے ہیں جبکہ ایران کے حکام نے بھی کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے اسلام آباد کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جس نے پورے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا اور آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ 10 اپریل سے شروع ہونے والے مذاکرات دونوں ممالک کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
عطا تارڑ نے مذاکرات کے فارمیٹ، شرکا یا امریکہ و ایران کے وفود کی شرکت کے حوالے سے تفصیلات مہیا نہیں کیں۔
تاہم دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے وسیع تر بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے تاہم ان کے شرکا اور رسمی شیڈول کے حوالے سے آزادانہ طور پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
عطا تارڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس مرحلے پر میں مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، یہ ایک حساس موضوع ہے جس کے لیے اگلے 48 گھنٹے کافی اہم ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف، فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے، سب نے بحران کے دوران بڑے مربوط انداز میں کام کیا۔
ان کے مطابق ’حکومت مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی رہے گی۔‘
عطا تارڑ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران سپلائی چینز اور سمندری راستوں کو برقرار رکھنے کے علاوہ ریلیف کے حوالے سے بھی بہت کام کیا کیونکہ جنگ کی وجہ سے خطے میں توانائی کے ذرائع کا بہاؤ متاثر ہوا۔
ان کے مطابق ’پاکستان خطے میں استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

شیئر: