Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بغیر وضو گجر قوم کا نام لیا تو آگ لگا دوں گا‘، شانگلہ میں جھگڑا قبائلی عصبیت تک کیسے پہنچا؟

’آج کے بعد گجر قوم کے بارے میں کسی نے (بُری) بات کی تو وہیں اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دیں۔ امیر سلطان گجر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ آج کے بعد اگر کسی نے بغیر وضو کے گجر قوم کا نام لیا تو بخدا وہیں اس کو آگ لگا دوں گا۔‘
یہ بیان خیبرپختونخواہ کے ضلع شانگلہ کے ایک مقامی سیاستدان امیر سلطان گجر نے ویڈیو کی صورت میں جاری کیا ہے۔ امیر سلطان گجر مقامی سطح پر عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے ساتھ سخت مقابلے کے لیے جانے جاتے ہیں تاہم اس وقت وہ امیر مقام کے قافلے میں شامل ہیں۔ اس بیان کا پس منظر ایک واقعہ ہے جس میں دونوں فریقین کی صلح ہوچکی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی رہنما حاجی سدید الرحمان اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر(مردانہ) اورنگزیب کے مابین ہاتھاپائی ہوئی۔ شانگلہ کے ہیڈکوارٹرز الپوری تھانہ میں درج ایف آئی آر میں ایجوکیشن آفیسر نے موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی رہنما نے انہیں کلاس فور ملازمین کی بھرتی کے لیے فہرست فراہم کی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’پی ٹی آئی رہنما حاجی سدید الرحمان نے مجھے ایک فہرست دیتے ہوئے بتایا کہ ان لوگوں کو بھرتی کریں۔ میں نے کہا کہ میں قانون کے مطابق اہل امیدواروں کو بھرتی کروں گا۔‘
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ انکار کرنے پر ان پر تشدد ہوا اور وہ زخمی ہو گئے۔ 
دوسری طرف حاجی سدید الرحمان اور پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت اس کے برعکس موقف اختیار کرتی رہی۔ پی ٹی آئی ضلعی قیادت کے مطابق حاجی سدید الرحمان شانگلہ کے ایک علاقے میں سکول کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر کے پاس گئے تھے جس میں ایک شخص بھی زخمی ہوا۔
ضلعی ایجوکیشن آفیسر کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ہے۔ اس واقعے کے بعد وہ اپنے علاقے چلے گئے جس کے بعد اساتذہ پر مشتمل ایک وفد جرگے کی شکل میں ان کے پاس پہنچا۔
ان واقعات کو قریب سے دیکھنے والے استاد شفیع اللہ نے اردو نیوز کو بتایا ’وفد نے انہیں صلح پر راضی کیا اور یوں وہ واپس شانگلہ آئے جہاں دونوں فریقین کے مابین صلح ہو گئی۔ یہ صلح آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس(اگیگا) کی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔’
اس صلح کے بعد ایک سرکاری ٹیچر فضل حق سوشل میڈیا پر سامنے آئے جنہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے خلاف ویڈیو بناتے ہوئے ان پر تنقید کی۔

یہ صلح آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس(اگیگا) کی کاوشوں سے ممکن ہوئی (فوٹو: فیس بک)

انہوں نے اپنی ویڈیو میں بتایا ’ہم تمام اساتذہ آپ کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے اور آپ نے صلح کر لی۔‘
فضل حق نے اس حوالے سے بتایا کہ ’اس صلح میں کئی عناصر شامل تھے لیکن ہم ایجوکیشن افیسر کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور ہم چاہتے تھے کہ سدید الرحمان کے خلاف کارروائی ہوتی تاہم انہوں نے صلح کر لی۔ اس ویڈیو میں میری زبان پھسل گئی اور میں نے گجر قوم سے متعلق ایسا جملہ بولا جو نامناسب تھا جس پر میں نے بعد میں معذرت بھی کی۔‘
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اورنگزیب گجر قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے فضل حق نے انہیں کمزور لفظوں میں یاد کیا۔ 
ابتدائی جھگڑے کے بعد صلح ہو گئی تھی تاہم اس ویڈیو کے آنے کے بعد ضلع شانگلہ میں مقیم گجر قوم نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فضل حق کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم انہوں نے ایک ویڈیو میں دوبارہ معذرت کی۔
سوشل میڈیا پر سوات اور شانگلہ میں گجر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے فضل حق کے بیان کے خلاف مہم چلائی جس کے بعد شانگلہ سے تعلق رکھنے والے امیر سلطان گجر کی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے بتایا ’شانگلہ میں ایک شخص نے ویڈیو بناتے ہوئے گجر قوم کے خلاف باتیں کی ہیں۔ صلح کرنا جرگے کا فیصلہ تھا، اب اس میں گجر قوم کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟‘

امیر سلطان گجر نے کہا ضلع شانگلہ میں ہم سب ایک قوم کی طرح رہتے ہیں (فوٹو: امیر سلطان، فیس بک)

اس کے بعد انہوں نے گجر قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’جو بھی شخص گجر قوم کے خلاف کوئی بری بات کرے تو اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دیں۔‘
جب امیر سلطان گجر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ضلع شانگلہ میں رہنے والا ہر فرد ان کا بھائی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’ضلع شانگلہ میں ہم سب ایک قوم کی طرح رہتے ہیں۔ کوئی بھی کسی مخصوص قوم کو ٹارگٹ کر کے ایسے الفاظ ادا کرے گا تو غصہ کرنا اور جذبات میں آنا فطری عمل ہے۔ میں نے بھی اپنا غصہ دکھاتے ہوئے یہ بات کہی جو نہیں کہنی چاہیے تھی تاہم یہ ہمارے جذبات تھے اور حقیقت میں ہم ہرگز ایسا نہیں چاہتے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران انہوں نے فضل حق سے بھی رابطہ کیا اور ان کی خوشگوار گفتگو بھی ہوئی لیکن چند عناصر اس معاملے کو کوئی اور رخ دینا چاہتے ہیں۔
’میں ضلع شانگلہ میں سب کا چھوٹا ہوں۔ یہ سب میرے بڑے ہیں۔ میں سب کے مسائل کے لیے کھڑا ہوتا ہوں۔ یہ معاملہ ختم ہوچکا تھا لیکن چند عناصر نے اسے غلط رنگ دینے کی کوشش کی اور معاملہ یہاں تک پہنچا۔‘
’شانگلہ میں کبھی کسی مخصوص قوم کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا لیکن بعض اوقات ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔‘

شیئر: