امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سج گئی ہے اور عارضی جنگ بندی کے بعد تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت آج کچھ دیر میں شروع ہو گی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو قوم سے خطاب میں مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ’میک آر بریک‘ کے الفاظ استعمال کیے اور امید بھی ظاہر کہ اس سے خطے کو استحکام کی طرف لے جانے میں مدد ملے گی۔
فریقین کے نمائندوں کے علاوہ دنیا بھر کا میڈیا بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور سب کی نظریں اس بات چیت کے نتائج پر ہیں۔
مزید پڑھیں
-
جیفری ایپسٹین سے میرا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا: میلانیا ٹرمپNode ID: 902854
ایرانی وفد جمعے کی شام کو پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا جبکہ ان امریکی نائب صدر ڈے جے وینس سنیچر کی صبح دارالحکومت پہنچے ہیں۔
خبر رساں اے ایف پی کے مطابق مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے اسلام آباد آمد پر کہا کہ ’ہماری نیت نیک ہے لیکن ہم (امریکہ پر) اعتماد نہیں کرتے۔‘

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل خبردار کیا تھا کہ ’اگر ایران نے ہمارے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو وہ مذاکراتی ٹیم کو زیادہ ہمدرد نہیں پائیں گے۔‘
امریکہ و ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان اس تنازع کو ختم کرنے اور بات چیت سے معاملات سلجھانے پر زور دیتے ہوئے ثالثی کے لیے سرگرم رہا، جس میں اسے پہلی کامیابی جنگ کے قریباً پانچ ہفتے بعد عارضی جنگ بندی کی صورت میں 8 اپریل کو ملی جبکہ مذاکرات کی میزبانی پر بھی اسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
جنگ کا پس مںظر اور ثالثی کی کوششیں
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے چھڑنے والی جنگ کو خطے بھر تک پھیلنے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا کیونکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جبکہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بھی بند کیا گیا جس سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا دیکھا گیا۔

امکانات و خدشات
اگرچہ مذاکرات کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے تاہم اب بھی لبنان کے معاملے کے ان پر اثرات پڑنے کے خدشات موجود ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں ہے جگہ ایران کا اصرار ہے کہ وہ اس میں شامل ہے۔

جنگ بندی اور مذاکرات کے اعلان کے بعد ہی پاکستان میں تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں اور سکیورٹی کی صورت حال کافی سخت ہے جبکہ تین روز کے لیے چھٹی کا اعلان بھی کیا گیا۔
آج اسلام آباد کے ریڈ زون، ڈی چوک اور سیرینا ہوٹل کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں اور سڑکوں پر فوج، ایف سی اور پولیس کے مسلح اہلکار تعینات ہیں۔












