واشنگٹن میں کئی دہائیوں بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان پہلے براہِ راست مذاکرات
لبنان اور اسرائیل نے منگل کے روز واشنگٹن میں کئی دہائیوں کے بعد اپنے پہلے براہِ راست سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا۔ یہ مذاکرات اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ سے زائد جاری جنگ کے بعد ہو رہے ہیں۔
اے پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے ’تاریخی موقع‘ قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان مذاکرات کی میزبانی پر ’بہت خوش‘ ہے، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ ’ہم کئی دہائیوں کی تاریخ اور پیچیدگیوں کے خلاف کام کر رہے ہیں‘ جنہیں جلد حل نہیں کیا جا سکتا۔ حزب اللہ ان براہِ راست مذاکرات کی مخالفت کرتی ہے اور اس میں شامل نہیں، اور مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی اس نے شمالی اسرائیل پر حملے تیز کر دیے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ’لیکن ہم ایک ایسے فریم ورک کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں کچھ مثبت اور مستقل حاصل ہو، تاکہ لبنان کے عوام کو وہ مستقبل مل سکے جس کے وہ حقدار ہیں، اور اسرائیل کے لوگ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔‘
لبنان کے صدر جوزف عون نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات لبنانی عوام کی مجموعی تکلیف، اور خاص طور پر جنوبی علاقوں کی مشکلات کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔
انہوں نے کہا، ’اگر اسرائیل اپنی قبضے والی زمینیں خالی نہیں کرتا تو جنوب میں استحکام واپس نہیں آئے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ واحد حل یہ ہے کہ لبنانی فوج بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد تک دوبارہ تعینات ہو اور علاقے کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری سنبھالے، بغیر کسی دوسرے فریق کی شراکت کے۔
ان مذاکرات کے افتتاحی سیشن میں روبیو کے ساتھ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز بھی شریک تھے۔ اجلاس کی قیادت لبنان میں امریکی سفیر میشیل عیسیٰ، امریکہ میں اسرائیلی سفیر یخیئل لیٹر اور امریکہ میں لبنانی سفیر ندا حمادہ معوض کر رہے ہیں۔
