امریکہ نے بدھ کو ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملے کیے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ کہا کہ مزید حملے بھی کیے جائیں گے، جبکہ ایران نے خطے کے ممالک پر جوابی کارروائی کی ہے۔ یوں خطے میں بڑھتی ہوئی یہ جھڑپیں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو پٹری سے اتارنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں، اور صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں تعطل پر تہران کو ’قیمت چکانا‘ پڑے گی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس اور سوشل میڈیا پر یہ بیانات اُس وقت سامنے آئے جب بحرین، کویت اور اُردن ایرانی حملوں کی زد میں آئے جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
رواں ہفتے یہ دوسرا ایسا موقع ہے جب ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملوں نے دو ماہ سے جاری جنگ بندی کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔ پیر کو ایران اور اسرائیل نے بھی ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
مزید پڑھیں
-
ایران کے میزائل و ڈرون حملے، اردن، بحرین اور کویت کا دفاعی ردعملNode ID: 905193
-
ایران کی فوجی طاقت برقرار، امریکہ سے جنگ کب تک جاری رہ سکتی ہے؟Node ID: 905209
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج انہیں دوبارہ اور سخت نشانہ بنائیں گے‘، انہوں نے یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کے چند گھنٹوں بعد دیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کو ’رعایت‘ دی، جنہیں صدر ٹرمپ نے ’غیرمعمولی طور پر شاندار‘ شخصیات قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، اور وہ اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو وہ کام کرنے پر آمادہ کریں جو درست ہے۔ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو بامعنی ہو اور ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو قابلِ عمل ہو۔‘
صدر ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد امریکی فوج نے کہا کہ اس نے ایک ایسے آئل ٹینکر پر فائرنگ کی جو ایران سے تیل لے جانے کی کوشش کر رہا تھا، اور یہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایران کے قریب سمندری حدود میں ناکارہ بنایا جانے والا آٹھواں تجارتی جہاز ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ جنگ کے آغاز میں دی گئی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کریں گے جن میں ایران کے پُلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی بات کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، مگر وہ ہمیں مسلسل ٹالتے جا رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کے بیانات نے جنگ کے حوالے سے امریکی صدر کے غیرمتوقع اور بدلتے ہوئے طرزِ عمل کو ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے پیر کو عندیہ دیا تھا کہ چند دنوں میں جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ہفتوں تک شدید بمباری کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی مزاحمت برقرار رکھی ہے۔ ایران اس بات پر انحصار کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کرنے کی اس کی صلاحیت اسے مذاکراتی عمل میں مضبوط پوزیشن فراہم کرتی ہے جو دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

اس کے باوجود دونوں ممالک بظاہر اس تنازعے کو ختم کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں بشرطیکہ وہ اسے اپنے اپنے ملک میں فتح کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو زیادہ مشکل اہداف کے حصول پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں جن میں ایران کی مذہبی حکومت و جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، اور لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے مسلح گروہ کی تباہی شامل ہیں۔ یہ اہداف کسی بھی سمجھوتے کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ امریکہ اور ایران کے حملوں سے لرز اُٹھا
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اور خوراک سمیت بنیادی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔ بدھ کو خام تیل کی عالمی منڈیوں میں قیمت 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جنگ کے آغاز سے اب تک 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ حملوں میں امریکی لڑاکا طیاروں نے ’فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول سٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اس کے جنوبی شہر سیریک میں پانی کے دو ذخائر کو نقصان پہنچا، جس سے ہزاروں افراد کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں پانی کا ایک متاثرہ ذخیرہ دکھایا گیا، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایران کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا، اور بعد میں ایران نے کویت، بحرین اور اُردن میں حملوں کا دعویٰ کیا۔
اُردن نے کہا کہ اس نے اپنی طرف آنے والے پانچ میزائل مار گرائے، جن کے بارے میں ایران کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف موافق السلتی ایئر بیس تھا۔ اس اڈے پر امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے اور دیگر طیارے تعینات رہے ہیں۔ اُردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بحرین اور کویت نے کہا کہ انہوں نے آنے والے حملوں کو روک لیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دفتر کے ٹیلی گرام چینل کی پوسٹ پر انہوں نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے ترکی اور سعودی عرب میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ گفتگو میں ’جوابی کارروائی سمیت دفاع کے اپنے بنیادی حق‘ پر زور دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کے روز ٹیلی وژن پر کہا کہ ’ایران نئے حملوں کے بعد جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔‘

اس دوران تنازع کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔ ایک باخبر اہل کار نے معاملے کی حساسیت کی شرط پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکہ سے مذاکرات سے متعلق مشاورت کے بعد قطر کا ایک وفد بدھ کے روز تہران پہنچا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے جاری تحقیقات کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایران اور امریکہ میں حالیہ جھڑپیں امریکی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی ڈرون سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہونے کے بعد شروع ہوئیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ تصادم جان بوجھ کر ہوا یا اس کی نوعیت حادثاتی تھی۔
ایک ڈرون کشتی نے ہیلی کاپٹر کے عملے کے دونوں ارکان کو بچا لیا، اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دونوں محفوظ ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن پھر کہا کہ یہ بہت زیادہ وقت لے رہا ہے
صدر ٹرمپ نے امریکی ہیلی کاپٹر کی تباہی کا الزام ایران پر لگانے سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی تھی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ ان کی اس امید کی وجہ کیا ہے؟
صدر ٹرمپ نومبر میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہیں اور بظاہر جلد کوئی نتیجہ چاہتے ہیں، لیکن وہ ایران سے ایسے مطالبات بھی کر رہے ہیں جو ایران کے لیے قبول کرنا مشکل ہیں۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کر دے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے، لیکن یہ یورینیم تکنیکی طور پر ہتھیار بنانے کے درجے کے قریب ہے۔

ایران یورینیم چھوڑنے سے انکار کر رہا ہے اور پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ کسی حتمی معاہدے سے پہلے ہی منجمد اثاثے جاری کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، جسے صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ ان اختلافات کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے، اور صدر ٹرمپ بار بار مذاکراتی عمل سے الگ ہونے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ بدھ کے روز ان کی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ایران پر الزام لگایا گیا کہ وہ ’معاہدے میں بہت زیادہ وقت لے رہا ہے، جو ان کے لیے بہت اچھا ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘
دوسری جانب ایران مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ جنگ ختم کرنے والا کوئی بھی معاہدہ اس کے اتحادی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کو بھی ختم کرے۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے اس گروہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
لبنان کی سرکاری قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صور کے مشرق میں ایک گاؤں پر فضائی حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنوبی شہر صیدا میں ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو مزید افراد بھی مارے گئے۔












