ایران اپنی افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا: صدر ٹرمپ
جمعرات کو صدر ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنی افزودہ اور ذخیرہ شدہ یورینیم دینے پر رضامند ہو گیا ہے اور فریقین امن معاہدے کے ’قریب‘ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے اسلام آباد میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران پر بمباری اور ابنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔
ایک روز قبل ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے ہی ایک محاذ پر لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا بھی اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنما ’چار یا پانچ روز‘ میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔
لبنان کی یہ جنگ بندی امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ بندی کے کچھ روز بعد ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان امریکہ و ریران کے درمیان مذاکرات کے ایک دور کے انعقاد کے حوالے سے کوششیں کر رہا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل کو ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا، جہنوں نے پچھلے ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی، تاہم یہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
امریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’اگر ایران نے غلط انتخاب کیا تو ناکہ بندی ہو گی اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور پاور پلانٹس پر بم گرائے جائیں گے۔‘
اس کے تھوڑی دیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ ایک اچھا موقع ہے اور ہم تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان جانے پر بھی غور کریں گے۔
’وہ ہمیں جوہری دھول دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں‘، یہ لفظ افزودہ شدہ یورینیم کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔