سعودی پروجیکٹ: یمن میں ایک ہزار 906 دھماکہ خیز ڈیوائسز ہٹایا گیا
5 لاکھ 55 ہزار734 بارودی سرنگوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے یمن کے مختلف علاقوں سے مزید ایک ہزار 906 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان میں ایک ہزار 815 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس اور 9 اینٹی پرسنل مائنز، 68 اینٹی ٹینک مائنز اور 14 دیسی ساختہ بم شامل ہیں۔
مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 55 ہزار 734 بارودی سرنگوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے موومنٹ کر سکیں۔

مسام پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں جدید آلات فراہم کیے جاتے ہیں، دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہونے والے یمنیوں کی مدد بھی کی جاتی ہے۔
سعودی عرب، شاہ سلمان مرکز کے ذریعے یمن کی سرزمین سے بارودی سرنگیں صاف کرنے، شہریوں کے تحفظ اور لوگوں کو محفوظ اور باوقار ماحول میں رہنے کے قابل بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
