Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کی قیمت کتنی ہے اور کیا یہ واقعی خالص سونے کی بنی ہے؟

ہر چار سال بعد جب فیفا ورلڈ کپ کا فاتح کپتان سنہری ٹرافی اٹھاتا ہے تو وہ لمحہ دنیا بھر کے کروڑوں فٹ بال شائقین کے لیے یادگار بن جاتا ہے۔ 
دنیا کی ہر قومی فٹبال ٹیم اور ہر پیشہ ور فٹ بالر کا خواب اسی ٹرافی کو اپنے ہاتھوں میں تھامنا ہوتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کی اس مشہور ترین کھیلوں کی ٹرافی کی اصل قیمت کتنی ہے، یہ کس دھات سے بنی ہے اور کیا فاتح ٹیم اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟
فیفا کے مطابق موجودہ ورلڈ کپ ٹرافی 36.8 سینٹی میٹر بلند اور 6.175 کلوگرام وزنی ہے۔ اسے 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے جبکہ اس کی بنیاد پر سبز رنگ کے قیمتی پتھر ’ملاکائٹ‘ نصب ہیں، جو اس کے منفرد ڈیزائن کا حصہ ہیں۔
اگرچہ اسے سونے کی ٹرافی کہا جاتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ٹھوس یا خالص سونے کی نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر پوری ٹرافی خالص سونے سے بنائی جاتی تو اس کا وزن قریباً 70 سے 80 کلوگرام تک پہنچ جاتا، جسے اٹھانا ناممکن ہوتا۔
امریکی نشریاتی ادارے یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی حالیہ قیمتوں کے باعث صرف ٹرافی میں استعمال ہونے والے سونے کی مالیت ’سات لاکھ ڈالر‘  (قریباً 20 کروڑ پاکستانی روپے) سے زیادہ ہو چکی ہے، تاہم اس کی اصل اہمیت صرف دھات کی قیمت سے کہیں بڑھ کر ہے۔

موجودہ ورلڈ کپ ٹرافی اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا نے ڈیزائن کی تھی (فائل فوٹو: فیفا)

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹرافی کی تاریخی اہمیت، نایاب حیثیت اور علامتی وقار کو مدنظر رکھا جائے تو اس کی مجموعی مالیت ’دو کروڑ ڈالر‘ (قریباً ساڑھے پانچ ارب پاکستانی روپے) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
موجودہ ورلڈ کپ ٹرافی اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا نے ڈیزائن کی تھی اور اسے پہلی مرتبہ 1974 کے فیفا ورلڈ کپ میں استعمال کیا گیا۔ اس کے ڈیزائن میں دو انسانی پیکر زمین کو اپنے ہاتھوں میں بلند کیے ہوئے دکھائے گئے ہیں، جو عالمی اتحاد اور کامیابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم اصل ٹرافی ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔ 

اس سے قبل 1930 سے 1970 تک جولس ریمے ٹرافی ورلڈ کپ کی علامت تھی (فائل فوٹو: فیفا)

فیفا کے قواعد کے مطابق اصل ٹرافی کی ملکیت فیفا کے پاس رہتی ہے۔ فاتح ٹیم صرف ایوارڈ تقریب اور چند سرکاری مواقع پر اصل ٹرافی کے ساتھ جشن مناتی ہے، جس کے بعد اسے دوبارہ فیفا کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ 
بعد ازاں چیمپیئن ٹیم کو سونے کی ملمع کاری (گولڈ پلیٹڈ) والی نقل دی جاتی ہے، جو متعلقہ قومی فٹبال فیڈریشن کے پاس محفوظ رہتی ہے۔
اس سے قبل 1930 سے 1970 تک جولس ریمے ٹرافی ورلڈ کپ کی علامت تھی۔ برازیل نے 1970 میں تیسری مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کے بعد اسے مستقل طور پر اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل کیا، لیکن 1983 میں یہ ٹرافی ریو ڈی جنیرو سے چوری ہو گئی اور آج تک برآمد نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد فیفا نے موجودہ ورلڈ کپ ٹرافی کو مستقل ٹرافی کے طور پر متعارف کرایا۔

فیفا کے مطابق ٹرافی عام نمائش کے لیے نہیں رکھی جاتی بلکہ اسے میوزیم میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا جاتا ہے (فائل فوٹو: فیفا)

فیفا کے مطابق اصل ٹرافی عام نمائش کے لیے نہیں رکھی جاتی بلکہ اسے زیورخ، سوئٹزرلینڈ میں واقع فیفا میوزیم میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف مخصوص مواقع، جیسے ورلڈ کپ ٹرافی ٹور، قرعہ اندازی اور فائنل کی تقریب کے لیے میوزیم سے باہر لائی جاتی ہے۔
اگرچہ ورلڈ کپ ٹرافی کی مالی قیمت لاکھوں یا کروڑوں ڈالر میں لگائی جا سکتی ہے، لیکن فٹ بال کی دنیا میں اس کی اصل قدر کسی بھی رقم سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل میں عالمی چیمپیئن ہونے کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے۔

شیئر: