اگلے روز شام کو دوستوں کے ساتھ ایک ریستوران میں چائے پی رہا تھا۔ سامنے بڑی ایل ای ڈی سکرین پر پی ایس ایل کا ایک میچ چل رہا تھا۔چائے پیتے، گپ شپ کرتے میری نظر سامنے ٹی وی پر چلی جاتی تھی۔
سمیر منہاس بیٹنگ کر رہا تھا۔ انیس بیس سال کا لڑکا، اسلام آباد یونائیٹڈ کا، اور ایسے شاٹس کھیل رہا تھا کہ دیکھنے والوں کا دل خوش ہو جائے۔ پانچ میچز میں 200 سے زیادہ رنز، اوسط 90، اور اعتماد ایسا جیسے برسوں سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہا ہو۔
ایک دوست نے جوش میں کہا کہ ’یہ لڑکا اگلا بابر اعظم ہے۔‘ میں نے مسکرا کر کہا کہ ’بھائی پہلے اسے چند انٹرنیشنل سیریز کھیلنے دیں، پھر بات کریں۔‘ دوست نے ناراضی سے دیکھا مگر میں نے جو بات کہی وہ بددلی سے نہیں کہی تھی، یہ برسوں کے ناخوش گوار، دُکھی کر دینے والے تجربات کی روشنی میں تھی۔
مزید پڑھیں
-
پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر حیران کر دیا، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 901788
پی ایس ایل پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا شو کیس ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اس بار گیارہویں ایڈیشن میں آٹھ ٹیمیں ہیں، پہلی بار آکشن سسٹم آیا ہے، حیدرآباد کنگزمین اور راولپنڈیز نئی فرنچائزز ہیں۔
نئے لڑکے نظر آرہے ہیں اور کچھ تو واقعی متاثرکن ہیں۔ سمیر منہاس کے علاوہ اس کے بڑے بھائی عرفات منہاس ملتان سلطانز سے کھیل رہے ہیں- بولنگ بھی، بیٹنگ بھی، سٹرائیک ریٹ 180 سے اوپر۔
معاذ صداقت حیدرآباد کنگزمین میں ہیں، 20 سال کا لڑکا جس نے گذشتہ سال پاکستان شاہینز کا پلیئر آف دی ٹورنامنٹ ایوارڈ جیتا تھا۔ عبید شاہ لاہور قلندرز سے، نسیم شاہ کا چھوٹا بھائی، 20 سال کا، رفتار اور سوئنگ دونوں میں کمال۔
شرجیل خان نے واپسی کی ہے، وزن بھی کم ہوا ہے اور فٹنس بھی بہتر ہوئی ہے۔ شان مسعود کو لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ یہ ٹی20 مٹیریل نہیں ہے، وہ بھی اس بار جارحانہ انداز سے کھیل رہے ہیں اور بہتر فارم میں نظر آرہے ہیں۔

بابراعظم نے پشاور زلمی کی جانب سے کئی شاندار اننگز کھیلی ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر اس بار پی ایس ایل کا نظارہ زیادہ خوش گوار ہے۔
سوال مگر وہی ہے جو ہر پی ایس ایل کے بعد پوچھا جاتا ہے اور ہر بار بے جواب رہ جاتا ہے، یہ لڑکے جب انٹرنیشنل کرکٹ میں جاتے ہیں تو کیا ہو جاتا ہے؟
شاہین شاہ آفریدی کو دیکھیں۔ شاید 2022 کا زمانہ تھا جب وہ دنیا کا بہترین فاسٹ بولر نظر آرہا تھا۔ نئی گیند کا خطرناک بولر، اکثر پہلے اوور میں وکٹ مل جاتی، اس کا لیٹ اِن کٹر بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔
آج حال یہ ہے کہ فارم میں مسلسل گراوٹ، فٹنس کے مسائل، اس بار تو اسی فرسٹریشن میں ایک پی ایس ایل میچ میں بال ٹیمپرنگ کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
شاداب خان پی ایس ایل کے تین ٹائٹلز جتوا چکے ہیں مگر انٹرنیشنل سطح پر بولنگ میں وہ کاٹ غائب ہے جو 2018 میں تھی۔ حارث رؤف بِگ بیش میں 20 وکٹیں حاصل کر آئے مگر قومی ٹیم میں وہ تسلسل برقرار نہ رہا۔
صائم ایوب نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کیا۔ حسن نواز نے کیسی تہلکہ خیز انٹری ماری تھی۔ نیوزی لینڈ میں سینچری بنا ڈالی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟
ماضی میں حسن علی بھی ایک مثال ہیں۔ محمد علی، خوشدِل شاہ وغیرہ پی ایس ایل میں پرفارم کرتے ہیں، انٹرنیشنل کرکٹ میں بُری طرح مایوس کن کھیلے۔
فہرست طویل ہے۔ ابتدا میں یہ کھلاڑی چونکاتے ہیں، پھر کچھ ہی عرصے بعد فارم ڈاؤن، پھر وہ لمبی خاموشی جس میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا۔
یاد رہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں، مگر پاکستان میں یہ سب سے زیادہ شدید ہے۔ آئی پی ایل سے نکلنے والے انڈین کھلاڑیوں کا ریکارڈ دیکھیں تو وہ بھی مِلا جُلا ہے مگر وہاں ایک سسٹم ہے جو کھلاڑی کو سنبھالتا ہے۔

ہمارے ہاں وہ سسٹم ابھی تک نامکمل ہے۔ وہاں آئی پی ایل کے کئی سٹارز انٹرنیشنل کرکٹ کے بھی سُپرسٹار ثابت ہوئے، ابھیشیک شرما، سنجو سیمسن اور کئی دُوسرے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔پچھلے کچھ عرصے میں اس حوالے سے کئی مقامی ماہرین سے گفتگو ہوتی رہی۔ کرکٹ کے حوالے سے لکھنے والے دوست، ایک ریٹائرڈ فرسٹ کلاس کرکٹر، اور ایک صاحب جو پی سی بی کے ساتھ کوچنگ سیٹ اپ میں کام کر چکے ہیں۔ سب کی باتوں کا خلاصہ ملتا جلتا نکلا۔
پہلی بات: پِچوں کا معاملہ
پی ایس ایل میں پِچیں اکثر بیٹنگ فرینڈلی بنائی جاتی ہیں، باؤنڈریز بھی چھوٹی۔ یہ فرنچائزز کا مطالبہ بھی ہوتا ہے کیونکہ بڑے سکور، چھکے، اونچے ٹوٹل، یہ سب ناظرین لاتے ہیں۔ لاہور اور کراچی دونوں وینیوز پر اس بار بھی یہی ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 13 میچز میں سے صرف دو میں 200 سے اوپر سکور ہوا مگر پھر بھی پچیں وہ چیلنج نہیں دیتیں جو آسٹریلیا، انگلینڈ یا جنوبی افریقہ میں ملتا ہے۔ لڑکا یہاں چھکے مار کر آتا ہے، پھر میلبرن یا پرتھ وغیرہ میں ایسی پچ ملتی ہے جہاں گیند سیم اور باؤنس دونوں کرتی ہے اور سب غائب۔
دوسری بات: بولرز کی رفتار کا معاملہ
ایک تجربہ کار صاحب جو کوچنگ سے جُڑے رہے ہیں، کہتے تھے کہ پی ایس ایل میں فاسٹ بولرز فل سپیڈ سے بولنگ نہیں کراتے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ انجری ہو جائے گی اور فرنچائز کا کنٹریکٹ خطرے میں پڑے گا، اگلا انٹرنیشنل ٹور بھی۔
ایک فاسٹ بولر جو پی ایس ایل میں ایک سو تیس، ایک سو پینتیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرا رہا ہے، وہ انٹرنیشنل میچ میں جہاں سامنے بین سٹوکس، ٹریوس ہیڈ یا سوریا کمار یادو، ابھیشیک شرما وغیرہ ہیں، ایک سو چالیس، ایک سو پینتالیس پلس رفتار درکار ہوتی ہے، یوں ان کا سٹیمنا نہیں بن پاتا۔
دوسری طرف یہی مسئلہ پی ایس ایل میں بیٹنگ کرنے والے نوجوانوں کا ہے۔ ایک سو تیس، ایک سو پینتیس کی سپیڈ پر بیٹنگ کرنے والے کو جب 90 میل پلس کی رفتار سے بولر کو کھیلنا پڑے تو وہ مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔
ان کے پُل اور ہُک شاٹ ٹھیک سے ٹائم نہیں ہو پاتے اور تکنیک میں خامیاں انہیں جلد آؤٹ کرا دیتی ہیں۔ اس بار بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر ناہید رانا پی ایس ایل کھیل رہے ہیں، اس کی سپیڈ خاصی زیادہ ہے تو یہی مسئلہ اکثر مقامی بیٹرز کو درپیش ہے۔

پی ایس ایل میں غیر ملکی کرکٹرز ہوتے ہیں مگر وہ بھی لیگ موڈ میں ہوتے ہیں، ایونٹ موڈ میں نہیں۔ آئی پی ایل میں چونکہ معاوضے سب سے زیادہ ہیں، اس لیے وہاں دنیا کے قریباً تمام نامور کرکٹرز کھیلتے ہیں۔
دنیا کے 10 بہترین بولرز میں سے پاکستانی نکال کر شاید سب وہاں کھیلتے ہیں۔ ربادا، نوکیے، مارکو یانسن، کمنز، سٹارک، ہیزل وڈ، سیم کرن، جوفرا آرچر وغیرہ پی ایس ایل نہیں کھیلتے مگر یہ سب آئی پی ایل میں کھیلتے ہیں۔
اس کا فائدہ نوجوان انڈین کھلاڑیوں کو پہنچتا ہے جنہیں ورلڈ کلاس بولنگ انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے بغیر ہی کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اب جس نے عادل رشید، کیشو مہاراج، تبریز شمسی، زمپا اور سری لنکن کے ساتھ بہترین انڈین سپنرز کو آئی پی ایل میں کھیل لیا، انٹرنیشنل کرکٹ میں وہ پھر آسانی سے کسی سپنر کے ہاتھوں تنگ نہیں ہوسکتا۔
پی ایس ایل کی مجبوری ہے کہ زیادہ معاوضے نہیں دے سکتے، مگر ایک آدھ جگہ پر ایسی پچ بننی چاہیے جہاں بولرز کو سپورٹ ملے اور بلے باز جدوجہد کریں۔اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں ہمیں کسی جگہ تیز پچ، کہیں پر سلو ٹرننگ پچز بنانی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ حاصل ہو۔
تیسری اور سب سے اہم بات: تکنیکی خامیوں کا معاملہ
ہمارے ہاں جو نئے لڑکے آتے ہیں ان میں خام ٹیلنٹ بہت ہوتا ہے۔ سمیر منہاس کی بیٹنگ دیکھیں تو ٹائمنگ کمال کی ہے، فٹ ورک اچھا ہے۔ اس کے ساتھ ممکن ہے ایسا نہ ہو، مگر بہرحال عمومی بات کہہ رہا ہوں کہ انٹرنیشنل سطح پر ہر کھلاڑی کے بہت تفصیلی ویڈیو اینالسز کیے جاتے ہیں۔ اس کی ہر کمزوری ایکسپوز ہو جاتی ہے۔آف سٹمپ کے باہر کی گیند پر شاٹ سلیکشن، شارٹ بال کے خلاف تکنیک، سپن کے خلاف فٹ موومنٹ۔ کون سا شاٹ وہ اچھا کھیلتا، کہاں پر پھنستا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ باریکیاں ہیں جو پی ایس ایل میں نظر نہیں آتیں مگر انٹرنیشنل میدان میں فیصلہ کن ہوتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ لڑکے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے اس درجے کی محنت نہیں کرتے جو درکار ہے۔ پی ایس ایل میں کامیابی مل جاتی ہے تو ایک غلط اعتماد آ جاتا ہے کہ ہم تیار ہیں۔
بابر اعظم پاکستان کا بہترین بلے باز ہے، مگر اس پر اتنا زیادہ ورک مخالف باولرز کر چکے ہیں کہ بابر کو اکثر کھبے سپنر کی اندر آتی گیند پر یا رائٹ آرم لیگ سپنر کی گگلی پر پھنسا لیا جاتا ہے۔ بابر اعظم اچھی بھلی سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود اس پر ٹھیک سے کام نہیں کر پایا اور اکثر اپنی وکٹ گنوا بیٹھتا ہے۔
ہمارے بہت سے تجزیہ کار، جن میں بدقسمتی سے خاکسار خود بھی شامل ہے، ہم بعض اوقات کسی نئے کھلاڑی کو دیکھ کر بہت جلدی فیصلہ سنادیتے ہیں کہ ’یہ اگلا وسیم اکرم ہے‘ یا ’یہ اگلا بابر ہے‘ ۔ ہم سب یہ کرتے ہیں۔ مگر وسیم اکرم بننے کے لیے صرف ٹیلنٹ نہیں چاہیے، برسوں کی مسلسل محنت، تکنیک کی باریکیوں پر کام، فٹنس کا سنجیدہ پروگرام اور سب سے اوپر ذہنی مضبوطی چاہیے جو ایک ورلڈ کپ فائنل میں آخری اوورز میں باولنگ کرنے کی ہمت دے۔ یہ چیزیں پی ایس ایل نہیں سکھاتی۔

اس کا جواب کیا ہے؟ آسان جواب نیشنل کرکٹ اکیڈمی ہے۔ لاہور میں این سی اے موجود ہے، کراچی اور ملتان میں بھی ہائی پرفارمنس سینٹرز ہیں۔ پی سی بی نے سولہ ریجنل اکیڈمیز بنانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے اور فروری 2026 میں پندرہ شہروں میں اوپن ٹرائلز بھی ہوئے جن میں عاقب جاوید، مصباح الحق اور عبدالرزاق نے ساڑھے تین سو کھلاڑیوں کو منتخب کیا۔ یہ سب اچھے اقدامات ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ سسٹم کتنا مؤثر ہے اور کتنا مسلسل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ این سی اے کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ان کا ہدف 2027 تک قابلِ پیشگوئی انجریز میں پچیس فیصد کمی لانا ہے، ویڈیو اینالسز ٹیکنالوجی سے ہر ماہ تین ذاتی نوعیت کی رپورٹس بنانا ہے، اور فٹنس میٹرکس میں دس فیصد بہتری لانا ہے۔
یہ سب کاغذ پر بہت اچھا لگتا ہے مگر گراونڈ ریالیٹیز مختلف ہیں۔ایک صاحب جو این سی اے کے سسٹم سے واقف ہیں، کہتے تھے کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی این سی اے میں آتے ہیں، دو تین ہفتے رہتے ہیں، ایک ڈویلپمنٹ پلان ملتا ہے، پھر واپس جاتے ہیں اور وہ پلان کبھی فالو نہیں ہوتا۔ کوئی فالو اپ نہیں، کوئی اکاونٹیبلٹی نہیں۔‘
ہمارے ہاں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پی ایس ایل کو ہی انٹرنیشنل کرکٹ کی تیاری سمجھ لیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی نیٹ پریکٹس میں اچھی باولنگ کر لے اور سمجھے کہ وہ ٹیسٹ میچ کے لیے تیار ہے۔
پی ایس ایل ایک ٹی 20 لیگ ہے۔ یہ ٹیلنٹ دکھانے کا پلیٹ فارم ہے، ٹیلنٹ پالش کرنے کا نہیں۔ پالش کرنے کا کام اکیڈمی کا ہے، ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کا ہے، قائداعظم ٹرافی کا ہے۔ مگر ہم نے قائداعظم ٹرافی کو ایسے نظرانداز کیا ہے جیسے وہ کوئی محلے کا ٹورنامنٹ ہو۔ پی سی بی نے 2025 میں ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کی لائیو سٹریمنگ شروع کی، یہ اچھا قدم ہے، مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔
اس لیے چند باتیں واضح طور پر کہنی ہیں۔ پہلی یہ کہ این سی اے کو صرف کیمپ لگانے والا ادارہ نہیں، مسلسل نگرانی والا ادارہ بننا ہو گا۔ جو کھلاڑی پی ایس ایل سے ابھرے، ان کی تکنیکی کمزوریوں کی فوری نشاندہی ہو، ایک ذاتی نوعیت کا ڈویلپمنٹ پلان بنے، اور اس پلان پر عمل درآمد کی ماہانہ رپورٹنگ ہو۔
دوسرا یہ کہ پی ایس ایل کے بعد منتخب کھلاڑیوں کا لازمی این سی اے میں تفصیلی کیمپ لگایا جائے جہاں انہیں انٹرنیشنل معیار کی باولنگ مشینز، ویڈیو اینالسز اور مینٹل کنڈیشننگ دی جائے۔
تیسری اور بہت اہم بات یہ کہ ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کی اہمیت اور کوالٹی بحال کی جائے۔ قائداعظم ٹرافی میں کارکردگی کو نیشنل سلیکشن میں پی ایس ایل جتنا ہی وزن ملے، بلکہ ریڈ بال کرکٹ میں زیادہ۔
چوتھا نکتہ یہ ہے کہ فٹنس کے سنجیدہ بینچ مارکس ہوں اور جو کھلاڑی ان پر پورا نہ اترے، وہ نیشنل ٹیم کے لیے اہل نہ سمجھا جائے، بے شک اس نے پی ایس ایل میں کتنے ہی رنز بنائے ہوں۔
پانچواں کام بظاہر سب سے مشکل مگر بہت اہم ہے۔ ذہنی تربیت کا مستقل پروگرام ہو۔ سپورٹس سائیکالوجسٹ کا تعین ہو جو نہ صرف ٹیم کے ساتھ ٹور پر جائے بلکہ این سی اے میں بھی مسلسل کام کرے۔
ایک اور بات جو اہم ہے کہ ہمارے لڑکوں کو غیر ملکی لیگز میں بھی جانا چاہیے۔ آئی پی ایل کا دروازہ بند ہے، یہ سیاسی معاملہ ہے۔ مگر بگ بیش، سی پی ایل، بی پی ایل، سری لنکا پریمیر لیگ، انگلش لیگز وغیرہ، یہ سب پلیٹ فارمز ہیں جہاں پاکستانی کھلاڑی مختلف حالات، مختلف پچوں اور مختلف معیار کے مقابلے سے گزرے گا۔

حارث روف نے بگ بیش میں بیس وکٹیں لیں تو اس کا فائدہ نظر آیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ سب کو یہ مواقع نہیں ملتے اور جنہیں ملتے ہیں وہ ہمیشہ اس تجربے سے سیکھتے نہیں۔
پی سی بی نے پی ایس ایل کے علاوہ دو انٹرنیشنل لیگز میں شرکت کی اجازت دے رکھی ہے، کچھ کھلاڑیوں کے لیے یہ ٹھیک ہے، مگر چند ایک کھلاڑی جو صرف ٹی 20 کرکٹ کھیلتے ہیں، نوجوان ہیں اور ان کے انجریز کے مسائل ویسے نہیں، انہیں تین لیگز میں کھیلنے کی اجازت دینی چاہیے۔ خاص کر نوجوان آل رائونڈرز، ہٹرز کو۔
ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پیسے کا معاملہ۔ پی ایس ایل میں اب آکشن سسٹم آ گیا ہے، کروڑوں کی بولیاں لگ رہی ہیں۔ سمیر منہاس انیس لاکھ میں بکا، فہیم اشرف ساڑھے آٹھ کروڑ میں۔ جب ایک بیس سال کے لڑکے کو اتنی رقم ملتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ لڑکا جو پی ایس ایل میں ہیرو بن کر کروڑوں کما رہا ہے، اسے انٹرنیشنل کرکٹ کی محنت اور مشقت ایک بوجھ لگنے لگتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ تو خیر اور بھی مشکل ہے- پانچ دن، سخت پچیں، کم پیسے۔ یہ ایک ایساسٹرکچرل مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں ہے مگر ہمارے ہاں اس کا اثر زیادہ ہے کیونکہ ہمارا سسٹم اتنا مضبوط نہیں کہ لڑکے کو صحیح سمت دکھا سکے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پی ایس ایل بے فائدہ ہے۔ بالکل نہیں۔ پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ کو بہت کچھ دیا ہے۔ یہ ٹیلنٹ کی پہچان کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کے بغیر سمیر منہاس، عرفات منہاس، معاذ صداقت اور بعض دیگر نام شاید کبھی سامنے نہ آتے۔ پہچان اور تیاری مگر دو مختلف چیزیں ہیں۔ پی ایس ایل ٹیلنٹ دکھاتا ہے۔ ٹیلنٹ کو ورلڈ کلاس کرکٹر میں بدلنے کا کام اکیڈمی، کوچنگ، ڈومیسٹک کرکٹ اور خود کھلاڑی کی محنت سے ہوتا ہے۔ ہم نے ابھی تک وہ پل نہیں بنایا جو پی ایس ایل کے سٹیج سے انٹرنیشنل کرکٹ کے میدان تک لے جائے۔
سوچتا ہوں، جب تک یہ پل نہیں بنے گا، ہم ہر سال نئے ستارے دیکھیں گے اور ہر سال انہیں دھندلاتا ہوا بھی دیکھتے رہیں گے۔ آپ بھی سوچیے گا۔












