پاکستان کو وہ فتح مل گئی جس کی ضرورت تھی، عامر خاکوانی کا تجزیہ
پورٹ آف سپن، دوسرے ٹیسٹ کا چوتھا دن: بولر تھے ویسٹ انڈین سپنر جومیل وریکن۔ بابر اعظم کریز سے باہر آئے اور لانگ آن پر ایک شاندار چھکا لگا دیا۔ اگلی گیند پر پھر بابر اعظم آگے بڑھے اور لانگ آف پر ایک بڑا فلک بوس چھکا لگا کر پاکستان کو دوسرا ٹیسٹ جتوا دیا۔ یوں ٹیسٹ سیریز ایک، ایک سے برابر ہوگئی۔
مجھے لیجنڈری سپنر بشن سنگھ بیدی کی سوانح میں لکھا ایک واقعہ یاد آیا کہ نومبر 1978 کی پاکستان، انڈیا تاریخی سیریز میں اسی طرح ان کی بولنگ پر عمران خان نے کریز سے باہر آ کر دو بلند و بالا چھکے لگائے اور پاکستان کو ٹیسٹ میچ جتوا دیا تھا۔ اس میچ میں بھی پاکستان آٹھ وکٹوں سے جیتا تھا اور کھبے سپنر کو آخر میں دو چھکے لگے تھے۔
بابر اعظم کی بیٹنگ دیکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ ان کا سٹائل نہیں۔ وہ گراؤنڈڈ شاٹس کھیلنا پسند کرتے ہیں، جیسے کور ڈرائیو، سکوائر ڈرائیو، آف ڈرائیو، آن ڈرائیو، کٹ اور گلانس وغیرہ۔ یوں سپنر کو باہر نکل کر گیند اٹھا کر گراؤنڈ سے باہر پھینکنا بابر اعظم کا روایتی انداز نہیں۔ حالیہ پی ایس ایل میں البتہ بابر نے اس کا کہیں کہیں مظاہرہ کیا تھا۔ یہ چھکے بابر اعظم کے اعتماد اور فاتحانہ انداز کی علامت تھے۔ انہوں نے ایک شان اور گریس کے ساتھ میچ کو فنش کیا۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کسی سپورٹس تجزیہ نگار کے لیے شاید یہ ایک عام فتح ہو۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ رینکنگ خاصی نیچے ہے، اس لیے انہیں ایک میچ ہرانا شاید کسی کو کچھ خاص نہ لگے، مگر پاکستان کے لیے یہ شاندار جیت ہے۔
پاکستان نے تقریباً تین سال بعد بیرونِ ملک کسی ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل کی۔ آخری بار پاکستان 27جولائی 2023 کو سری لنکا کے خلاف کولمبو میں کامیاب ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تب بھی بابر اعظم ہی کپتان تھے۔ یوں بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی میں پاکستان کو خاصے عرصے بعد وہ فتح اور کامیابی ملی، جس کی اسے تمنا تھی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلسل آٹھ ٹیسٹ بیرونِ ملک ہار چکا تھا۔
بابر اعظم کو کپتان بنانا اور سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ مقرر کرنا پاکستان کے لیے اچھا فیصلہ ثابت ہوا۔ گو پہلا ٹیسٹ ٹیم ہار گئی، مگر دوسرے میچ میں بھرپور کم بیک کیا اور آٹھ وکٹوں سے نہ صرف میچ جیتا بلکہ اپنی روایت کے برعکس کسی غیر ضروری سنسنی یا ڈرامائی موڑ کے بغیر کامیابی حاصل کی۔ یہ بات دیکھ کر زیادہ اچھا لگا۔
پاکستانی بولنگ اور بیٹنگ دونوں اچھی رہیں
اس ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹنگ کا کردار زیادہ اہم اور غیر معمولی رہا، خاص کر پہلی اننگ میں عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے جو شاندار پارٹنرشپ بنائی، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ شائقین خوب محظوظ ہوئے۔ عبداللہ شفیق نے بڑی عمدہ بیٹنگ کی، سالڈ ڈیفنس، خوبصورت سٹروکس اور کبھی باہر نکل کر اونچے چھکے بھی لگائے۔ یہ ایک شاندار ٹیسٹ اننگ تھی۔ انہوں نے 167 بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ اگر پاکستانی لوئر آرڈر ان کا ساتھ دیتا تو ممکن ہے عبداللہ شفیق ڈبل سنچری بھی کر جاتے۔ عبداللہ شفیق کو بجا طور پر مین آف دی میچ ایوارڈ ملا۔ شفیق کے ایک سو ساٹھ رنز ویسٹ انڈیز میں کسی پاکستانی کی جانب سے 1977 میں گیانا میں ماجد خان کے ایک سو سڑسٹھ رنز کے بعد پہلا ڈیڑھ سو پلس سکور ہے، یعنی انچاس سال کے وقفے کے بعد۔
بابر اعظم نے بھی بہت اچھی بیٹنگ کی۔ ان کی بلے بازی کے بارے میں اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں شاعرانہ انداز کی جمالیاتی خوبصورتی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نہایت اعلیٰ تکنیک کے ساتھ بابر نے وکٹ کے چاروں طرف دلکش سٹروکس کھیلے، عمدہ دفاع بھی پیش کیا اور سنگلز لیتے رہے۔ بدقسمتی سے وہ عجلت میں ایک سنگل لینے کے چکر میں 88 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے، ورنہ چار سال بعد وہ اپنی ٹیسٹ سنچری کے بہت قریب تھے۔ بابر آؤٹ ہو گئے، مگر انہوں نے عبداللہ شفیق کے ساتھ بڑی پارٹنرشپ بنا کر پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا۔ بابر اعظم نے پہلے ٹیسٹ میں بھی نصف سنچری بنائی تھی۔ انہیں ویسٹ انڈین کھلاڑی گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔
اس سے پہلے نوجوان اوپنر اذان اویس نے بھی عمدہ نصف سنچری بنا کر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ تجربہ کار اوپنر امام الحق البتہ دونوں اننگز میں مایوس کن رہے۔ یہی معاملہ سلمان آغا اور محمد رضوان کا بھی رہا۔ بطور بلے باز رضوان کے لیے یہ سیریز زیادہ اچھی نہیں رہی۔ وہ اپنی وکٹ گنواتے رہے، ان کی وکٹ کیپنگ بھی اوسط رہی اور بعض آسان چانس بھی انہوں نے چھوڑے۔ رضوان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ٹیم میں متبادل وکٹ کیپر موجود ہے۔
پاکستان کی بولنگ بھی اچھی رہی۔ خاص کر دونوں سپنرز نے عمدہ بولنگ کی۔ دوسری اننگ میں تو انہوں نے کمال کر دیا اور ویسٹ انڈیز کو 117 رنز پر ڈھیر کر کے میچ پاکستان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ساجد خان نے پہلی اننگ میں ویسٹ انڈین لوئر آرڈر کو تباہ کیا اور پھر دوسری اننگ میں ویسٹ انڈین ٹاپ اور مڈل آرڈر کے پرخچے اڑا دیے۔ لیفٹ ہینڈ بلے بازوں کے لیے خاص طور پر ساجد کی ورائٹیز اور گھومتی گیندوں کو سمجھنا مشکل تھا۔
لیفٹ آرم سپنر علی عثمان کا یہ دوسرا ٹیسٹ تھا۔ پہلے میچ میں وہ ناکام رہے، مگر دوسرے میچ میں انہوں نے اچھی بولنگ کرائی۔ پہلی اننگز میں اگرچہ انہیں صرف دو وکٹیں ملیں، مگر دوسری اننگز میں علی عثمان نے چار وکٹیں لے کر اہم کردار ادا کیا۔ فاسٹ بولر محمد علی نے بھی سلو پچ ہونے کے باوجود بہت اچھی لائن و لینتھ پر نپی تلی بولنگ کرائی۔
نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو اس میچ میں بولنگ کا زیادہ موقع نہیں ملا، تاہم پہلی اننگ میں وہ دو وکٹیں لے اڑے۔
پہلے ٹیسٹ میچ میں اچھی بولنگ کرانے اور مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں لینے والے عباس کو دوسرا ٹیسٹ نہیں کھلایا گیا۔ اس پر خاصی تنقید ہوئی۔ قوی امکان تھا کہ عبید شاہ کی جگہ عباس کھیلتے تو پاکستان پہلی اننگ میں زیادہ بہتر بولنگ کرا پاتا، مگر فتح کئی کمزوریوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اب سرخرو ہوئے۔
ٹیل اینڈر مایوس کن رہے
اس میچ میں ایک بار پھر اندازہ ہوا کہ پاکستانی ٹیل اینڈرز، خاص کر نمبر سات سے گیارہ تک کے بلے باز، یکایک ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ اس میچ کی پہلی اننگ میں پاکستان کے 370 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ تھے، پھر ایک ہی اوور میں جومیل وریکن نے تین وکٹیں لے لیں۔
ٹیم مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ ٹیل اینڈرز پر محنت کرے اور انہیں سکھائے کہ کس طرح اپنی وکٹ بچانی ہے۔ خاص کر جب دوسرے اینڈ پر عبداللہ شفیق جیسا سپیشلسٹ بلے باز موجود ہو تو علی عثمان کی طرح اندھا دھند شاٹ کھیلنے کے بجائے گیندیں روک کر وقت گزارا جاتا ہے۔
پاکستانی ٹیم نہایت آسانی سے چالیس، پچاس رنز مزید بنا سکتی تھی، ایسے میں میچ مزید یک طرفہ ہو جاتا۔ ساجد خان نے البتہ اچھی فائٹ کی۔ نوجوان بلے باز اویس ظفر کا یہ ڈیبیو میچ تھا۔ انہوں نے ایک نہایت غیر ذمہ دارانہ ٹی20 طرز کا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا دی۔ اس شاٹ کا نہ وقت تھا اور نہ ہی ضرورت۔ اپنے ڈیبیو کو اس طرح خراب کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی، تاہم نوجوان بلے باز کو مزید مواقع ملنے چاہییں۔
پاکستان کو ایک پیسر کی ضرورت ہے
اس سیریز سے اندازہ ہوا کہ پاکستان کے پاس اچھی سپیڈ والے ٹیسٹ فاسٹ بولرز موجود نہیں۔ محمد عباس تجربہ کار بولر ہیں، بہت اچھی لائن و لینتھ رکھتے ہیں، مگر ان کی سپیڈ اب بہت کم ہو چکی ہے، تقریباً ایک سو بیس، بائیس کلومیٹر فی گھنٹہ۔
محمد علی اور خرم شہزاد دونوں ایک سو تیس، اکتیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کراتے ہیں، یعنی میڈیم فاسٹ بولرز ہیں۔ عبید شاہ کی سپیڈ کے بارے میں کافی باتیں ہو رہی تھیں، مگر وہ بھی ایک سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر نہ جا سکے، حالانکہ اسی میچ میں ویسٹ انڈین بولر شمار جوزف ایک سو چالیس سے زیادہ رفتار سے گیندیں کراتا رہا۔
پاکستان، جہاں دنیا کے تیز ترین فاسٹ بولر پیدا ہوئے، وہاں یہ زوال یقیناً مایوس کن ہے۔
ہمیں ڈومیسٹک سٹرکچر میں ریڈ بال کرکٹ کھیلنے والے اچھی سپیڈ کے فاسٹ بولرز تلاش کرنا ہوں گے۔ ایک آدھ عباس جیسی سپیڈ والا بولر چل جاتا ہے، مگر ٹیم کے بولنگ اٹیک میں ایک دو ایسے تیز بولر لازمی ہونے چاہییں جو اپنی سپیڈ اور باؤنس سے مخالف کو پریشان کر کے آؤٹ کر سکیں۔
عبداللہ شفیق خوش قسمت رہے کہ انہیں موقع مل گیا۔ شان مسعود کی انجری کے باعث ایسا ہوا اور انہوں نے اپنی شاندار بیٹنگ سے ٹیم میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے اچھے بلے باز کو پہلے ٹیسٹ میں کیوں جگہ نہیں ملی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عبداللہ شفیق کو سرے سے ٹیسٹ سکواڈ کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا تھا۔
نوجوان اوپنر عبداللہ فضل کمر کی انجری کے باعث ٹور سے باہر ہوئے تو عبداللہ شفیق کو ریپلیسمنٹ کے طور پر بلایا گیا۔ وہ ایمرجنسی ریپلیسمنٹ کے طور پر میچ سے چند روز پہلے کیریبین پہنچے۔ اس کوتاہی پر سلیکشن کمیٹی کا محاسبہ بنتا ہے کہ اتنے اچھے بلے باز کو سکواڈ میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
ٹیم مینجمنٹ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نام سے قطع نظر اچھی فارم میں موجود کھلاڑیوں کو کھلایا جائے۔ اگر سلمان آغا سے رنز نہیں ہو رہے یا امام الحق اپنی تکنیکی کمزوریوں پر قابو نہیں پا رہے تو متبادل پر غور کرنا چاہیے۔
اب اگلا ٹاسک انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہے۔ پاکستان کو اس جیت سے اعتماد ملا ہوگا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ فتح یقیناً خوش آئند ہے، مگر اصل امتحان اب انگلینڈ میں ہوگا۔
اگر بابر اعظم کی قیادت، عبداللہ شفیق کی فارم، پاکستانی سپنرز کی کامیابی اور ٹیم کا یہی نظم برقرار رہا تو پاکستان وہاں بھی بہتر کرکٹ کھیل سکتا ہے۔ البتہ تیز رفتار فاسٹ بولر کی کمی اور لوئر آرڈر کی کمزور بیٹنگ جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
آل دی بیسٹ، ٹیم پاکستان۔ ویل ڈن!