Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ مکرمہ میں داخلے لیے پرمٹ کیوں ضروری ہے؟

سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے حج سیزن کے آغاز سے قبل ’مکہ پرمٹ‘ کے بارے میں واضح احکامات جاری کر دیے گئے تھے۔ 
پرمٹ کے بغیر کوئی غیرملکی جس کا اقامہ مکہ مکرمہ شہر (بعض افراد منطقہ مکہ کو مکہ شہر تصور کرتے ہیں جوغلط ہے) سے جاری نہیں ہوا اسے پرمٹ کے بغیر مکہ مکرمہ میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
مکہ پرمٹ کے قانون پرعمل درآمد ہوتے ہی شہرِ مقدس کے تمام داخلی راستوں پر موجود چیک پوسٹوں پر 24 گھنٹے کی بنیاد پر چیکنگ کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے جس کا مقصد کسی بھی ایسے شخص کو مکہ داخل ہونے سے روکنا ہے جس کے پاس پرمٹ نہیں۔
مکہ پرمٹ کا مقصد شہرِ مقدس میں بیرون مملکت سے آنے والے لاکھوں عازمین حج کو سہولت پہنچانا ہے تاکہ وہ آرام و سکون سے فریضہ حج ادا کر سکیں۔
محدود جگہ کی وجہ سے لاکھوں فرزندان اسلام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا مقامی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مکہ پرمٹ کے قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے حج سیزن کے آغاز سے ہی مکہ پرمٹ کے بارے میں مسلسل انتباہی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ لوگ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں۔

مکہ پرمٹ کا مقصد شہرِ مقدس میں بیرون مملکت سے آنے والے لاکھوں عازمین حج کو سہولت پہنچانا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

مکہ پرمٹ کی خلاف ورزی پر وزارت داخلہ کی جانب سے 20 ہزار ریال جرمانے کی سزا عائد کی گئی ہے جبکہ وہ افراد جو ان غیرملکیوں کو غیر قانونی طریقے سے حج سیزن کے دوران مکہ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جن کے پاس پرمٹ نہیں ہوتا وہ بھی سنگین جرم کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق کوئی ایسا شخص جو کسی کو وزٹ ویزے پر بلاتا ہے اور اسے حج سیزن میں ممنوعہ مدت (یکم ذی القعدہ سے 14 ذی الحجہ تک) کے دوران مکہ مکرمہ یا مشاعر مقدسہ لے جانے کی کوشش کرے (پرمٹ کے بغیر حج کرنے کے لیے) اس صورت میں بلانے والے پر ایک لاکھ ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا اور جرمانے کی رقم افراد کی تعداد کے مطابق ہوگی (فی شخص ایک لاکھ)۔

 

شیئر: