Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: جسمانی معذوری کا شکار ڈیڑھ فٹ قد کی سُنیتا نے میٹرک کا امتحان کیسے پاس کیا؟

سنیتا کی کامیابی کے پیچھے ان کی والدہ سنجو کی محنت اور قربانیاں بھی شامل ہیں (فوٹو: ای ٹی وی بھارت)
انڈین شہری سنیتا نائک نے ثابت کر دیا کہ ہمت اور عزم قد کا محتاج نہیں ہوتا۔
’ای ٹی وی بھارت‘ کے مطابق محض ڈیڑھ فٹ قد رکھنے والی اس باہمت طالبہ نے تمام تر مشکلات کے باوجود دسویں جماعت کا امتحان کامیابی سے پاس کر لیا، جس پر نہ صرف اس کے اہلِ خانہ بلکہ پورا گاؤں خوشی منا رہا ہے۔
انڈیا کی ریاست اوڈیشہ کے ضلع دھنکنال کے علاقے سرولی گاؤں کی رہائشی سنیتا نائک نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت ہونے والے میٹرک امتحان میں 600 میں سے 309 نمبر حاصل کیے اور ’سی‘ گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔
وہ نگمانند ہائی سکول کی طالبہ تھیں جبکہ انہوں نے اپنا امتحان کنپورہ گاؤں کے پنچایت راج ہائی سکول میں دیا۔
سنیتا جسمانی معذوری کا شکار ہیں اور خود لکھنے سے قاصر ہیں، جس کے باعث امتحان کے دوران ان کے کزن پرتاپ نائک نے بطور رائٹر (سکرائب) ان کی مدد کی۔
پرتاپ کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی بہن کی کامیابی پر بے حد خوش ہوں اور یہ لمحہ میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے۔‘
سنیتا کی کامیابی کے پیچھے ان کی والدہ سنجو کی محنت اور قربانیاں بھی شامل ہیں۔ شوہر بشنو نائک کے تقریباً دس سال قبل انتقال کے بعد سنجو نے نہ صرف گھر کا نظام سنبھالا بلکہ اپنی بیٹی کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
وہ بچپن سے سنیتا کو سائیکل پر سکول لے جاتی رہیں اور ہر مشکل میں اس کا ساتھ دیا۔
سنجو کا کہنا ہے کہ ’بیٹی کی کامیابی میرے لیے بہت بڑی خوشی ہے، تاہم اگر حکومت مدد کرے تو سنیتا مزید تعلیم حاصل کر سکتی ہے۔‘
سنیتا کے گھر کی مالی حالت کمزور ہے، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم کا خواب فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود سنیتا پرعزم ہیں کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور مستقبل میں ایک باوقار روزگار حاصل کر کے اپنے خاندان کا سہارا بنیں گی۔
گاؤں کے لوگوں نے بھی سنیتا کی کامیابی کو سراہا ہے اور اسے اپنی کمیونٹی کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ اہلِ علاقہ اور خاندان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس باہمت طالبہ کی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے۔

شیئر: