Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الشرقیہ ریجن کے مینگروو جنگلات سے سالانہ 21 ٹن خالص شہد کی پیداوار

ساحلی پٹیوں میں پھیلے مینگروو جنگلات سے شہد حاصل کیا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے الشرقیہ ریجن میں شہد کی مکھیاں پالنے والوں اور شہد کے چھتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو قدرتی شہد کی بہترین اقسام تیار کر رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ’مینگروو شہد‘ کی پیداوار کے لیے یہ ریجن مشہور ہے۔ مشرقی ریجن کی ساحلی پٹیوں میں پھیلے مینگروو جنگلات سے شہد حاصل کیا جاتا ہے۔
ساحلی جنگلات کا یہ علاقہ الخفجی ریجن کے شمال سے لے کر سلوی پوسٹ کے جنوبی حصوں تک 610 کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے مشرقی ریجن کے ڈائریکٹر انجینیئر فہد الحمزی نے بتایا کہ علاقے میں چار ہزار سے زائد شہد کے چھتے موجود ہیں۔
 ’ریجن میں شہد کی تجارت سے باقاعدہ طور پر وابستہ افراد کی 44 ہے۔ سالانہ 21 ٹن سے زائد خالص شہد کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مملکت میں شہد کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اعلٰی معیار کے قدرتی شہد اور اس کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خلیجی اور بین الاقوامی مارکیٹیوں میں شہد اور اس کی مصنوعات برآمد کرنے کا اہم موقع موجود ہے۔‘
شہد اور اس کی مصنوعات میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آرہی ہے۔ موم، صابن، خوشبودار تیل اور غذائی مصنوعات جیسے ہنی کیک اور شہد سے تیار کردہ دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
ہر سال جولائی کے آغاز میں شہد کی مکھیاں پالنے والے اپنے چھتے ساحلی علاقوں کے قریب منتقل کر دیتے ہیں کیونکہ یہی مینگروو پھولوں کے کھلنے کا موسم ہوتا ہے۔

یہ چھتے تقریباً تین ماہ تک وہاں رکھے جاتے ہیں جس کے بعد ان سے شہد حاصل کیا جاتا ہے۔
شہد کی مکھیاں ماحولیاتی پائیداری کے علاوہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو ماحولیاتی نظام کے تسلسل میں مدد دیتا ہے۔

 

شیئر: