سفرحج مثالی انتظامات و پرسکون ماحول میں مکمل، حجاج کی واپسی کا آغاز
سفرحج مثالی انتظامات و پرسکون ماحول میں مکمل، حجاج کی واپسی کا آغاز
جمعہ 29 مئی 2026 19:35
ارسلان ہاشمی ۔ اردو نیوز، منیٰ
طواف الوداع کے بعد حجاج کی اپنے ملکوں کو روانگی شروع ہو جائے گی(فوٹو، ایس پی اے)
حج 1447 ہجری بمطابق 2026 مثالی انتظامات کے ساتھ مکمل ہو گیا، 18 لاکھ کے قریب حجاج نے مناسکِ حج روحانی ماحول اور پرسکون انداز میں مکمل کیے، اس دوران کسی قسم کی دشواری یا ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
یوم الترویہ ’8 ذوالجحہ‘ سے لے کر تشریق کے دوسرے دن تک مشاعر مقدسہ میں حجاج کی موومنٹ انتہائی منظم انداز میں جاری رہی۔
حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے لیے عازمینِ حج کو مشاعر مقدسہ ٹرین اور بسوں کے ذریعے مقررہ شیڈول کے مطابق منتقل کیا گیا۔
وقوفِ عرفہ کے بعد حجاج کی مزدلفہ آمد کے مراحل بھی انتہائی منظم انداز میں طے پائے، حجاج نے مزدلفہ کے میدان میں مغرب و عشاء کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں، بعدازاں رمی جمرہ کے لیے کنکریاں چنی اور کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے بعد صبح سویرے وادی منی پہنچ گئے۔
وقوف عرفہ کے دوران حجاج کو گرمی سے بچانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے(فوٹو، اردو نیوز)
مکہ مکرمہ میں مشاعرمقدسہ جانے والے راستوں پر دسیوں چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں، جہاں ہر شخص کا حج پرمٹ اور’نسک کارڈ‘ چیک کیا جاتا رہا۔
چیک پوسٹوں کا مقصد حج آپریشن کو منظم بنانا اور غیر قانونی حج کرنے والوں کو مشاعر میں داخل ہونے سے روکنا تھا، تاکہ بیرون مملکت سے آنے والے حجاج پرسکون انداز میں فریضہ حج ادا کرسکیں۔
مشاعر مقدسے جانے والے تمام راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں(فوٹو، ایس پی اے)
سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ شہری دفاع، اسکاوٹس، رضاکار، ہلال الاحمر، ٹریفک پولیس اور فلاحی تنظیموں کے نمائندے بھی حجاج کی خدمت میں پیش پیش رہے۔
سالِ رواں سعودی حکومت کی جانب سے میدان عرفات خاص کر جبل الرحمہ پر حجاج کو ’لو‘ لگنے سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ جبل الرحمہ کے اطراف میں گراونڈ ایئرکنڈیشنز کا اہتمام قابل ذکر ہے جس کی وجہ سے ماحول بہتر رہا۔
تشریق کے دوسرے دن بھی حجاج نے تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں (فوٹو، علی خمج)
میدان عرفات میں سالِ رواں درختوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا، علاوہ ازیں مختلف مقامات پرحجاج کو سایہ فراہم کرنے اور گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے شیڈز کی تعداد بھی بڑھائی گئی، شیڈز پر پانی کی پھوار برسانے والے خصوصی پنکھے بھی نصب کیے جس کی وجہ سے ماحول کافی ٹھنڈا رہا۔
وزارتِ صحت اور ہلال الاحمر کی کارکردگی مثالی رہی، مشاعر میں جگہ جگہ ہلال الاحمر کے یونٹس تعینات تھے، رواں برس الیکٹرانک ویل چیئرز ایمبولینس کا خصوصی بندوبست تھا جس سے بیمار یا زخمی حاجی کو فوری طور پر فرسٹ ایڈ کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
وقوف عرفہ کے بعد حجاج نے مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے رات گزاری(فوٹو، ایس پی اے)
مشاعر کی صفائی کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنانے کےلیے میونسپلٹی نے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا جبکہ کچرے کو اکھٹا کرنے کے لیے بڑے بڑے ڈمپرز نصب کیے گئے جن میں کچرے کو کمپرس کرکے حج کے بعد انہیں وہاں سے نکالا جاتا ہے۔
نیشنل سیکیورٹی ادارے کی جانب سے مشاعر مقدسہ کی مستقل بنیادوں پرفضائی نگرانی کا عمل جاری رہا۔ مشاعر میں ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا۔
وزارتِ اسلامی امور کی جانب سے رہنمائی کا خاص انتظام تھا(فوٹو، ایس پی اے)
وزارتِ ماحولیات کے خصوصی یونٹس بھی مشاعر میں تعینات تھے جو موسم کے احوال سے مستقل بنیادوں پر مطلع کرتے رہے۔
وزارتِ اسلامی امور و دعوۃ والارشاد کی جانب سے بھی حجاج کی آگاہی کے لیے خاص انتظامات کیے گئے جس کے تحت مختلف زبانوں کے ماہرین کی خدمات حجاج کی رہنمائی کے لیے فراہم کی گئی۔