Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوٹیوب کا نیا فیچر: صارفین اب ’شارٹس‘ مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں؟

صارفین شارٹس دیکھنے کے لیے وقت کی حد صفر منٹ تک مقرر کر سکتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پر اب 'شارٹس' کو مکمل طور بند کیا سکے گا کیونکہ اس کے لیے اب فیچر متعارف کرا دیا گیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نئی اپڈیٹ کے مطابق یوٹیوب کی ’ٹائم مینجمنٹ‘ سیٹنگز میں اب یہ سہولت شامل کر دی گئی ہے کہ صارفین شارٹس دیکھنے کے لیے وقت کی حد صفر منٹ تک مقرر کر سکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں شارٹس فیڈ مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔
یہ فیچر دراصل اس شارٹس ٹائمر کا توسیعی ورژن ہے جس کا اعلان یوٹیوب نے پچھلے سال اکتوبر میں کیا تھا۔
اس وقت صارفین کے لیے کم از کم وقت کی حد 15 منٹ رکھی گئی تھی، تاہم اب اسے کم کر کے صفر منٹ تک لایا گیا ہے۔
جنوری میں اس فیچر کو مزید وسعت دی گئی تھی تاکہ والدین اپنے بچوں کے شارٹس دیکھنے کے دورانیے پر بہتر کنٹرول حاصل کر سکیں، جبکہ اس وقت یہ بھی بتایا گیا تھا کہ صفر منٹ کا آپشن جلد متعارف کرایا جائے گا۔
اس فیچر کو صارفین کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو سوشل میڈیا پر کم وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ 
جب صارف اپنی مقررہ حد تک پہنچ جاتا ہے تو شارٹس ٹیب میں مزید ویڈیوز دکھائی نہیں جاتیں بلکہ ایک نوٹیفکیشن ظاہر ہوتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کی لمٹ ختم ہو گئی ہے۔
یوٹیوب انتظامیہ کے مطابق اب یہ آپشن تمام والدین کے لیے دستیاب ہے اور بتدریج تمام صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے، جس میں بالغ صارفین بھی شامل ہیں۔
وقت کی حد مکمل ہونے پر ہوم سکرین سے بھی شارٹس غائب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح اگر صارف وقت کی حد صفر مقرر کرے تو وہ مکمل طور پر شارٹس سے دور رہ سکتا ہے۔
اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے صارفین کو یوٹیوب ایپ کی سیٹنگز میں جا کر ’ٹائم مینجمنٹ‘ پر جانا ہو گا جہاں ’شارٹس فیڈ لمٹ‘ کو آن کر کے مطلوبہ وقت مقرر کیا جا سکتا ہے۔

وقت کی حد مکمل ہونے پر ہوم اسکرین سے بھی شارٹس غائب ہو جاتے ہیں۔  (فوٹو: یوٹیوب)

یہ پیش رفت ایک ایسے  وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل لاس اینجلس میں ایک عدالت نے میٹا اور یوٹیوب کے خلاف مقدمے کی سماعت کی تھی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز کو جان بوجھ کر اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ بچوں کو عادی بنا سکتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

شیئر: