روٹی کی تیاری علاقے کی ایک قدیم ثقافت کا حصہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ روایتی روٹی کی تیاری علاقے کی منفرد شناخت بھی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق الاطاولہ میلے کے اس مقام پر جہاں روایتی روٹی ’المقناۃ‘ تیار کی جاتی ہے، لوگ بڑی تعداد میں ان مراحل اور مناظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے ہیں۔
روایتی روٹی خالص گندم کے آٹے سے تیار کی جاتی ہے۔ آٹے کو گوندھنے کے بعد اسے کافی دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں خمیر پیدا ہو، بعدازاں خصوصی چولہا یا بھٹی جسے مقامی زبان میں ’المقناۃ‘ کہا جاتا ہے کو خوب دھکایا جاتا ہے۔
روٹی میں کوئلہ کی بھینی بھینی مہک اسے منفرد ذائقہ دیتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
گرم بھٹی پر لوہے کی چادر یا چٹانی پتھر سے بنی ہوئے مخصوص ’سل‘ رکھی جاتی ہے جس پر گوندھے ہوئے آٹے کو پھیلا دیا جاتا ہے، بعدازاں اسے ایک اور لوہے کی باریک چادر یا چکنی مٹی سے بنی ہوئے سل سے ڈھکنے کے بعد اس پرلکڑیاں جلائی جاتی ہیں یا دھکتے ہوئے انگارے پھیلا دیئے جاتے ہیں۔
روٹی بنانے کا یہ قدیم طریقہ الباحہ میں نسلوں سے چلا آ رہا ہے اور آج بھی یہ علاقے کی روایت میں شامل ہے جسے خاص موقع پر پیش کیا جاتا ہے۔
روٹی تیار ہونے کے بعد اسے خالص گھی اور شہد کے ساتھ نوش کیا جاتا ہے، بعض لوگ سالن اور دہی کے ساتھ بھی روٹی المقناۃ کو کھاتے ہیں۔
پتھر کی سلِ سے ڈھکنے کے بعد گوندھا آٹا پھیلا دیا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
’الخبزۃ المقناۃ‘ کو الباحہ کا روایتی پکوان بھی مانا جاتا ہے جو یہاں کی ثقافتی اور مہمان نوازی کی روایت اور علاقائی شناخت کو اجاگر کرتا ہے۔
روٹی تیار کرنے کے ماہر احمد الشیوخ کا کہنا ہے کہ یہ خالص گندم کے آٹے سے بنائی جاتی ہے۔ روٹی کی خاصیت یہ ہے کہ تیار ہونے کے بعد اس میں ’باربی کیو‘ کی مہک یعنی کوئلے کی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے جس سے اس کا ذائقہ منفرد ہو جاتا ہے۔