Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر فائرنگ، اٹلی کا اسرائیل سے شدید احتجاج

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے فائرنگ کے واقعہ کی وضاحت طلب کی (فوٹو: روئٹرز)
اٹلی نے بدھ کے روز اسرائیلی سفیر کو طلب کیا اور لبنان میں اقوامِ متحدہ کے مشن سے منسلک ایک اطالوی قافلے پر فائرنگ کے واقعے پر وضاحت طلب کی۔ اطالوی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی افواج کو اٹلی کے فوجیوں کو ‘نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں‘۔
اقوامِ متحدہ کی امن فوج، جو یونفِل (UNIFIL) کے نام سے جانی جاتی ہے، جنوبی لبنان میں تعینات ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ حد بندی لائن پر کشیدگی کی نگرانی کر سکے، یہ وہ علاقہ ہے جہاں اسرائیلی فوج اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے درمیان شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں سوال و جواب کے دوران بتایا کہ ’اسرائیلی تنبیہی فائرنگ سے ہماری ایک گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔‘ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہوں نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق اطالوی لاجسٹک قافلہ بدھ کو شاما سے بیروت جا رہا تھا کہ روانگی کے مقام سے تقریباً دو کلومیٹر بعد اسرائیلی فوج نے تنبیہی فائرنگ کی۔ قافلہ فوری طور پر رُک گیا اور واپس اپنی بیس پر لوٹ گیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب اسرائیل نے لبنان پر گزشتہ ماہ کے آغاز میں حزب اللہ کے ساتھ شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید حملے کیے، اور  یہ کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔
وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے جھنڈے سے اپنی شناخت واضح کرنے والے قافلوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ ایک ناقابلِ برداشت رویہ ہے جو امن فوجیوں کی سلامتی اور مشن کی ساکھ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘
انہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی حکام سے رابطہ کرے تاکہ واقعے کی وضاحت حاصل کی جا سکے اور اطالوی دستے سمیت یونفِل کے تمام اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
یونفِل کے مطابق 30 مارچ تک اس مشن میں تقریباً 7,500 امن فوجی شامل تھے، جبکہ اٹلی ان بڑے ممالک میں شامل ہے جو اس میں حصہ لے رہے ہیں، اور اس کے 750 سے زائد فوجی امن مشن میں تعینات ہیں۔

شیئر: