جوابی حملوں کا نواں روز: ایران کے شام میں امریکی کمانڈ سینٹر اور بحرین پر حملے
جوابی حملوں کا نواں روز: ایران کے شام میں امریکی کمانڈ سینٹر اور بحرین پر حملے
پیر 20 جولائی 2026 6:16
سیچر کو اردن پر ایک ایک ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے پیر کے روز امریکی فوجی اہداف اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر حملے دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے شام میں التنف فوجی اڈے کے قریب ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب بحرین میں فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجا دیے گئے، جبکہ اس تازہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے شام کے علاقے التنف میں دشمن کے سپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر ’اچانک حملہ‘ کیا ہے۔
بیان کے مطابق اس حملے کو ایران کے جنوبی شہر سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی ہلاکت کا ردعمل قرار دیا گیا ہے۔
التنف بیس شام میں عراق اور اردن کی سرحدوں کے قریب واقع ہے اور اس کو طویل عرصے تک امریکی فوج اور اس کے اتحادی داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ پرسکون رہیں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔
بحرین جہاں امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ موجود ہے، حالیہ دنوں کے دوران ایرانی حملوں کا نشانہ بنا ہے جبکہ اس کے حکام کی جانب سے ایران پر شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں اور یہ دونوں ممالک ہی ابتدائی جنگ بندی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود ایرانی حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں ’غیر محفوظ راستہ‘ استعمال کرنے والے جہازوں کو روکا گیا (فوٹو: روئٹرز)
اسی طرح نئے حملوں کی وجہ سے عالمی طور پر توانائی کی منڈیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور مجموعی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی تین فیصد اضافہ ہوا۔
اس نئے اضافے کی وجہ سے ان بندشوں کو قرار دیا جا رہا ہے جو حالیہ دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں دیکھنے کو ملیں کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی طور پر تیل کی تجارت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔
یہ گزرگاہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور اس پر اپنے کنٹرول کو امریکہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں دباؤ کے لیے استعمال کیا جبکہ دوسری جانب امریکہ نے بھی ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے۔
اتوار کو پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے دو ایسے جہازوں کو روکا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بیان کے مطابق چار جہاز ’غیر محفوظ راستہ‘ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کو ’امریکہ کی شرارت‘ قرار دیا۔
پاسداران انقلاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو جہاز حادثات کا شکار ہوئے اور ان کو روک لیا گیا ہے جبکہ دوسرے دو جہاز واپس مڑ گئے۔
اردن میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے ایران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
اتوار کو امریکی فوج کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سنیچر کو ہونے والے ایرانی حملوں کے باعث اردن میں اس کے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس وقت امریکی افواج پورے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد جنگ میں خاصی تیزی آئی ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔