Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خوبصورت منظر‘: لامین یمال گھٹنوں کے بل دعا میں مصروف جبکہ پسِ منظر میں ہاتھا پائی

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لامین یمال گھٹنوں کے بل بیٹھے دعا کر رہے ہیں جبکہ پس منظر میں کھلاڑی آپس میں لڑ رہے ہیں (فوٹو: ایکس)
فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر میچ کی آخری سیٹی کے بعد میدان میں پیش آنے والا ایک منظر ٹرافی اٹھانے کی تصاویر جتنا ہی نمایاں ہو گیا۔ ایک طرف سپین کی تاریخی فتح کا جشن تھا، دوسری جانب دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور آفیشلز آپس میں الجھ رہے تھے لیکن اسی ہنگامے کے درمیان ایک تصویر نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔
نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں سپین نے اضافی وقت میں فیرن توریس کے گول کی بدولت ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر دوسرا فیفا ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔ تاہم میچ ختم ہوتے ہی ماحول کشیدہ ہوگیا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں بدل گیا۔
اسی افراتفری کے دوران کیمروں نے ایک ایسا منظر بھی محفوظ کیا جو چند لمحوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ سپین کے 19 سالہ نوجوان سٹار لامین یمال لڑائی سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دعا کرتے اور شکر ادا کرتے دکھائی دیے، جبکہ پس منظر میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔
یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے ورلڈ کپ کی یادگار ترین تصاویر میں شمار ہونے لگی۔ بہت سے مداحوں نے اسے ٹورنامنٹ کا سب سے طاقتور اور بامعنی لمحہ قرار دیا، جہاں ایک ہی فریم میں فتح، تشدد، شکرگزاری اور سکون ایک ساتھ نظر آئے۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو پر متعدد صارفین نے تبصرے بھی کیے۔ سراجیت نامی صارف نے لکھا کہ یہ ورلڈ کپ کے سب سے خوبصورت مناظر میں سے ایک ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ ویڈیو بہت مزاحیہ ہے، ایک طرف لامین دعا کر رہے ہیں جبکہ پیچھے یو ایف سی فائٹ چل رہی ہے۔

برک سینٹر نامی اکاؤنٹ نے ویڈیو پر بنی میم شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’لامین یہاں پر میں ہوں جو خدا پر بھروسہ کیے ہوئے ہے جبکہ پس منظر میں دنیا کی جنگیں اور مسائل چل رہے ہیں۔‘
میچ کے بعد پیش آنے والے مناظر کو سابق جرمن و گھانا انٹرنیشنل کیون پرنس بوٹنگ اور انگلینڈ کے سابق کپتان ایلن شیئرر سمیت کئی سابق فٹبالرز نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست کے بعد اس نوعیت کا رویہ عالمی فٹبال کے سب سے بڑے مقابلے کے شایانِ شان نہیں تھا۔
فیفا نے باضابطہ انکوائری شروع کر دی
دوسری جانب فیفا نے سپین اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے اختتام پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
میچ کے دوران ارجنٹینا کے مڈفیلڈر اینزو فرنانڈیز کو اضافی وقت میں سپین کے پاؤ کوبارسی پر سخت فاؤل کرنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
فائنل سیٹی کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ارجنٹائن کے لیاندرو پاریڈیس اور ناہویل مولینا کو سپین کے ایرک گارسیا اور روڈری کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے دیکھا گیا، جبکہ ارجنٹائن کے اسسٹنٹ کوچ روبرٹو آیالا بھی مبینہ طور پر دانی اولمو پر ہاتھ اٹھاتے دکھائی دیے۔ ایک اور ویڈیو میں مولینا کو روڈری کا راستہ روکتے اور نکولس اوٹامینڈی کو اپنے سابق ساتھی روڈری سے تلخ کلامی کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونل سکالونی اور دونوں ٹیموں کے دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کی، جس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوا۔
فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میچ آفیشلز کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 36 کے تحت ایک ڈسپلنری اینڈ ایتھکس پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے، جو فائنل کے بعد پیش آنے والے واقعات اور ممکنہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا۔
فیفا کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے اور پراسیکیوٹر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ڈسپلنری کمیٹی مزید کارروائی یا ممکنہ سزاؤں کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ اینزو فرنانڈیز 2010 کے بعد ورلڈ کپ فائنل میں ریڈ کارڈ حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے ہیں۔ اس سے قبل جنوبی افریقا میں کھیلے گئے 2010 کے ورلڈ کپ فائنل میں نیدرلینڈز کے جان ہیٹنگا کو سپین کے خلاف میچ میں میدان بدر کیا گیا تھا۔

شیئر: