Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہلی ہائی کورٹ کا سلمان خان کو بڑا ریلیف، زندگی پر بنائے جانے والی متنازع فلم کو ہٹانے کا حُکم

’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ میں دکھائی گئی کہانی سلمان خان کے ایک مقدمے سے مشابہت رکھتی ہے (فائل فوٹو: یوٹیوب)
انڈیا کی دہلی ہائی کورٹ نے بالی وڈ سُپرسٹار سلمان خان کو بڑا قانونی ریلیف دیتے ہوئے آئندہ آنے والی فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کا ٹیزر اور دیگر تشہیری مواد سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق جسٹس جیوتی سنگھ نے سماعت کے دوران قرار دیا کہ اگر فلم کے پروڈیوسر ازخود ٹیزر اور پروموشنل مواد نہیں ہٹاتے تو عدالت ایکس اور یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اسے ہٹانے کا حکم جاری کرے گی۔
عدالت نے سماعت کے دوران فلم سازوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر لمحہ جب یہ مواد عوامی سطح پر موجود رہتا ہے، اس سے مدعی سلمان خان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
جسٹس جیوتی سنگھ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ شہرت بنانے میں برسوں لگتے ہیں، لیکن ایک بار نقصان پہنچ جائے تو اس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ اگر یہ مواد صرف 24 گھنٹے بھی عوام کے سامنے رہے تو کسی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔‘

تنازع کیا ہے؟

فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی’ مبینہ طور پر سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس، بشنوئی برادری کی جنگلی حیات کے تحفظ کی روایات اور سلمان خان سے جُڑے تنازعے پر مبنی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 12 جون کو فلم کا فرسٹ لُک ویڈیو جاری کیا گیا، جس پر لکھا تھا کہ یہ فلم ’گرو جمبیشور بھگوان اور بشنوئی برادری کے نام‘ منسوب ہے۔
فلم کے ٹیزر میں اداکار کاشف اقبال خان ایک ایسے کردار میں نظر آئے جو سلمان خان سے مشابہت رکھتا ہے، جبکہ سینیئر اداکار گووند نام دیو بشنوئی برادری کی جانب سے انصاف کے لیے مقدمہ لڑنے والے وکیل کے کردار میں دکھائی دیے۔

گووند نام دیو کا دعویٰ

گووند نام دیو نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فلم کی اصل کہانی سے لاعلم رکھا گیا۔
ان کے مطابق ’جب میں نے ٹریلر دیکھا تو میں حیران رہ گیا۔ مجھے فوراً احساس ہوا کہ یہ وہ فلم نہیں تھی جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا۔ ہمیں کبھی نہیں بتایا گیا کہ سلمان خان سے مشابہ ایک کردار اس انداز میں پیش کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ فلم کا نام ’سنبھل‘ ہے اور ان کا کردار صرف عدالت کے مناظر تک محدود ہوگا، جہاں صرف عدالتی ریکارڈ میں موجود حقائق پیش کیے جائیں گے۔

ایک اور اداکار نے بھی فلم چھوڑ دی

اس سے قبل اداکار سونو مشرا بھی فلم سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، جنہوں نے سلمان خان کے ساتھ فلم ’سکندر‘ میں کام کیا تھا۔
سونو مشرا کے مطابق ابتدا میں انہیں فلم میں سلمان خان سے مشابہ مرکزی کردار کی پیش کش کی گئی تھی اور انہوں نے دو روز تک شوٹنگ بھی کی، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ فلم کا مقصد سلمان خان کو منفی انداز میں پیش کرنا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے مکمل سکرپٹ اور معاہدہ مانگا تو معاہدے میں یہ شرط موجود تھی کہ انہیں میڈیا میں بھی سلمان خان کے خلاف بات کرنا ہوگی، جسے انہوں نے اپنے اخلاقی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے فلم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان خان نے عدالت سے کیا مؤقف اختیار کیا؟

سلمان خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ فلم کے ٹیزر، پوسٹر اور دیگر تشہیری مواد میں اگرچہ ان کا نام استعمال نہیں کیا گیا، تاہم تمام اشارے واضح طور پر ان کی جانب ہیں۔
درخواست کے مطابق ٹیزر میں سلمان خان سے مشابہ کردار کو ان کے مخصوص انداز اور مشہور نیلے رنگ کے بریسلٹ کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس سے ان کی شناخت واضح ہوتی ہے۔
سلمان خان کا کہنا ہے کہ فلم 1998 کے کالا ہرن شکار کیس کی آڑ میں ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے اور اُن کی ساکھ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد سلمان خان کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے فلم کے ٹیزر اور دیگر پروموشنل مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

شیئر: