Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فٹ بال کا سب سے بڑا میلہ اور اس کا سحر، عامر خاکوانی کا بلاگ

11 جون کو فٹ بال ورلڈ کپ کا پہلا میچ کھیلا جائے گا، جبکہ 19 جولائی کو فائنل ہوگا (فوٹو: اے ایف پی)
کچھ عرصہ پہلے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ وہ انجینیئر ہیں، کرکٹ کے بہت پرانے دیوانے۔ کہنے لگے کہ یار اس بار فٹ بال ورلڈ کپ ضرور دیکھوں گا، میسی کو اور رونالڈو کو دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ شاید یہ آخری موقع ہو۔
میں نے پوچھا، فٹ بال کی تکنیکی چیزوں کا تو آپ کو پتہ نہیں، ماڈرن فٹ بال تو ویسے بھی بہت سائنسی ہوچکی، پھر یہ شوق کیوں؟ بولے، یار کچھ چیزیں دیکھنے کی ہوتی ہیں، سمجھنے کی نہیں۔
یہ فقرہ مزے کا لگا۔ واقعی بعض چیزیں دیکھنے اور لطف اٹھانے کی ہوتی ہیں بے شک زیادہ سمجھ نہ بھی آئیں۔
میں نے فٹ بال کا سنہ 1986 میں ہونے والا فٹ بال ورلڈ کپ دیکھا تھا جس میں ارجنٹائن کے ڈیگومیراڈونا کا جادو چلا تھا۔ اس میں انگلینڈ کے خلاف میراڈونا کی ڈاجنگ، ڈربلنگ اور حیران کن کھیل آج تک یاد ہے۔ اس وقت اتنی زیادہ تکنیکی معلومات نہیں تھیں مگر یہ سمجھ آرہا تھا کہ میرا ڈونا عام انسانی کھیل نہیں دکھا رہا، یہ جادو تخلیق ہو رہا ہے جسے عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ویسا ہی ہوا۔
میراڈونا نے جو گول ہاتھ مار کر کیا، اسے بھی آج کوئی منفی انداز میں یاد نہیں کرتا۔ میرا ڈونا فٹ بال کی تاریخ کا وہ عظیم جادوگر ہے جسے میری عمر کے لوگوں نے دیکھا اور بے پناہ لطف اٹھایا۔
میرے اس دوست کی بات میں بہت گہرائی تھی۔ فٹ بال ورلڈ کپ دراصل ایسا ہی ہے۔ دنیا میں جنہیں فٹ بال کے قواعد یاد نہیں، جو آف سائیڈ کا اصول نہیں جانتے، وہ بھی چار سال بعد ہونے والے اس عالمی میلے میں اپنی آنکھیں گاڑ دیتے ہیں۔
اس بار پھر سے یہ میلہ آگیا ہے۔ صرف دو دن کے بعد یعنی 11 جون کو فٹ بال ورلڈ کپ کا پہلا میچ کھیلا جائے گا، جبکہ19  جولائی کو فائنل ہوگا۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو تینوں ملک مل کر 104 میچوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔
سب سے بڑا ورلڈ کپ
یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، یوں یہ فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہے۔ 39 دن کا یہ میلہ وینکوور (کینیڈا) سے میامی (امریکہ) تک پھیلے 16 سٹیڈیمز میں جاری رہے گا۔ پہلا میچ میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان میکسیکو سٹی کے ایسٹاڈیو ایزٹیکا میں کھیلا جانا ہے۔ فائنل امریکہ میں ہوگا۔

مداحوں کی بڑی تعداد ارجنٹائن کے میسی کو فٹ بال کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیتی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

فیفا نے ٹیمیں بڑھائیں تو دو وجوہات سے۔ ایک یہ کہ ایشیا، افریقہ اور چھوٹے ممالک کو زیادہ نمائندگی ملے، دوسرا یہ کہ فیفا کا خزانہ بھی بھرتا رہے۔ دونوں باتوں میں وزن ہے، سچ شاید درمیان میں ہے۔
دو عظیم کھلاڑیوں کا آخری ٹورنامنٹ
فٹ بال کے شائقین میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے،جی او اے ٹی (گوٹ) یعنی گریٹسٹ آف آل ٹائم۔
ارجنٹائن کے میسی کے مداح انہیں عظیم ترین کھلاڑی قرار دیتے ہیں جبکہ پرتگال کے رونالڈو کے مداح انہیں عظیم ترین کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ یہ ایک پرانی بحث ہے۔ دونوں کے فین کلبز بہت بڑے اور لاکھوں بلکہ ملینز مداحوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے پاس اپنے اعدادوشمار ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے ہیرو کو عظیم ترین اور دوسرے کو اس سے کمتر ثابت کرتے ہیں۔ میسی کو البتہ یہ ایڈوانٹیج رہا ہے کہ اس کے ملک ارجنٹائن کی ٹیم ہمیشہ سے پرتگال کی نسبت بڑی، مضبوط اور مشہور ٹیم رہی ہے۔
ایک بڑے ملک کی بڑی فٹ بال ٹیم میں کھیلنے والے کھلاڑی کے پاس زیادہ موقع ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ میں آگے تک جائے۔ میسی کو یہ ایڈوانٹیج ملا کہ گزشتہ ورلڈ کپ میں ارجنٹائن چیمپئن بنی اور میسی نے ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائی جبکہ پرتگال پہلے ہی ہار کر باہر ہوگیا اور رونالڈو کو کروڑوں ناظرین نے روتے ہوئے سٹیڈیم سےباہر جاتے دیکھا۔
رونالڈو اور میسی میں سےکون زیادہ بڑا کھلاڑی ہے؟ اس بحث کا کوئی آخری فیصلہ شاید نہ آئے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ یہ ورلڈ کپ ان دونوں کے کیریئر کا آخری باب ہوسکتا ہے۔ رونالڈو 41 برس کے ہو چکے ہیں، انجریز کے باوجود فٹنس ان کی سب سے بڑی خوبی رہی ہے، مگر اب وقت گواہ ہے کہ کھیلنے کے دن گنے چنے ہیں۔

برازیل کے انجریز سے بے حال کھلاڑی نیمار دو ڈھائی سال کی غیر حاضری کے بعد قومی ٹیم میں لوٹے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

میسی نے 2022 میں قطر میں ہونے والا ورلڈ کپ جیت کر اپنی ہر کمی پوری کر لی تھی۔ اب وہ ٹائٹل کا دفاع کرنے آئے ہیں۔ اگر دونوں کی ٹیمیں اپنے اپنے گروپ میں ٹاپ کریں تو کوارٹر فائنل یا شاید فائنل میں آمنا سامنا ممکن ہے۔ ایسا آخری مقابلہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ بہرحال یہ دونوں آمنے سامنے نہ بھی آئیں، تب بھی ان عظیم کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ میں آخری بار کھیلتے دیکھنا بھی ایک اچھوتا تجربہ ہوگا۔
کون سی ٹیمیں فیورٹ ہیں
ماہرین اور بک میکرز دونوں کی نگاہ میں سپین اور فرانس سب سے آگے ہیں۔ اس کے بعد انگلینڈ، برازیل اور ارجنٹائن۔ جرمنی بھی دور نہیں۔
سپین کی ٹیم موسٹ فیورٹ سمجھی جا رہی ہے۔ سپین نے یورو 2025 ٹورنامنٹ جیت کر یہ ثابت کیا کہ ان کی ٹیم کتنی مضبوط اور بیلنس ہے۔ ان کےسٹار (افریقی نژاد) کھلاڑی لامین یمال ابھی اٹھارہ برس کے ہیں مگر کمال ہیں۔ پیڈری اور روڈری جیسے کھلاڑی مڈ فیلڈ میں مخالف ٹیم کو ہمیشہ اُلجھائے رکھتے ہیں۔
فرانس کی ٹیم بھی بہت مضبوط اور بیلنس ہے۔ صرف امباپے جیسا سٹرائیکر ہو تو دنیا کی کوئی ٹیم اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتی۔اس بار تو ان کے پاس عثمان ڈیمبیلے بھی ہے جنہیں پچھلے سال بیلن ڈی آور ملا تھا۔
دوسری طرف انگلینڈ مسلسل دو یورپی چیمپئن شپس کے فائنل کھیل چکا، مگر 1966 کے بعد سے عالمی ٹائٹل کا انتظار ختم نہیں ہوا، انگریز شائقین بے صبر ہیں، دیکھتے ہیں، کیا بنتا ہے؟

پرتگال کے مداح رونالڈو کی عظمت کے گُن گاتے ہیں (فوٹو: اے پی)

ارجنٹائن کو ہرگز نہ بھولیں۔ میسی کے ساتھ الواریز، اینزو فرنانڈیز اور لاوتارو مارتینیز جیسے کھلاڑی ہیں جو ٹیم کو صرف ایک سٹار کا محتاج نہیں رہنے دیتے۔
برازیل کی ٹیم ہمیشہ سے ایک مسٹری رہی ہے۔ ایک حیران کن ٹیم۔ انجریز سے بے حال نیمار کی واپسی نے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے، وہ دو ڈھائی سال کی غیر حاضری کے بعد قومی ٹیم میں لوٹے ہیں، مگر فٹنس کی تاریخ دیکھیں تو یہ شاید ان کا آخری ورلڈ کپ ہے۔ برازیل کی ٹیم ورلڈ کپ میں کچھ بھی کر سکتی ہے۔
جرمنی کے بارے میں یورپی ماہرین کہتے ہیں کہ جرمنی کی ٹیم بعض اوقات بڑے ٹورنامنٹ میں دیر سے جاگتی ہے اور جب جاگتی ہے تو فائنل میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔
کون سے کھلاڑی توجہ کا مرکز رہیں گے
کلیان امباپے اس وقت دنیا کا مکمل ترین فارورڈ مانا جاتا ہے۔ 27 برس کی عمر میں وہ رفتار، گول اور قائدانہ صلاحیت تینوں یکجا رکھتے ہیں۔گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی امباپے نے کمال دکھایا تھا مگر ورلڈ کپ نہ جیت پائے۔ ماہرین انہیں اس بار گولڈن بال ایوارڈ کے سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ہیری کین انگلینڈ کے لیے واحد امید نہیں مگر سب سے بڑی امید ضرور ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں کلبز کے ساتھ جو بھی جیتنا چاہتے تھے جیت چکے، اب قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنا باقی ہے۔ جوڈ بیلنگھم ریئل میڈرڈ میں اپنے پہلے سیزن میں 23 گول کر چکے ہیں، یہ کسی مڈفیلڈر کے لیے غیر معمولی ہے۔
وہ بھی انگلش ٹیم کے سٹار ہیں۔ برازیل کی طرف سے ونیسیئس جونیئر کو دیکھیں، وہ کسی بھی میچ میں رنگ بدل سکتے ہیں۔ وہ غیر معمولی کھلاڑی ہیں۔ جمال موسیالا جرمنی کے لیے وہی کردار ادا کرتے ہیں جو میسی ارجنٹینا کے لیے کرتے تھے، سب سے اہم کھلاڑی، سب سے زیادہ توقعات۔
چھوٹی ٹیموں کے بڑے کھلاڑی
فٹ بال ورلڈ کپ کا یہ ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے کہ بعض بڑے کھلاڑی جو مختلف لیگز میں غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہیں مگر ان کی قومی ٹیمیں یا تو ورلڈ کپ کوالیفائی نہیں کر پاتیں یا پھر وہ اتنی بڑی ٹیمیں نہیں ہوتیں۔ اس بار خوش قسمتی سے ناروے کوالیفائی کر گیا ہے۔

میرا ڈونا فٹ بال کی تاریخ کا وہ عظیم جادوگر ہے جسے میری عمر کے لوگوں نے دیکھا اور بے پناہ لطف اٹھایا (فوٹو: گیٹی)

ناروے بڑی فٹ بال طاقت نہیں، 28 برس بعد ورلڈ کپ میں آئی ہے۔ مگر دنیائے فٹ بال کے ایک نامور سٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ نے اکیلے اس ٹیم کو یہاں تک پہنچایا۔ کوالیفائنگ کے آٹھ میچوں میں انہوں نے 16 گول کیے، یعنی ہر میچ میں اوسطاً دو گول۔ ہالینڈ اس وقت دنیا کے سب سے خطرناک سٹرائیکر ہیں۔ گروپ میں ان کا سامنا امباپے کے فرانس سے ہوگا، یہ دنیا کے دو سب سے بڑے گول سکوررز کا آمنا سامنا ہوگا۔
مصر کے محمد صلاح بھی قابل ذکر کھلاڑی ہیں۔ لیورپول میں کئی برس سے تہلکہ مچانے والا یہ مصری سٹرائیکر اپنے ملک کو پہلی بار ورلڈ کپ ٹائٹل جتوانا چاہتے ہیں۔ مصر کسی بڑے ٹورنامنٹ کا پسندیدہ نہیں، مگر صلاح جس فارم میں ہیں اس میں انہیں ہلکا لینا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
ایک افسوس کی بات ضرور بتاتا چلوں۔ جارجیا کے کواراتسخیلیا کا نام آپ نے سنا ہوگا، پہلے اطالوی کلب ناپولی اور پھر پی ایس جی میں اس نوجوان نے سب کو حیران کیا۔اس بار پی ایس جی کلب چیمپینز لیگ جیتا تو ان کا بڑا کردار تھا، ورلڈ کپ میں مگر جارجیا کوالیفائی نہ کر سکا، اس لیے یہ باصلاحیت کھلاڑی ورلڈ کپ میں نظر نہیں آئیں گے۔ یہی حال اٹلی کا ہے، جو لگاتار تیسری بار کوالیفائی نہیں کر سکا۔ بڑے میلوں میں کچھ غائب چہرے بھی یاد رہتے ہیں۔
مسلمان کھلاڑی جو توجہ کا مرکز رہیں گے
فٹ بال کی دنیا میں مسلمان کھلاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اس ورلڈ کپ میں بھی کئی ایسے نام ہیں جن پر ہماری نظر رہے گی۔
سب سے پہلے فرانس کے عثمان ڈیمبیلے۔ انہوں نے ابھی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کے خلاف برابری کا گول کیا اور پی ایس جی کو مسلسل دوسری بار یہ ٹرافی جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پوری چیمپئنز لیگ میں انہوں نے آٹھ گول کیے۔ اب وہ ورلڈ کپ میں فرانس کی جانب سے امباپے کے ساتھ حملے کی جوڑی بنائیں گے۔ یہ جوڑی دنیا کی کسی بھی ڈیفنس کے لیے ڈراؤنا خواب ہے۔ عثمان ایک پریکٹسنگ مسلمان ہے، جو لیگ میچوں میں بھی روزے رکھتے ہیں اور نماز کی پابندی بھی کرتے رہے ہیں۔

ہیری کین انگلینڈ کے لیے واحد امید نہیں مگر سب سے بڑی امید ضرور ہیں (فوٹو: گیٹی)

مراکش کے اشرف حکیمی۔ دنیا کے بہترین رائٹ بیک مانے جانے والے یہ مراکشی کھلاڑی پی ایس جی کی جیت میں اٹیک میں اور دفاع دونوں میں کام آتے ہیں۔ 2025 کے بیلن ڈی اور ووٹنگ میں وہ چھٹے نمبر پر رہے۔ مراکش نے 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچ کر پوری دنیا کو حیران کیا تھا، اس بار بھی ان سے امیدیں بہت ہیں۔
جرمنی کے جمال موسیالا کے بارے میں بتاتا چلوں کہ وہ بھی مسلمان ہیں اور باقاعدگی سے دین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ بائیس تئیس سالہ نوجوان جرمنی کا سب سے روشن ستارہ ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم میں بھی جمال نامی ایک کھلاڑی ہیں، جوڈ بیلنگھم کے ساتھ کھیلنے والے اس مڈفیلڈر نے حالیہ سیزن میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔
افریقی ممالک کی فٹ بال تاریخ میں مسلمان کھلاڑیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ سینیگال کے سادیو مانے، مصر کے صلاح، مراکش کے کئی کھلاڑی، یہ سب اس روایت کے امین ہیں کہ مسلمان نوجوان جب میدان میں اترتے ہیں تو مکمل وقف ہو کر اترتے ہیں۔
اس ورلڈ کپ کا مختلف فارمیٹ
پچھلے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں ٹیمیں 32 ہوتی تھیں، چار چار ٹیموں کے آٹھ گروپس۔ ان میں سے 16 ٹیمیں اگلے ناک آوٹ راونڈ میں جاتی تھیں۔ آپس میں میچز کے بعد آٹھ ٹیمیں کوارٹر فائنل میں اور  پھر چار سیمی فائنل، دو فائنل میں۔
اس بار معاملہ مختلف ہے۔ 48 ٹیموں کے بارہ گروپ ہیں۔

ناروے کے نامور سٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ نے اکیلے اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ کے عالمی میلے تک پہنچایا (فوٹو: روئٹرز)

بارہ گروپوں میں سے ہر گروپ کی اوپر کی دو ٹیمیں یعنی کل 24 ٹیمیں تو خودبخود اگلے مرحلے میں چلی جائیں گی۔ اب بچتی ہیں 12 گروپوں کی 12 تیسرے نمبر کی ٹیمیں۔ ان 12 میں سے جن آٹھ کے پوائنٹس، گول کا فرق اور دیگر حساب کتاب سب سے بہتر ہو گا، وہ بھی آگے جائیں گی۔ یوں ٹوٹل 32 ٹیمیں اگلے ناک آوٹ راونڈ میں کوالیفائی کر جائیں گی۔
اب آگے کا سفر کچھ یوں ہے:
راونڈ آف 32 (28 جون سے تین جولائی): 32 ٹیمیں 16 میچ کھیلیں گی۔ یہ بالکل نیا مرحلہ ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس رائونڈ کے ہر میچ میں جیتنے والا آگے، ہارنے والا واپس اپنے گھر۔ میچ برابر ہوا تو اضافی وقت اور پھر پنالٹی شوٹ آوٹ۔ اس مرحلے کے بعد 16 ٹیمیں بچیں گی۔
راونڈ آف 16: اس رائونڈ کو ہم پری کوارٹر فائنل بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں پہنچنے والی 16 ٹیموں کےآپس میں آٹھ میچ ہوں گے۔ جیتنے والے آگے، ہارنے والے گھر۔ آٹھ ٹیمیں بچیں گی۔
کوارٹر فائنل: آٹھ ٹیموں کے چار میچ۔ بوسٹن، لاس اینجلس، میامی اور کینزس سٹی میں کھیلے جائیں گے۔ جیتنے والی چار ٹیمیں آگے جائیں گی۔
سیمی فائنل: چار ٹیموں کے دو میچ۔ ڈیلس اور اٹلانٹا میں کھیلے جائیں گے۔ دو ٹیمیں فائنل میں اور دو کا تیسری پوزیشن کا میچ جو 18 جولائی کو میامی میں کھیلا جائے گا۔
فائنل (19 جولائی): نیو یارک کے قریب میٹ لائف سٹیڈیم میں۔ یہاں دنیا کا نیا چیمپئن طے ہوگا۔
ایک جملے میں اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو یہ بنتا ہے ۔ 48 ٹیمیں، 32 آگے، پھر رائونڈ آف 32، راونڈ آف 16، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل، اور 19 جولائی کو فائنل، مجموعی طورپر ایک سو چار میچ، 39 دن۔
پاکستانیوں کے لیے ایک اہم سوال
اب ایک بات جو پاکستانیوں کو سوچنی چاہیے۔ ہمارا ملک فٹ بال میں اتنا پیچھے کیوں ہے؟

سپین کے سٹار کھلاڑی (افریقی نژاد) لامین یمال ابھی اٹھارہ برس کے ہیں مگر کمال ہیں (فوٹو: روئٹرز)

ہماری آبادی چوبیس پچیس کروڑ ہے، نوجوان بڑی تعداد میں ہیں۔ کرکٹ زیادہ مقبول ہے مگر بہرحال فٹ بال بھی کھیلی جاتی ہے۔ ہم کبھی فٹ بال ورلڈ کپ کوالیفائی نہیں کر سکے بلکہ کبھی سنجیدہ اور اہم امیدوار بھی نہیں بن سکے، کیوں؟
اگر کرکٹ بورڈ جیسا ہی کوئی ادارہ فٹ بال کو بھی سنجیدگی سے لیتا، اگر سرمایہ کاری ہوتی، اگر اکیڈمیاں بنتیں، تو کیا عجب کہ کسی روز ہم بھی اس میلے کا حصہ ہوتے۔ یہ خواب نہیں، ارادے کی بات ہے۔
بہرحال، اگلے 40 روز دنیا کا رنگ الگ ہوگا۔ گلیاں، چائے خانے، دفتر، گھر، یونیورسٹیاں، ہر جگہ فٹ بال کی باتیں ہوں گی۔ ایک دنیا جو آپس میں بہت تقسیم ہے، ایک ماہ کے لیے اسی کھیل کے گرد اکٹھی ہو جاتی ہے۔ یہ فٹ بال کا اعجاز ہے، اور شاید انسانیت کی بھی ایک امید۔
اللہ کرے فائنل میں میسی اور رونالڈو آمنے سامنے ہوں۔ یہ آخری مقابلہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، اور ہم پاکستانی پھر بھی ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر سوچتے رہیں گے کہ کاش ہماری سبز جرسی بھی اس میدان میں ہوتی۔

 

شیئر: