بعض اوقات پھنسی ہوئی عقل داڑھ کے اردگرد پانی سے بھری رسولی بن جاتی ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
اکثر لوگ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس اسی وقت جاتے ہیں جب دانت میں شدید درد یا کوئی واضح مسئلہ پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ عقل داڑھ (وزڈم ٹوتھ) کے حوالے سے بھی ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر اس میں درد نہیں تو اسے نکلوانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ تصور ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
انڈیا میں ’مناؤ رچنا ڈینٹل کالج‘ کے شعبہ ’اورل اینڈ میکسیلوفیشل سرجری‘ کے سربراہ ڈاکٹر کمار رکشک آنند کے مطابق عقل داڑھ عموماً 17 سے 25 سال کی عمر کے درمیان نکلتی ہے۔
بعض افراد میں یہ مکمل طور پر درست انداز میں نکل کر عام داڑھ کی طرح کام کرتی ہے لیکن اگر جبڑے میں مناسب جگہ نہ ہو تو یہ مسوڑھوں کے اندر پھنسی رہ سکتی ہے یا ٹیڑھی ہو کر نکلتی ہے جسے امپیکٹڈ وزڈم ٹوتھ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’صرف درد نہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ عقل داڑھ مکمل طور پر صحت مند ہے کیونکہ اس کے باعث کئی مسائل خاموشی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔‘
بغیر درد کے بھی عقل داڑھ کیوں نکلوائی جاتی ہے؟
ماہرین کے مطابق دانت نکالنے کا فیصلہ صرف درد کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
دانتوں میں کیڑا لگنے کا خطرہ
جزوی طور پر نکلی ہوئی یا مسوڑھے میں پھنسی عقل داڑھ کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس کے اردگرد خوراک کے ذرات اور جراثیم جمع ہو سکتے ہیں جس سے نہ صرف اس دانت بلکہ اس کے ساتھ موجود صحت مند دوسرے داڑھ میں بھی کیڑا لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اکثر درد اس وقت شروع ہوتا ہے جب نقصان کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔
جبڑے کی ہڈی کو نقصان پہنچ سکتا ہے
بعض اوقات پھنسی ہوئی عقل داڑھ کے اردگرد پانی سے بھری رسولی (سسٹ) بن جاتی ہے، جو ابتدا میں بغیر کسی علامت کے بڑھتی رہتی ہے۔
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جبڑے کی ہڈی کو کمزور کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں قریبی دانت بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
دانتوں کی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے
ڈاکٹر آنند کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ ٹیڑھے دانتوں کی واحد وجہ عقل داڑھ ہوتی ہے، تاہم بعض افراد میں پھنسی ہوئی عقل داڑھ دانتوں کی بھیڑ یا بے ترتیبی میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جینیاتی عوامل اور عمر کے ساتھ آنے والی قدرتی تبدیلیاں بھی دانتوں کی ترتیب کو متاثر کرتی ہیں۔
جزوی طور پر نکلی ہوئی یا مسوڑھے میں پھنسی عقل داڑھ کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
ایکس رے کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر نارمل نظر آنے والی عقل داڑھ کے نیچے بھی مسائل موجود ہو سکتے ہیں، اسی لیے دانتوں کا ایکس رے کرایا جاتا ہے تاکہ دانت کی اصل پوزیشن، اس کی جڑوں اور اردگرد موجود ممکنہ مسائل کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ ایکس رے کے بغیر کئی خرابیاں اس وقت تک سامنے نہیں آتیں جب تک علامات ظاہر نہ ہوں۔
کیا ہر شخص کو عقل داڑھ نکلوانی چاہیے؟
ڈاکٹر آنند کے مطابق اس کا جواب نہیں ہے۔ ہر عقل داڑھ کو نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر مریض کی عمر، دانت کی پوزیشن، منہ کی صفائی کی صورتحال اور مستقبل میں مسائل کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں۔
جلد نکلوانا زیادہ بہتر ہے؟
اگر ڈاکٹر عقل داڑھ نکالنے کا مشورہ دیں تو درد، سوجن یا انفیکشن ہونے سے پہلے اسے نکلوانا زیادہ آسان اور محفوظ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں سرجری نسبتاً آسان ہوتی ہے، تکلیف کم ہوتی ہے، زخم جلد بھر جاتا ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درد نہ ہونے کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں کہ عقل داڑھ مکمل طور پر صحت مند ہے جبکہ ہر عقل داڑھ کو نکالنا بھی ضروری نہیں۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ مکمل معائنے اور ڈینٹل ایکس رے کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔