مجسمے کی طرح کھڑا رہنے والا فٹبال فین، کانگو کے ورلڈ کپ سفر کی علامت کیسے بنا؟
مجسمے کی طرح کھڑا رہنے والا فٹبال فین، کانگو کے ورلڈ کپ سفر کی علامت کیسے بنا؟
جمعرات 18 جون 2026 12:36
ڈی آر کانگو کے مشہور مداح میشیل نکوکا مبولادینگا، جنہیں ’لوممبا ویا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بدھ کی شب جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) نے پرتگال کو 1-1 سے برابر کر کے ٹورنامنٹ کا بڑا اپ سیٹ کیا۔ 52 برس بعد ورلڈ کپ میں واپسی کرنے والی افریقی ٹیم نے کرسٹیانو رونالڈو سے سجی پرتگالی ٹیم کو فتح سے محروم کر دیا اور دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی توجہ حاصل کر لی۔
لیکن میچ کے بعد صرف کانگو کے کھلاڑی ہی زیرِ بحث نہیں تھے۔ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ایسے شخص کا بھی چرچا رہا جو میدان میں نہیں بلکہ سٹیڈیم کے اسٹینڈز میں اپنی منفرد موجودگی کے باعث شہرت حاصل کر چکا ہے۔
میشیل نکوکا مبولادینگا، جنہیں زیادہ تر لوگ ’لوممبا ویا‘ یا ’لوممبا لائیوز‘ کے نام سے جانتے ہیں، گزشتہ چند برسوں میں کانگو کی قومی فٹبال ٹیم کے سب سے مشہور مداح بن گئے ہیں۔
اگر آپ نے حالیہ برسوں میں کانگو کے میچ دیکھے ہیں تو ممکن ہے آپ کی نظر اس شخص پر پڑی ہو جو پورے میچ کے دوران تقریباً مجسمے کی طرح ایک ہی حالت میں کھڑا رہتا ہے۔ ایک بازو بلند، نظریں میدان پر مرکوز اور جسم میں معمولی سی جنبش کے بغیر۔
افریقہ کپ آف نیشنز کے دوران ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو دنیا بھر کے فٹبال شائقین ان کے بارے میں جاننے لگے۔ بعض لوگوں نے انہیں ’ہیومن اسٹیچو‘ یعنی انسانی مجسمہ قرار دیا جبکہ بعض انہیں ’وہ شخص جو پورا میچ حرکت نہیں کرتا‘ کہنے لگے۔
تاہم مبولادینگا کا یہ انداز محض انفرادیت یا شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں۔ وہ کانگو کے پہلے وزیراعظم اور ’قومی ہیرو‘ پیٹریس لوممبا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان جیسا لباس پہنتے اور انہی کی طرز پر کھڑے ہوتے ہیں۔
پیٹریس لوممبا نے 1960 میں بیلجیئم سے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آزادی کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیراعظم بنے، تاہم ایک سال بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ کانگو میں آج بھی انہیں قومی خودمختاری، مزاحمت اور آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مبولادینگا کا کہنا ہے کہ وہ لوممبا کے نظریات اور قومی یکجہتی کے پیغام کو زندہ رکھنے کے لیے یہ کردار ادا کرتے ہیں۔(فوٹو:رائٹر)
مبولادینگا کا کہنا ہے کہ وہ لوممبا کے نظریات اور قومی یکجہتی کے پیغام کو زندہ رکھنے کے لیے یہ کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فٹبال صرف کھیل نہیں بلکہ قومی شناخت اور اتحاد کا ذریعہ بھی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مبولادینگا خود کو محض ایک مداح نہیں سمجھتے بلکہ قومی ٹیم کا ’روحانی محافظ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ان کا مخصوص انداز کھلاڑیوں کے حوصلے اور ٹیم کے دفاع کی علامت ہے۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب وہ میدان کے کنارے یا سٹیڈیم میں اپنی مخصوص پوزیشن میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان کا مقصد پوری قوم کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے۔
مبولادینگا 2013 سے قومی ٹیم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا گیا۔ آج وہ کانگو کے فٹبال کلچر کا ایک مستقل حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
کانگو کے صدر فیلکس تشیسکیدی کی مداخلت کے بعد لوممبا ویا کو ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کے سرکاری وفد میں شامل کیا گیا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
ورلڈ کپ تک ان کا سفر بھی آسان نہیں رہا۔ مارچ میں جب کانگو نے انٹرکانٹینینٹل پلے آف میں جمیکا کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو مبولادینگا ویزا مسائل کے باعث میکسیکو نہیں جا سکے تھے اور اپنی ٹیم کا تاریخی میچ سٹیڈیم میں نہیں دیکھ سکے۔
بعد ازاں کانگو کے کھلاڑیوں، سپورٹرز اور حکام نے کوششیں شروع کیں کہ وہ ورلڈ کپ میں ٹیم کے ساتھ شامل ہو سکیں۔ رپورٹس کے مطابق معاملہ ملک کے صدر فیلکس تشیسکیدی تک پہنچا، جس کے بعد انہیں قومی ٹیم کے سرکاری سفری وفد میں شامل کیا گیا۔
تاہم پرتگال کے خلاف کانگو کے پہلے میچ میں وہ موجود نہیں تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ سے متعلق احتیاطی اقدامات اور قرنطینہ کی وجہ سے وہ ابتدائی میچ سے محروم رہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گروپ مرحلے کے بعد کے میچوں میں ٹیم کے ساتھ شامل ہو سکیں گے۔
بدھ کی رات جب کانگو نے پرتگال کے خلاف تاریخی ڈرا حاصل کیا تو دنیا بھر کے کانگولی شائقین جشن منا رہے تھے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
بدھ کی رات جب کانگو نے پرتگال کے خلاف تاریخی ڈرا حاصل کیا تو دنیا بھر کے کانگولی شائقین جشن منا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے مداحوں نے لکھا کہ اگر لوممبا ویا اس تاریخی موقع پر سٹیڈیم میں موجود ہوتے تو یہ لمحہ ان کے لیے زندگی کا یادگار ترین منظر ہوتا۔
1974 میں زائر کے نام سے ورلڈ کپ کھیلنے والی کانگو کی ٹیم پانچ دہائیوں سے زائد عرصے بعد دوبارہ عالمی مقابلے میں پہنچی ہے۔ اس سفر میں بہت سے کھلاڑی ہیرو بنے ہیں، لیکن ملک کے لاکھوں شائقین کے لیے ایک اور شخصیت بھی امید، استقامت اور قومی فخر کی علامت بن چکی ہے۔
وہ شخصیت میشیل نکوکا مبولادینگا ہیں، جو ہر میچ میں خاموشی سے مجسمے کی طرح کھڑے رہتے ہیں، مگر جن کی موجودگی نے انہیں دنیا کے سب سے منفرد فٹبال مداحوں میں شامل کر دیا ہے۔