Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شیخوپورہ کا تھیٹر ہال، سیلاب کے دوران مقامی افراد کا سہارا کیسے بنا؟

پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا کے کئی علاقے اس وقت زیر آب آچکے ہیں (فوٹو: اُردو نیوز)
فیروزوالا کے علاقے بشیر ٹاؤن میں قائم نور محل تھیٹر ہال کے پردے ان دنوں گرے ہوئے ہیں۔ سٹیج پر موسیقی کی آواز گونج رہی ہے، اور نہ ہی فنکار اپنے مکالمے ادا کر رہے ہیں جبکہ تماشائی بھی موجود نہیں ہیں۔
حالیہ سیلاب کے بعد یہ عمارت اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک عارضی پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں وہ خاندان رہ رہے ہیں جن کے گھروں میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔
پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا کے کئی علاقے اس وقت زیر آب آچکے ہیں۔ انہی میں بشیر ٹاؤن کا علاقہ بھی شامل ہے جہاں قائم نور محل تھیٹر ہال میں ہر جمعہ کے روز شو ہوا کرتا تھا تاہم اب یہ بند پڑا ہوا ہے۔
تھیٹر ہال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو برآمدے میں پانی جمع ہے جبکہ تھیٹر ہال کے اندر ایک طرف کرسیاں رکھی ہوئی نظر آتی ہیں جنہیں ہٹا کر جگہ خالی کی گئی ہے۔ ہال کے پاس چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں جن پر خواتین، بچے اور بزرگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایک کونے میں چولہا رکھا گیا ہے جہاں کھانا تیار کیا جاتا ہے جبکہ ان خاندانوں کے لیے واش روم اور صاف پانی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ تھیٹر ہال کی عقبی دیوار کے ساتھ کئی خاندانوں نے اپنے مویشی بھی باندھ رکھے ہیں تاکہ وہ بھی سیلابی پانی سے محفوظ رہ سکیں۔
اس پوری کوشش کے مرکزی کردار تھیٹر ہال کے چوکیدار محمد اعظم ہیں جو دن بھر ہاتھ میں لاٹھی لیے پانی میں گھومتے رہتے ہیں۔ کسی کو اگر مدد کی ضرورت ہو یا کوئی خاندان محفوظ جگہ کی تلاش میں ہو تو وہ اسے تھیٹر ہال تک لے آتے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ خاندان مقامی تھیٹر ہال میں پناہ لے رہے ہیں (فوٹو: اُردو نیوز)

انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بشیر ٹاؤن کا رہائشی ہوں۔ لیکن میرا تعلق بنیادی طور پر ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ سے ہے، 37 سال گوجرانوالہ میں گزارنے کے بعد پانچ سال پہلے یہاں آ گیا تھا۔ یہ ایک تھیٹر ہال ہے جہاں آرٹسٹ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’سیلابی پانی اچانک رات کے وقت علاقے میں داخل ہوا۔ جب پانی آیا تو میں فوراً آس پاس کے گھروں میں گیا اور لوگوں سے کہا کہ سکون سے یہاں آ جائیں، اپنا سامان پانی سے بچائیں اور تھیٹر ہال میں لے آئیں۔ پانی میں سانپ بھی ہوتے ہیں، مجھے ڈر تھا کہ کہیں کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔‘
محمد اعظم کے مطابق کچھ خاندانوں نے ان کی بات مان لی اور اسی رات تھیٹر ہال منتقل ہو گئے تاہم کچھ لوگوں نے ابتدا میں انکار کر دیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’بعد میں ایک خاندان ایسا بھی تھا جو ڈوبنے کے قریب تھا اور انہیں کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی۔ میرا گھر بھی قریب ہے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ تھیٹر ہال کے عقبی حصے میں رہنا چاہتے ہیں، تو میں نے چابی ان کے حوالے کر دی۔‘
صرف جگہ فراہم کرنا ہی کافی نہیں تھا۔ محمد اعظم کے مطابق تھیٹر ہال کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے مزید انتظامات بھی کرنا پڑے۔

سیلابی پانی رات کے وقت اچانک علاقے میں داخل ہوا (فوٹو: اُردو نیوز)

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے ان کے لیے پنکھے لگانے کے علاوہ کارپٹ بھی بچھائے۔ موٹر خراب ہونے کی وجہ سے پانی نہیں آ رہا تھا تو وہ بھی ٹھیک کروائی تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔‘
اس وقت بشیر ٹاؤن میں یہ تھیٹر ہال شاید واحد ایسی بڑی عمارت ہے جو اندر سے خشک ہے۔ اسی لیے محمد اعظم ہر ضرورت مند کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ جب تک پانی موجود ہے یہ جگہ ان کے لیے کھلی ہوئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں سب لوگوں سے یہی کہتا ہوں کہ اگر مشکل ہو تو یہاں آ جائیں۔ جب تک پانی ہے لوگ یہاں رہ سکتے ہیں۔‘
محمد اعظم بتاتے ہیں کہ ’کچھ عرصہ قبل تک تھیٹر ہال میں فنکاروں کی ٹیم موجود تھی تاہم ان کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد سرگرمیاں رُک گئی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پوری ٹیم واپس چلی گئی تھی تو اس لیے یہاں کام نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس جگہ کو لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہاں بجلی بھی موجود ہے۔ میں نے اپنا نمبر گیٹ پر لکھ دیا ہے جسے بھی جگہ چاہیے وہ رابطہ کر سکتا ہے۔‘
محمد اعظم کے مطابق انہوں نے اس فیصلے سے پہلے لاہور میں موجود تھیٹر ہال کے مالک کو اطلاع کر دی تھی جنہوں نے ان کے اس فیصلے کو سراہا اور انہیں مزید خاندانوں کو تھیٹر ہال میں پناہ دینے کا کہا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے جب پہلی فیملی یہاں منتقل کی تو مالک کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بالکل ٹھیک کام کیا اور اگر کوئی اور بھی آنا چاہے تو اسے بھی لے آئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اگر خود بھی یہاں ہوتے تو ایسا ہی کرتے۔‘

اس وقت بشیر ٹاؤن میں یہ تھیٹر ہال واحد ایسی بڑی عمارت ہے جو اندر سے خشک ہے (فوٹو: اُردو نیوز)

اس تھیٹر ہال میں پناہ لینے والی نسرین بی بی بتاتی ہیں کہ ’اِن کا گھر چند قدم کے فاصلے پر ہے لیکن پانی آنے کے بعد وہاں رہنا ممکن نہیں رہا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا گھر تھیٹر ہال کے قریب ہی ہے۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں، وہ بیمار ہیں۔ جب رات کو پانی آیا تو اعظم ہمیں یہاں لے آئے پھر ایک اور خاندان بھی آ گیا۔ اب ہم سب نے یہیں پناہ لے رکھی ہے۔‘

شیئر: