جب آپ ایمیزون یا والمارٹ جیسی بڑی ویب سائٹس پر اچانک اور بلا ضرورت شاپنگ کرتے ہیں تو شاید آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی کا سبب وہ سامان ہے جو آپ خرید رہے ہیں۔
لیکن ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق چیزوں سے زیادہ شاپنگ کے پورے عمل اور اس کے نتیجے میں دماغ میں پیدا ہونے والے کیمیکل ’ڈوپامائن‘ سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چیزیں خریدنے کے بعد بھی ہمیں حقیقی اطمینان نہیں ملتا اور ہم بار بار مزید شاپنگ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں
لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ پیسے خرچ کیے بغیر بھی ڈوپامائن کی وہی لہر اور خوشی حاصل کر سکیں؟
دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹلائزڈ ممالک میں شمار ہونے والے ملک جنوبی کوریا میں آج کل ایک ایسا ہی انوکھا ٹرینڈ نوجوانوں میں مقبول ہو رہا ہے۔
انوکھی خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ آڈیٹی سینٹرل کے مطابق ملک میں آن لائن تجارت کے مضبوط اعداد و شمار کے باوجود نوجوان اب ایسی ’ڈوپامائن سائٹس‘ کا رخ کر رہے ہیں جو ہو بہو اصلی آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کی نقل کرتی ہیں۔
آرڈر سے لے کر ٹریکنگ تک سب کچھ اصلی مگر مفت
یہ ڈوپامائن سائٹس بالکل اصلی آن لائن بازاروں کی طرح کام کرتی ہیں۔
ان پر سینکڑوں مصنوعات، صارفین کے تفصیلی تبصرے، ریٹنگز، فلٹرز اور سیلز کی پیشکشیں موجود ہوتی ہیں۔

آپ اپنی پسند کی چیزیں شاپنگ کارٹ میں ڈال سکتے ہیں، اپنا پتہ لکھ سکتے ہیں اور ’آرڈر‘ کا بٹن بھی دبا سکتے ہیں۔ اصل جادو اس بٹن کو دبانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
سکرین پر موجود ایپ آپ کو دکھاتی ہے کہ ایک ڈیلیوری بوائے نے آپ کا آرڈر قبول کر لیا ہے اور وہ آپ کے پتے کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔
آپ لائیو میپ (نقشے) پر اس کی نقل و حرکت کو بھی بالکل حقیقی وقت میں ٹریک کر سکتے ہیں۔
لیکن کہانی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ آپ کے گھر کوئی سامان پہنچتا ہے اور نہ ہی آپ کے کریڈٹ کارڈ سے ایک روپیہ کٹتا ہے۔
مہنگائی کے دور میں ایک ’لائف ہیک‘
ان ایپس کو استعمال کرنے والے کئی کوریائی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس فرضی شاپنگ کا تجربہ اصلی آرڈر سے اس قدر مماثلت رکھتا ہے کہ اس سے دماغ کو وہی سنسنی، انتظار کا لطف اور ڈوپامائن کا جھٹکا ملتا ہ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں خریدا۔
جنوبی کوریا کے نوجوانوں کے لیے یہ ڈوپامائن سائٹس بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشتہارات کی بھرمار کے اس دور میں ایک بہترین ’لائف ہیک‘ بن چکی ہیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے پیسے بچ جاتے ہیں جبکہ شاپنگ کی لت سے ملنے والا نفسیاتی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
کیا یہ ٹرینڈ دنیا بھر میں پھیل سکے گا؟
فی الحال یہ ڈوپامائن سائٹس صرف جنوبی کوریا تک ہی محدود ہیں۔ ’ریڈٹ‘ جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید مغربی ممالک میں اس ٹرینڈ کو پذیرائی نہ ملے۔ وہاں کے صارفین اسے محض ’وقت کا ضیاع‘ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات نے اس حوالے سے خبردار بھی کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سائٹس عارضی طور پر پیسے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں لیکن یہ انسان کے اندر شاپنگ کی اسی لت والے رویے کو مزید پختہ کرتی ہیں، چاہے اس عمل میں پیسے خرچ ہو رہے ہوں یا نہیں۔












