پودوں کا گرمی سے بچاؤ کا نیا طریقہ دریافت، کنگ عبداللہ یونیورسٹی کی تحقیق
پودے شدید گرمی کے دوران فوٹوسنتھیسز کے عمل کی حفاظت کرتے ہیں (فائل فوٹو)
کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ کار دریافت کیا ہے جس کی مدد سے پودے شدید گرمی کے دوران فوٹوسنتھیسز (ضیائی تالیف) کے عمل کی حفاظت کرتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ اہم دریافت سعودی عرب جیسے گرم اور خشک موسم والے علاقوں کے لیے ایسی فصلیں تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو شدید گرمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
مونیکا چوڈاسیویز کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب پودوں کو شدید گرمی کا سامنا ہوتا ہے تو ان کے اندر کلوروفل بنانے والا پروٹین پودوں کے اندر کلوروپلاسٹ میں عارضی ساخت بنا لیتا ہے۔
یہ عارضی ساخت کلوروپلاسٹ سٹریس گرینولز کہلاتی ہے اور یہ پودے کی سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بحال کرتی ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جرنل پلانٹ فزیولوجی میں شائع ہو چکی ہے۔
محققین کہتے ہیں کہ پروٹوکلوروفیلائڈ آکسیڈوریڈکٹیز نامی پروٹین شدید گرمی کو محسوس کرتے ہی سست جین ایکٹیویشن پروسیس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا رویہ اور جگہ تبدیل کر لیتا ہے۔
کاؤسٹ میں پلانٹ سائنس کی اسسٹنٹ پروفیسر چوڈاسیویز کہتی ہیں کہ ’یہ اہم بات ہے کیونکہ گرمی پودوں کی پروڈکٹیویٹی کے لیے ایک اہم خطرہ ہے اور فوٹوسنتھسیز کو محفوظ رکھنا پودوں کی پیداوار اور فصلوں کی نشونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘
ٹیم نے دیکھا کہ جن پودوں میں پروٹین کم تھی وہ گرمی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ جن میں پروٹین موجود تھی انہوں نے گرمی کا مقابلہ کر لیا۔

چوڈاسیویز کہتی ہیں کہ محققین اس بات پر حیران تھے کہ گرمی کے دوران پودوں نے نئے جینز بنانے کے بجائے پہلے سے موجود پروٹینز کو ہی دوبارہ ترتیب دیا۔
اس تحقیق کا موضوع عریبیڈوپسسز تھالیانا پر تھا جو ایسا ماڈل پودا ہے جسے مسٹرڈ فیملی میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
محققین نے کہا کہ اگلے مرحلے میں یہ جانچا جائے گا کہ کیا اسی طرح کے حفاظتی طریقہ کار دوسری فصلوں میں بھی موجود ہیں اور کیا ان سے متعلق پروٹینز کو پودوں کی نشوونما کو نقصان پہنچائے بغیر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر بارانی علاقوں کو زراعت کے میدان میں مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجنز کا سامنا ہے جن میں شدید گرمی، پانی کی کمی اور مٹی میں نمکیات کا بڑھ جانا شامل ہے۔ یہ تمام عناصر فوٹوسنتھسیز اور فصلوں کی پیداوار کو کم کرتے ہیں۔

محققین کہتے ہیں کہ یہ دریافت مستقبل میں فصلوں کی پیداوار اور بائیوٹیکنالوجی کی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے جن کا مقصد فوڈ سکیورٹی کو بہتر کرنا اور سخت موسموں میں مقابلہ کرنا ہے۔
